فرمایا کہ آج ایک خط آیا تھا دوپہرہی جواب لکھ کرروانہ کرچکا ہوں اس میں لکھا تھا کہ ایک آسیب کا تعویذ چاہئے لیکن لفافہ پرنہ خود پتہ لکھا نہ اس پرٹکٹ چسپاں کیا اس بدفہمی کو ملا حظہ فرمایئے اب کہاں تک بیٹھا ہوا ان کی کوتاہیوں کی تاویلیں کیا کروں کوئی حد بھی ہے پتہ لکھنا اور ٹکٹ چسپاں کرنا یہ میرے ذمہ رکھا میں نے یہ لکھ دیا ہے کہ تم پرخود آسیب ہے جس نے تمہارے دماغ کو محبوط کررکھا ہے پہلے اپنا علاج کرو تمہیں ااتنی تمیز نہ ہوئی کہ جب تم لفافہ پر پتہ لکھ سکتے تھے ٹکٹ چسپاں کرسکتے تھے تو ایسا کیوں نہیں کیا جب تم نے اپنے کرنے کا کام نہیں کیا تومجھ سے کسی کام کی امید کرنا یہ کم عقلی اور ندفہمی نہیں تواور کیا ہے اس کے بعد فرمایا کہ گالیاں توبہت دیں گے خیردیا کریں آخرایسی حماقت کرتے کیوں ان بیفکروں کو ذرا حقیقت کا پتہ توچلے اور یہ تومعلوم ہوکہ جس سے خدمت کیا کرتے ہیں اس کی بھی کچھ رعایت کیا کرتے ہیں اور اس کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں ۔
