( ملفوظ 346)تعویذات کے سلسلہ میں حضرت کا واقعہ

ایک شخص نے آ کر تعویذ مانگا فلاں چیز کے لئے تعویذ کی ضرورت ہے حضرت والا نے اور کام چھوڑ کر تعویذ لکھنا شروع کیا اور فرمایا کہ چونکہ اس نے پوری بات کہی میں نے سب کام چھوڑ کر اس کا تعویذ لکھدیا میرے یہاں تو اگر کوئی اصول سے کام لے ایک منٹ کی بھی دیر نہیں ہوتی فورا کام ہو جاتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ اگر ہر قسم کے تعویذ پہلے سے لکھ کر رکھ لئے جائیں تو بڑی سہولت ہو فرمایا کہ یہ تو کبھی خیال نہیں آیا کہ لکھ کر تعویذ رکھ لئے جائیں مگر سہولت کی ایک صورت اس سے بھی زیادہ تجویز کی تھی کہ جو شخص تعورذ لینے آئے اسکو بسم اللہ لکھ کر دیدیا کرونگا نہ لوگ سوال و جواب کی گڑبڑ میں پڑیں گے نہ میں الجھونگا اسکے بعد ایک روز دو شخص آئے میں نے بدون ان سے دریافت کئے بسم اللہ لکھ کر تعویذ دیدو یا وہ لے کر چلے گئے میں اس تجویز پر بہت خوش تھا کہ یہ اچھا طریقہ ہاتھ آیا مجمع میں اس کو بیان کرنے لگا ایک صاحب نے مجھے کہا کہ کچھ خبر بھی ہے کہ کیا نتیجہ ہو اور آپس میں یہ کہتے جارہے تھے کہ ہم نے کچھ کہا بھی نہیں اور ان کو دلکی خبر ہوگئی میں نے کہا کہ یہ تو اس سے بھی بڑا مفسدہ آخر اس تجویز کو چھوڑ دیا لوگ بھی بڑے ہی حضرات ہیں ان کا کہاں تک کوئی انتظام کرے ـ