ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تقوی اسی وقت کامل ہو گا کہ جب اس کے خلاف کے مقتضی اسباب ہوں اور پھر ان کو دبائے مثلا شہوت ہے اگر کوئی عنین ہو اور فجور سے بچے تو اس کو تقوی کا وہ خاص نور میسر نہ ہو گا جو ایسے شخص کو میسر ہو گا جو مرد ہو اور پھر اس سے اجتناب کرے عارف رومی فرماتے ہیں
شہوت دنیا مثال گلفن است کہ از و حمال تقوی روشن است
( دنیا کی شہوت مثل بھٹی ہے کہ جس سے تقوی کا حمام گرم ہوتا ہے ۔ 12 )
مثلا اگر کوئی عنین کہے کہ میں برا کام نہیں کرتا یا اندھا کہے کہ میں کبھی بدنگاہی نہیں کرتا تو کون سا کمال ہے جیسے مثلا یہ سامنے والی دیوار کہے کہ میں چوری نہیں کرتی تو کیا کمال ہوا ہاں اسباب ہوں اور اور پھر اجتناب ہو یہ ہے مجاہدہ جس سے لوگ گھبراتے ہیں یوں نہیں سمجھتے کہ انسان دنیا میں آسانی کے لئے تو نہیں آیا ارشاد فرماتے ہیں لقد خلقنا الانسان فی کبد کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے مگر اس مشقت کے سہل ہونے کے لئے ارادہ اور ہمت بھی ساتھ ساتھ پیدا فرما دی ہے اسی لئے یہ چاہئے کہ خواہ کیسی ہی کوئی مشکل آ پڑے صبر و استقلال کے ساتھ اس کو نکال دیا جاوے بس یہی جوہر انسانی ہے اسی استقلال کی مداومت اور استحضار سے بڑے بڑے رذائل اور جبلی چیزیں دب جاتی ہیں اور بڑے بڑے مشکل کام آسان ہو جاتے ہیں ۔
