ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میری زندگی کا مدار تو استحضار ثواب پر ہے ورنہ اس قدر طبیعت کمزور واقع ہوئی ہے کہ اگر ثواب کا استحضار نہ ہو تو میں بعض حوادث کا تحمل ہرگز نہیں کر سکتا تھا ـ بس یہ اعتقاد میری زندگی ہے کہ جہاں کوئی تکلیف پہنچی فورا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس میں ثواب ہے اس سے وہ کلفت جاتی رہتی ہے اگر ثواب کا اعتقاد نہ ہوتا تو میں تو ختم ہی ہو جاتا یہ امید ثواب ایسی قوت کی چیز ہے کہ بڑی کلفت اور رنج کو سہل کر دیتی ہے اور افسوس ہے کہ اس کو آج کل معمولی چیز خیال کر رکھا ہے اور سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی چیز نہیں ـ نعوذ باللہ استغفراللہ ۔ میں کہتا ہوں کہ جس قدر مسلمانوں کے پاس سامان ہے قوت کا ان سب میں یہ ایک نہایت زبردست چیز ہے نئے تعلیم یافتہ اس پر ہنستے ہیں کہ ثواب کو لئے بیٹھے ہیں پرانے خیال کے ہیں بلکہ علماء تک نے بھی اس کی ترغیب چھوڑ دی وعظوں میں ثواب و عذاب کا ذکر ہی جاتا رہا حالانکہ قرآن و حدیث میں زیادہ یہی بھرا ہوا ہے اگر یہ کر گے ثواب ملے گا نہ کرو گے عذاب ہوگا مسلمان کے پاس اس کا کیا جواب ہے یہ خیال پھیلایا ہے آج کل کے نیچریوں نے نہایت ہی بد عقیدہ لوگ ہیں اور اکثر لیڈر اس ہی خیال کے ہیں خدا سے نڈر ہیں آج کل کے لیڈر بیدار مغز اور روشن دماغ کہلاتے ہیں نہ معلوم ان کے دماغوں میں گیس کے انڈے روشن ہیں یا بجلی سما گئی ہے حالانکہ یہ باتیں سب ظلماتی ہیں اور ان کو زیادہ تو خراب کیا ہے جب جاہ نے پرانے طریقوں کو ذلت سمجھتے ہیں ہماری عظمت اور عزت اسی میں ہے کہ ہم اپنے سلف کے طریقہ پر ان کے قدم بہ قدم چلیں ہماری صورت ہماری سیرت ہمارا لباس ہمارا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سب اسی طرز پر ہو ہم بھی دین پر عمل کریں اور دوسروں سے بھی عمل کریں ـ غرض اسی پرانے طرز کو اختار کریں دیکھئے بوڑھے آدمی کی عظمت اور عزت اسی میں ہے کہ اپنے بڑھاپے کو چھپائے نہیں اگر چھپائے گا پوڈر مل کر یا خضاب کر کے تو ایک روز حقیقت کھلے ہی گی تو پھر جیسی ذلت کا سامنا ہوگا اظہر من الشمس ہے یہ نا معقول قوم کے رہبر اور پیشوا بننے کو تیار ہوئے ہیں اور حالت یہ ہے کہ صورت سے بھی مسلمان کہلانے کے قابل نہیں اور داڑھی کے تو اس قدر دشمن ہیں کہ جس کا حد و حساب نہیں زیادہ افسوس یہ ہے کہ اعتقاد میں بھی تو اس حرکت کے استحسان کا درجہ ہے اس کو معیوب نہیں سمجھتے زیادہ شکایت تو یہی ہے کہ یہ طرز ان لوگوں نے اختیار کیا اور پھر اس کو تاویل سے اچھا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ داڑھی منڈانا تو خاص جہاد کے موقع پر بھی جائز نہیں اور یہ محض جاہلانہ خیال ہے کہ داڑھی کے ہوتے ہوئے دشمن پر ہیبت نہ ہوگی رعب نہ ہوگا بلکہ جہاد میں بھی داڑھی والے کا رعب اور ہیبت ہوتی ہے کہنے کی تو بات نہ تھی کہتے ہوئے شرم آتی ہے مگر بضرورت کہتا ہوں کہ آپ کے ملک میں آپ ہی کے دوش بدوش ایک قوم ہے سکھوں کی اس کو دیکھ لیجئے کیا وہ پولیس میں نہیں وہ جنگ پر نہیں جاتے مگر دیکھ لیجئے کہ ان کے داڑھی ہوتی ہے یا نہیں انکا ذکر اس لئے کیا کہ آخر کس طرح ان بے غیرتوں کو غیرت بھی دلاؤں اور سن لیجئے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انگریزوں کے بادشاہ کے لئے قانونا حکم ہے داڑھی رکھنے کا اسی طرح اگر عورت حکمران ہو تو اس کو چوٹی کٹانے کی ممانعت ہے یہ اس قوم کا فتوی ہے جن کے یہ کور باطن مقلد ہیں خود انگلستان اور یورپ میں اسی قانون کا بادشاہوں کے لئے نفاذ ہے سو اگر یہ ذلت کی چیز سمجھی جاتی تو وہ اس کو کب گوارا کرتے پھر وہ بھی بادشاہ کے لئے ان باتوں کو سوچ کر کچھ تو شرم آنا چاہئے اس کے بعد ہم مشتاق ہیں کہ یورپ کے فتوی سن لینے کے بعد ہمارے لیڈر صاحبان اور ان کے ہم خیال اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں اس لئے کہ اگر عزت کی بات داڑھی منڈانا ہے تو بادشاہ کیلئے بہت زیادہ ضرورت ہے عزت کی اس کا کیا جواب دیتے ہیں یہ تو مدعی ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ ایک مرتبہ حیدرآباد دکن میں ایک شخص وہابیت کے الزام میں پکڑا گیا اور دلیل یہ بیان کی گئی کہ تم کو جب دیکھو مسجد سے نکلتے ہوئے جب دیکھو قرآن پڑھتے ہوئے جب دیکھو نماز پڑھتے ہوئے ایک اور ان کے خیر خواہ شخص نے کہا کہ نہیں یہ وہابی نہیں میں نے ان کو فلاں رنڈی کے مجرے میں دیکھا تھا فلاں جگہ قوالی میں دیکھا تھا فلاں قبر کو سجدہ کرتے دیکھا تب بیچارے چھوڑے گئے اور جان بچی اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ اگر کسی میں خدا کی یاد ہے اور فرمانبرادری ہے تو مجرم قابل سزا بد عقیدہ اور اگر خدا کی نافرمانی اور مصیبتوں کا ذخیرہ ہے تو خوش عقیدہ اور قابل مدح اور پکے سنی اور حنفی انا للہ وانا الیہ راجعون مگر اب الحمدللہ یہ رنگ نہیں رہا حیدرآباد میں بمبئی کے متعلق ایک صاحب نے روایت بیان کی تھی کہ وہاں پر وہابی کی پہچان یہ ہے کہ ٹخنوں سے اونچا پاجامہ ہو گھٹنوں سے نیچا کرتہ ہو پیشانی پر سجدہ کا نشان ہو ارکان نماز کی ادائیگی میں تعجیل نہ کرتا ہو بلکہ اطمینان سے نماز کو ادا کرتا ہو یہ وہابی کی پہچان ہے سو اگر یہی باتیں ہیں تو اس کا تو کسی کے پاس بھی کوئی علاج نہیں ـ
