( ملفوظ 298)تصوف کا عطر ، خوف ، رجا اور محبت ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے حضرت خوجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ دیکھا ہے جو عطر ہے ـ تمام طریق کار میں اس کو اس لئے بیان کرتا ہوں کہ اس سے میرے دوست کام لیں وہ فرماتے ہیں کہ آدمی تین چیزیں اختیار کر لے ـ بس کافی ہیں ـ ایک خوف اور دوسری رجاء تیسری محبت یہ سب سنت کا رنگ ہے ـ خوف سے تو یہ ہوگا کہ گناہ نہ ہونگے اور رجاء سے یہ ہوگا کہ طاعت کی رغبتی ہوگی ـ اور محبت سے یہ ہوگا کہ تکلیف برداشت کرے گا اور جو امور غیر اختیاریہ ہیں ـ جیسے حوادث و مصائب وہ تو محبت کی وجہ سے برداشت کر لیگا اور جو امور اختیاریہ ہیں جیسے طاعات یا معصیت ان میں خوف اور رجاء سے کام ہو جائے گا اگر آدمی کچھ بھی نہ کرے یہ باتیں اختیار کر لے ـ بس کافی ہیں ـ خواجہ صاحب نے کیا اچھی بات فرمائی آخر بڑے ہیں ـ کسی وجہ سے تو بڑے ہیں بس یہی باتیں ہیں ـ بڑے ہونے کی میرا اس ملفوظ سے آج بڑا ہی جی خوش ہوا کیونکہ ایک ضرورت ہے گناہ سے بچنے کی اس کے لئے خوف ہے اور ایک ضرورت ہے طاعات کی ـ اس کے لئے رجاء ہے اور ایک ضرورت ہے معصیت اور تکلیف کے وقت ثابت قدم رہنے کی اس کے لئے محبت ہے مجھے تو یہ ملفوظ دیکھ کر یہ معلوم ہوا کہ جیسے بڑی دولت نصیب ہوگئی ـ