( ملفوظ 541)تقلید شخصی کی ضروری ہونے کی وجہ

ارشاد فرمایا کہ قنوج میں ایک سب رجسٹرار ملے ـ ان کو تقلید شخصی اور طریق تصوف کے متعلق اس قسم کا تردد تھا کہ ان کو کسی تقریر تحریر سے شفا نہیں ہوتی تھی ـ انہوں نے وہ شبہات میرے سامنے پیش کئے ـ میں نے ان کو جواب دیا کہ اس سے بفضلہ تعالی ان کی بالکل تسلی ہو گئی ـ طریق تصوف کے متعلق ان کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ اشغال اور قیود کو تصوف سمجھے ہوئے تھے اور چونکہ وہ کتاب و سنت میں وارد نہیں ـ اس لئے تصوف کو بے اصل سمجھتے تھے ـ ان کو تصوف کی حقیقت سمجھا کر یہ سمجھایا کہ یہ قیود امور زائد ہیں کہ مصلحتا ان کو علاج کیطور پر برتا جاتا ہے ـ اس سمجھانے سے ان کی تسلی ہوگئی ـ اور تقلید کے بارے میں اس وقت ان سے وجوب اور عدم وجوب تقلید پر بحث نہیں کی گئی ـ صرف ان کو ایک مصلحت تقلید کی بتلائی ـ جس سے اس امر میں بھی ان کا پورا اطمنان ہو گیا ـ وہ مصلحت یہ تھی کہ پہلے زمانہ میں جبکہ تقلید شخصی شائع نہ تھی اتباع ہوا ( خواہش نفسانی ) کا غلبہ نہ تھا ـ اس لئے ان لوگوں کو عدم تقلید مضر نہ تھی بلکہ نافع تھی کہ عمل احتیاط کی بات کرتے تھے ـ بعد اس کے ہم لوگوں میں غلبہ اتباع ہوا کا ہو گیا ـ طبیعت ہر حکم میں اپنی نفسانی غرض کی موافقت کو تلاش کرنے لگی ـ اس لئے عدم تقلید میں بالکل اتباع نفس و ہوا نفس و ہوا کا رہ جائے گا جو کہ شریعت میں سخت مذموم ہے ـ سو تقلید مذہب معین اس مرض اتباع ہوا کا علاج ہے ـ