ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ طریق اصلاح ہے جنم روگ ہے عمر بھر یہ ہی سلسلہ رہتا ہے مگرلوگ یہاں آرام چاہتے ہیں کہ دنیاہی میں جنت ہوجائے یہاں تومشقت مثل لازم کے ہے اور جس قدر ہوگی اتنا ہی اجربھی بڑھے گا وہ مشقت یہ ہے کہ ہرقدم پرنفس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے یہ نہ ہوتو بھرانسان کا کمال ہی کیا ہوگا یعنی شرکا جوداعیہ طبعی ہوتا ہے اس کی مخالفت کرنا اوراس عقل سے مغلوب کرنا یہی مجاہدہ اور مشقت ہے باقی محض حدیث النفس کوئی چیز نہیں جب تک اس کے اقتضاء پرعمل ہہو عقل کاکام صرف منفعت کودکھلانا ہے پھر اس کے بعد اگر اتباع کیا طبیعت کا تویہ شخص حیوان ہے اور اگر اتباع کیا عقل کا تو انسان ہے مگر خود عقل کے اتباع کےبھی حدود ہیں ورنہ حدود سے آگے غلوکرنے سے یہ عقل خود سبب ہوجاتی ہے غلبہ حیوانیت کی اس لئے جوچیز حدسے گزجاتی ہے اس کی حقیقت اس کی خاصیت سب بدل جاتےہیں اب ایک بات اوررہ گئی ہے وہ یہ کہ نفس کے لئے بعض اوقات لوگوں کوملامت مانع عمل ہوجاتی ہے مگرحقیقت یہ ہےکہ یہ طعن وتشیع خود موجب اجرہیں اس کے ہوتے ہوئے تومجاہدات اورریاضیات میں زیادہ برکت اور نورانیت پیداہوتی ہے یہ بدنی مجاہدات سے بھی زیادہ مجاہدہ ہے غرض یہ تمام موانع ہیں نفس کو بچہ کی طرح بہلانا اورسمجھانا چاہے یہ اس وقت کام دیتا ہے اس بہلانے پر ایک بزرگ کی حکایت یاد آئی کہ وہ شب کوایک رکابی پلاؤ کھلاؤں گا تمام شب اسی طرح عبادت میں گذر جاتی اور صبح کو وہ رکابی پلاؤ کی بدستور موجود رہتی مگر یہ بھی ان ہی حضرات سے نفس تھے جوروزانہ بہلانے میں آجاتے تھے اب توکوئی کرکے دیکھے ایک دن تونفس مان لے گا یا زائد سے زائد دودن پھرتیسرے روز قبضہ میں آنا مشکل ہوگا یوں کہے گا کہ بس تمہارے وعدوں کا تجربہ کرچکا اب قابو نہ آوں گا سواب ایسا بھی کرنا نہ چاہئے کام بھی نکال لے اور حسب وعدہ اسکو کھلابھی دے خلاصہ یہ ک نفس کو راہ پرلانے کی مختلف تدبیریں ہیں جوتبدل حالات سے بدلتی رہتی ہیں جس طرح ہوسکے کام نکالناچاہئے ۔
