ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھ کو توسل کی حقیقت معلوم نہ تھی ـ سوال کرنے سے بھی مقصود حاصل نہ ہوا ـ ایک روز دفعتا قلب پر اس حقیقت وارد ہوگئی اور وہ یہ کہ حدیث میں ہے ـ ” المرء مع من احب ” جب اس سے معلوم ہوا کہ مقبولین کی ساتھ محبت اور تعلق رکھنے سے رحمت خاص کا وعدہ ہے ـ پس کسی صالح سے توسل کا حاصل یہ ہوا کہ اے اللہ مجھ کو فلاں شخص سے تلبس ہے اور اس تلبس پر آپ کا رحمت خاص کا وعدہ ہے پس میں اس رحمت خاص کا سوال کرتا ہوں اور جس جگہ یہ بات سمجھ میں آئی تھی وہ جگہ بھی یاد ہے اس وقت اس قدر خوشی ہوئی تھی کہ اگر دس ہزار روپیہ بھی ملتا تو اتنی خوشی نہ ہوتی اور توسل بالاعمال می بھی ذرا تغیر الفاظ کے ساتھ یہی حقیقت ہے کہ فلاں عمل سے آپ کو محبت ہے اور اس عمل پر رحمت خاص کا وعدہ ہے ـ اور ہم کو اس عمل سے صدور کا تلبس ہے ـ اب ہم اس رحمت خاص کا سوال کرتے ہیں ـ
