ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق کا ادب لوگوں کو معلوم نہیں اب تو ادب تکلفات کا نام ہے ہاتھ چوم لئے پچھلے پیروں ہٹ گئے سرجھکا کرکھڑے کوگئے مگر طریق کا یہ ادب نہیں طریق کا اصل ادب یہ ہے کہ جس سے دین کا تعلق رکھنا چاہئے اس کوتکلیف نہ پہنچائے یہ اس طریق میں ادب کا ادنی درجہ ہے اور اب تواب توادب تعظیم کا نام ہے ۔
