ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ حالت جوش میں ترک اسباب کی طرف بہت جلد راغب ہو جاتے ہیں حالانکہ وہ ایک کیفیت ہوتی ہے جس کے زوال کے بعد اندیشہ پریشانی کا ہے اسی واسطے بزرگوں نے منع کیا ہے اس میں جلدی نہ کرنی چاہیئے کیا معلوم کہ وہ حالت راسخہ ہے یا نہیں الہ آباد میں ایک شخص تھے وہ اپنی ملک سے کتابیں نکالنا چاہتے تھے ان حضرت کو میں نے منع کیا اس وقت ان پر ایک حالت تھی جو چند روز میں فرد ہوگئی اس وقت وہ میری رائے کے ممنون ہوئے ـ ایسی حالت کا کیا اعتبار خود مجھ پر ایک حالت آئی جس میں موت کو ترجیح دیتا تھا زندگی پر جسکا سبب ایک اور بزرگ کی تعلیم پر عمل تھا میں نے حضرت کو لکھا حضرت کا جواب آیا کہ جب تک یہ خادم تمہارا زندہ ہے کیوں کسی طرف توجہ کرتے ہو اطمنان سے کام میں لگے رہو ـ
