ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آپ دیکھ لیجۓ مجھے بد نام کیا جاتا ہے جن صاحب کو مسجد میں بیٹھ جانے کو میں نے کہا تھا مکرر سہ کرر تنبیہ پر بھی اپنی اس حرکت سے باز نہیں آۓ دیکھۓ انصاف کیجۓ جب ایک بات تصریحا بتلا دیا گیا پھر اس میں کس طرح معذور سمجھا جائے یہ قصد تو نہیں ہوتا کہ تکلیف ہو مگر اس کا بھی قصد نہیں ہوتا کہ تکلیف نہ ہو اس کا سبب بے فکری ہے میں یہ بھی تاویل نہیں کر سکتا کہ میرے کلام کو بوجہ تنگ یا ادق ہونے کے سمجھ نہیں سکتے کیونکہ میں تقریر میں بہت مبسوط الکلام ہوں البتہ تحریر میری تنگ ہوتی ہے اسلئے کہ اہل علم مخاطب ہوتے ہیں تقریر میں نہایت بسط ہوتا ہے بہت ہی کھلی ہوئی ہوتی ہے تنگی نہیں ہوتی کہ دوسرا سمجھ نہ سکے مگر بات یہ ہے اجزاء کلام کی طرف توجہ نہیں کرتے بس یہ ہے ساری خرابی ۔
