( ملفوظ 414 ) طریق عشق اور طریق اعمال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب بزرگوں سے عقیدت نہیں تو نفع کیا خاک ہو گا اب تو ہوا پرستوں اور باطل پرستوں سے عقیدت ہوتی ہے جو شعبدے بازی دکھلا دیتے ہیں مگر ہمارے بزرگ ایسی باتوں کو پسند نہ فرماتے تھے یہی ضرر مجھ کو محبوب ہے ۔
پھر فرمایا کہ ایک طریق عشق ہے اور ایک طریق اعمال ہے اور اعمال دونوں میں ہوتے ہیں مگر اول میں اعمال باطنی کا غلبہ ہوتا ہے اور دوسرے میں اعمال ظاہرہ کا ۔ اور ایسے شخص کو قلندر کہتے ہیں جس کے اعمال ظاہری سے اعمال باطنی زیادہ ہوں مگر آج کل نہ ظاہر کو دیکھتے ہیں نہ باطن کو ۔ بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ شریعت یعنی احکام الہیہ سے اس شخص کو کس قدر بعد اور دوری ہے جس قدر بعد ہوتا ہے اسی قدر اس کو کامل اور پہنچا ہوا سمجھا جاتا ہے لیکن ایسوں کی گذر یہاں کہاں یہاں نہ شعبدہ ہے نہ کرامت نہ کشف نہ کیفیات بلکہ اس کا عکس ہے کہ قدم قدم پر روک ٹوک محاسبہ معاقبہ مواخذہ مطالبہ کہیں ریا کا علاج بتایا جاتا ہے کہیں حسد کا کہیں کہیں جاہ کا کہیں تکبر کا تو بھلا اس سے کیا جی خوش ہو کہیں خود رائی کو منع کرتے ہیں کہ اپنی رائے پر عمل نہ کرو اور مزید برآں یہ کہ اگر اپنے سے تعلق رکھنا بوجہ عدم مناسبت کے نافع ثابت نہیں ہوتا تو کسی دوسرے مصلح کا پتہ بتلا دیتا ہوں تو ایسے شخص سے تعلق ہی کیوں رکھئے جو اتنے بکھیڑے سر پڑیں اور جب مبادی ہی میں میری تمہاری رائے میں فرق ہے تو مقاصد میں کیسے اجتماع ہو سکتا ہے ۔