ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں عرض کروں دوسروں سے تو میں کیا خدمت لے سکتا ہوں اور کسی کوکیا ستا سکتا ہوں میں نے تو اپنے تنخواہ دارملازموں تک سے کہ رکھا ہے کہ جوکام نہ کرسکو صاف کہدو کہ ہم نہیں کرسکتے مجھ کو اس پرکوئی ناگواری نہ ہوگی چنانچہ بعضے کام سے وہ بے تکلف انکارکردیتے ہیں جس سے مجھ کو بحمداللہ کوئی ناگواری نہیں ہوتی تو جس شخص کا اپنے تنخواہ دار ملازموں کے ساتھ یہ برتاؤ ہو وہ دوسروں سے تو کیا کام اورخدمت لے سکتا ہے اسی لئے میں قریب قریب سب کام اپنے ہاتھ سے کرتا ہوں مجھ کو اس کا بے حد خیال رہتا ہے کہ کسی کو میری وجہ سے تکلیف نہ ہو ۔
