فرمایا کہ اس طریق سے عدم مناسبت اور حقیقت سے بے خبری یہاں تک ہو گئی ہے کہ ایک صاحب مجھ سے خود اپنی حالت بیان کرتے تھے کہ میں ذکر و شغل کی حالت میں کبائر میں مبتلا تھا اور اس کو طریق کے لئے مضر نہ سمجھتا تھا کیا ٹھکانہ ہے اس جہل کا اس لئے سخت ضرورت ہے شیخ کامل کی تعلیم کی اور اس کی صحبت کی وہ اس طریق کا واقف ہے وہ اس راہ سے گذر چکا ہے اور یہ تعلیم تدریجا حالات کے پیش آنے پر ہوتی رہتی ہے اس لئے طالب کو مدت طویل تک استفادہ کے لئے آمادہ رہنا چاہئے واقعات مستقبلہ محتملہ کی ایک دم سے تحقیق نہ کرے کیونکہ شیخ بھی ایک جلسہ میں ایک تقریر میں سب اجزاء کے بیان کرنے پر قادر نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا تعلق وقوع کی خصوصیات سے ہے جیسے طبیب کی تقریر متعدد تغیرات کے کل نسخے اور مرض کے کل اسباب ایک ہی جلسہ میں بیان نہیں ہوتے ۔ مثلا کبر کے اسباب مختلف ہیں اس کے علاج بھی مختلف ہیں اب یہ تشخیص کہ کبر ہے یا نہیں اور اگر ہے تو اس کا سبب کیا ہے یہ سب کچھ وقت پر شیخ ہی سمجھ سکتا ہے تو پہلے سے کلیات معلوم کرنے سے وقت پر انطباق کون کرے گا یہ ہی وجہ ہے کہ میں کہا کرتا ہوں کہ چندے شیخ کے پاس رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ وقت وقت پر حالت بدلتی رہتی ہے جیسے مریض کو طبیب کے پاس رہ کر علاج کرانے کی ضرورت ہے ۔
بالکل اسی طرح مرید کو شیخ کے پاس رہ کر علاج کرانے کی ضرورت ہے اور یہ بالکل موٹی بات ہے جس کو میں بیان کر رہا ہوں کوئی باریک بات نہیں کہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے غرض پاس رہ کر کام کرنے سے بڑی سہولت سے شیخ اس گھاٹی سے نکال کر لے جائے گا ۔ لیکن یہ نہ سمجھ لیا جاوے کہ سب کچھ شیخ ہی کرے گا وہ تو تدابیر کہلائے گا اور سہولت سے یہ ہی مراد ہے کہ طالب پر فکر کا بوجھ نہیں پڑے گا ۔ سب تدبیریں وہی بتلائے دے گا مگر اس تعلیم میں گو شیخ اس کی ہر ممکن رعایت کرے گا مگر اس کے تابع نہ ہو گا اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص نماز پڑھنا چاہتا ہے اور اس کو نماز نہیں آتی وہ کہتا ہے کہ مجھ کو نماز پڑھا دو تو اس سے کہا جائے گا کہ بھائی پہلے وضو کرو یا عذر ہو تو تیمم کرو تب نماز پڑھ سکتے ہو اس پر بجائے اس کے کہ اس کا تابع ہو اس کو اپنا تابع بنا کر وہ احمق یہ کہے کہ میرا مطلوب اور مقصود تو نماز ہے وضو یا تیمم تو میں نہیں کر سکتا ۔
اب بتلائیے نماز کیا خاک ہو گئی ہر کام طریق سے ہوتا ہے اب وہ وضو کی تنگی خیال کرے اور مقصود سے بے تعلق خیال کرے تو اس وقت یہ جواب دیا جاوے گا کہ جہاں بدوں وضو نماز پڑھائی جاتی ہو وہاں جا کر پڑھ لو ہم تو بے وضو نماز نہیں پڑھا سکتے غرض اس کا علاج شیخ کے پاس بھی نہیں کہ وہ خود کچھ نہ کرے اور اگر کرے تو اپنی رائے کو دخل دے یا جو طریق ہے کام کا اس سے اعراض کرے اور شیخ کی تعلیم کو تنگی پر محمول کرے ۔
ایک حکایت یاد آ گئی اس تنگی پر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ گنج مراد آبادی سے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت حنیفہ کا جو مذہب ہے مفقود الخبر کے متعلق اس میں حرج ہے حلانکہ ما جعل علیکم فی الدین من حرج ( اور تم پر دین میں کسی قسم کی تنگی نہیں کی ) فرمایا گیا ہے فرمایا ہاں جی واقعی اس میں بڑی حرج ہے اور جہاد میں اس سے بھی زیادہ حرج ہے جان دینی پڑتی ہے ۔ اس کو بھی دین سے خارج کرو ۔ فرمایا مولانا نے خوب ہی جواب فرمایا واقعی اگر ایسا ہے تو پھر تو کوئی چیز بھی اس حرج سے خالی نہ ملے گی ۔ پھر بے خبری پر فرمایا کہ ایک حکایت بیان کرتا ہوں اس سے بے خبری کا اندازہ ہو جائے گا کہ اس طریق کی تو کیا خبر ہوتی یہ تو پھر کسی قدر غامض ہے بعضے لوگ ایسی ضروری اور واضح چیزوں سے بے خبر ہیں جن کا تعلق عقائد اور ایمان سے ہے الہ آباد میں ایک بیرسٹر تھے مولوی کے لقب سے مشہور تھے انہوں نے مولانا محمد حسین صاحب الہ آبادی سے کہا کہ اب تو مسلمانوں کو سود لینے کی ضرورت ہے علماء کو چاہئے کہ اب اس کی اجازت دے دیں اس پر مولانا نے کہا کہ سود کو تو خود اللہ تعالی نے حرام فرمایا ہے علماء کو حلال کرنے کا کیا اختیار ہے اور ان کو وہ آیت تحریم کی پڑھ کر سنائی گئی بے چارے چونک اٹھے اور دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ پیٹا کہ توبہ توبہ اور یہ کہا کہ خدا کی قسم مجھے معلوم نہیں تھا کہ سود کو خدا تعالی نے حرام فرمایا ہے میں تو یہ سمجھتا تھا کہ مولویوں نے یہ مسئلہ گھڑ رکھا ہے یہی اس کو بدل بھی سکتے ہیں ۔ حضرت یہ حالت ہے دینی معلومات کی ۔ کہ بیرسٹر تھے اور یہ خبر نہ تھی کہ یہ دین کا حکم ہے یا مولویوں نے اپنے گھر سے مسئلہ بنا رکھا ہے ۔
27 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ
