ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ طریق بہت ہی سہل ہے مجھ جیسے نادان آدمی نے جب اس کو سمجھ لیا پھر کیا مشکل رہا اب میں اس کوسہل عنوان سے سمجھاتا ہوں کہ اس طریق کا حاصل نفس کا تزکیہ ہے اور جس چیز سے تزکیہ کیا جاتا ہے وہ دو چیزیں ہیں شہوت اور کبر اوران کا علاج کامل کی صحبت ہے کیونکہ وہ اس کنارے سے اس کنارے لے جاکر کھڑا کردیتا ہے طالب کاکام صرف یہ ہے کہ اپنے کو اس کے سپرد کرکے وہ جوتعلیم کرے اس کو بجالائے اس میں سر موفوق نہ کرے اسی کو مولانا فرماتے ہیں:
قال رابگذار مرد حال شو ٭ پیش مردے کاملے پا مال شو
آج کل خرابیاں پیدا ہورہی ہیں یہ ساریاں خود رائی کی ہیں خودرائی بڑی ہی مضر چیز ہے فرماتے ہیں
فکرورائے خود ودر عالم رندی نیست ٭ کفرست دریں مذہب خود بینی وخود رائی ( اپنی رائے اور فکر عالم رندی میں بلکل چھوڑنے ضروری ہیں خود بینی اورخود رائی اس راہ میں مثل کفر کے ہیں )
