ملقب بہ طریق الاصلاح ) فرمایا ک ایک مولوی صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میرے کاموں میں نظم نہیں ہے ( یعنی انتظام نہیں ) میں نے لکھ دیا کہ نثر یعنی پراگندی کی وجہ سے مشقت زیادہ ہوتی ہے جس پرزیادہ ثواب کی امید ہے پھر فرمایا کہ نظم اور نثر میں کیا رکھا ہے آدمی کو کام کرنا چاہئے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ سے ایک شخص نے شکایت کی کہ مجھ سے دوام نہیں ہوتا عجیب جواب فرمایا کہ یہ بھی ایک قسم کا دوام ہے کہ کبھی ہوگیا اور کبھی نہیں اس مجموعہ پرتودوام ہے مگر اس پر ایک طالبعلمانہ شبہ ہوتا ہے وہ یہ کہ جودوام مطلوب ہے ، وہ یہ تو نہیں اس کا جواب یہ ہے تحقیقی نہیں معالجہ کبھی غیرت حقیقت سے بھی ہوتا ہے اور اس کو طبیب ہی سمجھ سکتا ہے کہ مریض کے لئے کونسی تدبیر نافع ہوگی اور ہرشخص کے لئے جدا تدبیر ہوتی ہے معالج مریض کی خصوصیت طبیعت سے سمجھ گئےکہ اس کا علاج اس عنوان سے ہوجاوے گا اوراس مجموعہ کو دوام کہہ دینے سے دوام مطلوب بھی میسر ہوجائےگا یہ ایک طریق ہے طالب کولے کرچلنے کا تاکہ ہمت نہ ہارجائے اوریہ سب باتیں مصلح ہی سمجھ سکتاہے اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ اس فن کی مثال بالکل طب نفع ہوجاتا ہے گواس کا مضمون متحقق نہ ہو یہ مسئلہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضورﷺ نے بھی بہت جگہ عنوان سے کام لیا ہے معنون سے قطع نظرکرکے چنانچہ عبداللہ بن ابی کے جنازہ پرنماز پڑھنے کے وقت حضرت عمر نے یہ آیت پیش کرکے شبہ کیا ہے ، استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفراللہ لھم ( آپ خواہ ان کے لئے استغفار کریں یا ان کےلئے استغفار نہ کریں اگرآپ ان کے لئے ستر بار بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ تعالٰی ان کو نہ بخشے گا ۔12) آپ نے ارشاد فرمایا خیرنی فاخترت اور فرمایا سازید علی السبعین ( مجھ کو اختیار دیا گیا ہے لہذا ایک مشق کو میں نے اختیار کرلیا ) حضور نے یہاں پر محض الفاظ سے تمسک کیا اورمعنی کی طرف التفات نہیں فرمایا بلکہ فرط رحمت کی وجہ سے صرف الفاظ سے تمسک کیا اس سے معلوم ہوا کہ بعض دفعہ مصلحت دینیہ سے محض عنوانات سے کام لینا بھی سنت سے ثابت ہے خلاصہ یہ ہے کہ عنوان کو بعض آثار میں بڑا دخل ہوتا ہے اس کی تائید میں ایک قصہ بیان کرتا ہوں میں ایک مرتبہ سخت بیمارہوگیا ایک طبیب کے پاس قارورہ بھیجا قارورہ دیکھ قارورہ لے جانے والا سے کہا کہ یہ شخص زندہ کیسے ہے اس کی حرارت عزیزیہ توبالکل ختم ہوگئی ہے اس نے آکر مجھ سے کہا مجھ بہت بڑا اثر ہوا میں نے اس سے کا یہ کیا بیہودگی ہے تم نے مجھ سے کیوں کہا اس نے غلطی ہوگئی میں نے کا اس کا تدارک بتاؤ اس نے تدارک پوچھا میں نے کہا واپس جاؤ اور آکر مجھ سے یوں کہو کہ حکیم صاحب نے کہا ہے کہ اس وقت میں نے غور نہیں کیا تھا اچھا خاصہ قارورہ ہے وہ واپس گیا اور آکر میرا سکھایا ہوا مضمون مجھ سے نقل میں نے ہی سکھا کر بھیجا ہے اور میرا ہی مضمون مجھ سے نقل کیا ہے تویہ عنوان ہی کا اثر تھا جو معنون سے بالکل خالی تھا اور ایک واقعہ اس کی تائید میں یاد آیا ۔ ریاست رام پورمیں ایک درویش تھے ان پرایک قبض کا حال طاری ہوا اس سے وہ اپنے کو یون سمجھنے لگے کہ توشیطان ہے اور تومردود ہوچکا اس حالت میں وہ درویش ایک مولوی صاحب کے پاس آئے یہ مولوی صاحب شیخ بھی تھے مولوی صاحب اس وقت درس میں مشغول تھے دریافت کیا کو ن کہا کہ شیطان مولوی صاحب نے بلاکیس خیال کے لاحول ولاقوۃ الا بااللہ العلی العظیم پڑھ دیا یہ سن کروہ دریش چل دیئے اور اپنے حجرہ پرپہنچ کر مرید سے کہا کہ میں مردود ہوں شیطان ہوں میں اپنے کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہوں اور صورت یہ ہے کہ میں اپنی گردن الگ کرتا ہوں اگر کچھ کھال الجھی رہ جائے اس کو تو الگ دینا اور اس کے بعد درویش خودکشی کرکے ختم ہوگئے ، ایک مولوی مظہر تھے جوموجز میں میرے ہم سبق تھے انہوں نے یہ واقعہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں بیان کیا حضرت مولانا نے سن کر فرمایا کہ ہم تو ان مولوی صاحب سمجھتے تھے مگر معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں اگرمیرے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تومیں کہا کہ پھر گھبرانے کی کیا بات ہے شیطان ہی ہوتو کیا ہے شیطان بھی تو انہیں کا ہے تو نسبت تو اب بھی قطع نہیں ہوئی تو اس سے قبض ختم ہوجاتا اس میں یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ نسبت جو شیطان کو حاصل ہے کیسی ہے بظاہر ہے کہ تکوینی ہے جو کہ مطلوب نہیں اور وہ نسبت رضا کی نہیں جو کہ مطلوب ہے تواس سے قبض کیسے رفع ہوجاتا ہے تو اس کا حل بھی یہی ہے کہ مولانا کو بصیرت سے معلوم ہوگیا کہ اس عنوان ہی سے علاج ہوجاتا اس ہی لئے اس طریق میں شیخ کامل کی ضروت ہے یہ شان ہمارے حضرات کی تھی بڑے بڑے مایوس العلاج کامیاب ہوکر نکلتے تھے یہ حضرات حکیم تھے اس عنوان پرایک حکایت یاد آئی ایک بادشاہ نے خواب دیکھا کہ میرے سب دانت ٹوٹ گئے کسی معبر کو بلا کرتعبیر دی کہ آپ کا سب خاندان آپ کے سامنے مرجائےگا بادشاہ یہ سن کر برہم ہوا اور معبرکو نکلوادیا اسکے بعد ایک دوسرے معبر کوبلوایا اورخواب بیان کیا تعبیر چاہی انہوں نے ی تعبیردی کہ آپ کی عمر آپ کے سب خاندان سے بڑی ہوگی اس پر بادشاہ خوش ہوا اور یہ کہا کہ بات وہی ہے صرف عنوان کا فرق ہے مگر اس سے طبیعت پرکوئی گرانی نہیں ہوئی اور اس کو خلعت دے کر نہایت عزم واحترام سے رخصت کیا اسی پرایک تفریح کرتا ہوں اگر کسی لڑکے کو کہئے اومرغی ک بچے آگ ہوجائے گا برہمی پیدا ہوجائے گی اور اگریوں کہا جائے کہ او چوزہ خوش ہوجائے گا حالانکہ مرغی کے بچے ہی کو چوزہ کہتے ہیں اور مثال لیجئے ایک عورت کوئیں پر پانی بھررہی ہے تین مسافر آ پہنچے ان میں سے ایک شخص پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ اماں پانی پلادو پانی پلائیگی دعائیں دیگی دوسرا شخص آتا ہے میرے باپ کی جورو پانی پلادے تو گالیاں سنائے گی تیسرے نے کہا اے وہ عورت جومیرے باپ سے ایسا کراتی ہے پانی پلادے یہ سن کراتنا غصہ آوے گا کہ اگر قدرت ہوتو قتل کردے حالانکہ اماں اور باپ کی جورو اورمیرے باپ سے ایساویسا کرانے والی سب کے ایک ہی معنی ہیں صرف عنوان کا فرق ہے پس جولوگ نرے الفاظ پرست ہیں اور حقائق کو نہیں جانتے انکو ان چیزوں کی کیا خبر وہ بجز بزرگوں پراعتراض کرنے کے کیا سمجھ سکتے ہیں ان باتوں کے سمجھنے کے لئے بڑے فہم کی ضرورت ہے اور یہ نصیب ہوتا ہے کسی کی صحبت میں رہنے سے اور اسی کا آج کل قحط ہے حق تعالیٰ فہم سلیم عطاء فرمائیں ۔
