ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آنے والوں سے ان کی بیہودگیوں پرتکلیف ضرور ہوتی ہے مگر ان سے کسی منفعت کی توقع کی تکلیف نہیں ہوتی یہ توقع کی تکلیف بیہودگیوں کی تکلیف سے اشد ہے اب تو صرف یہ تکلیف اس سے ہوتی ہے کہ توقع تو اور جواب کی تھی اور ملا اور جواب مگر منفعت کی توقع کی تکلیف نہیں ہوتی ۔ خوجہ صاحب نے عرض کیا کہ یہ تو معلوم ہو ہی جاتا ہو گا قرائن سے کہ یہ اس مزاج کا آدمی ہے اور اس فہم کا فرمایا کہ معلوم ہو جانے پر بھی بیہودہ حرکت سے طبعا تکلیف ضرور ہو گی گو قصد تکلیف دینے کا نہ ہو اس کی ایسی مثال ہے کہ کسی کے سوئ چبھو دی جاۓ گو قصد نہ ہو مگر اس سے تکلیف تو ضرور ہو گی وہ تو نہیں رک سکتی اس خیال سے کہ یہ بد فہم ہے یا قصد نہیں ہے گو اس کو معزر سمجھ کر سخت مواخزہ نہ کریں گے مگر تکلیف تو ہو ہی گئ ۔
