ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں تو ایک مرتبہ لکھنو میں بیان کے اندر کہا تھا کہ اس میں بڑے بڑے بیرسٹر اور وکلا جمع تھے کہ ہر ترقی کو تو آپ بھی محمود نہیں کہہ سکتے جیسے ورم کی ترقی ہے اسکا طبیب اور ڈاکٹر سے کیوں علاج کراتے ہو حالنکہ کچھ ترقی ہی ہوئی تنزل تو نہیں ہوا تو جو درجہ آپ کے یہاں ورم ( بالواد ) کا ہے وہی درجہ ہمارے یہاں بعض حالات میں درم الدال کا ہے اس وقت لوگوں کو ترقی کی حقیقت معلوم ہوئی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو نہ تو علم دین ہے اور نہ اہل علم کی صحبت اکبر الہ آبادی نے صحبت کے باب میں خوب کہا ہے ـ
انہوں نے دین کب سیکھا ہے وہ کر شیخ کے گھر میں پلے کالج کےچکر میں مرے صاحب کے دفتر میں
پھر فرمایا کہ لوگ کسی ترقی یافتہ کے اسباب ظاہرہ کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ فلاں نے اس صورت سے ترقی کی حالانکہ یہاں علاوہ اسباب کے ایک دوسری چیز اور ہے وہ ہے اصل علت ترقی کی اسکو نہیں دیکھتے اور وہ مشیت حق ہے ورنہ اسکی کیا وجہ کہ ایک شخص نے مال تجارت لا کر الماریوں میں لگا کر اعلان کر دیا ـ یہ تو اسکا اختیای فعل تھا مگر آگے خریداروں کی رغبت یہ تو اسکے اختیار میں نہیں محض مشیت پر ہے چناچہ دو دوکانیں پاس پاس ہوتی ہیں ایک پر خریدار آتے ہیں ایک پر نہیں آتے تو یہ کس کے قبضہ میں ہے جن اسباب سے ایک نے ترقی کی ہے امتحانا دوسرے کو دیکھ کر لو وہ بھی ایسی ہی ترقی کر سکتا ہے یا نہیں ـ
26 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر کیوم پنجشنبہ
