ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں تحریکات کا زمانہ نہایت ہی پرفتن تھا مزا حا فرمایا کہ اس لئے کہ اہل فتن کے مقلدوں کی بنیاد ڈالی ہوئی تھی ، اس میں خیراور برکت کہاں نہایت ہی زبردست فتنہ تھا دین اور دنیا دونوں کے اعتبار سے ، لوگوں کا دنیا کا تو خسارہ ہواہی مگر آخرت کے بربادکرنے میں بھی بدفہموں نے کسرنہیں رکھی ، اس ہی زمانہ میں جس وقت حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ مالٹا سے تشریف لائے تو میں بغرض زیارت دیوبند حاضرہو وہاں
ایک صاحب فرمانے لگے کہ آپ کو معلوم ہے کہ زمانہ غدر میں آپ کے بزرگ کھڑے ہوئے تھے میں نے کہا کہ جی ہاں کھڑے ہوئے تھے یہ بھی معلوم ہے اور ایک بات اور بھی معلوم ہےجو آپ کو معلوم نہیں وہ یہ کہ بیٹھ بھی گئے تھے آخری فعل حجت ہوا کرتا ہے تو منسوخ پرعمل کرو اور ہم ناسخ پرعمل کریں اب یہ بتلاؤ کہ مسنو خ پرعمل کرنے والا اپنے بزرگوں کامتبع کہلائے گا یا ناسخ پرعمل کرنے والا اوروہ منسوخ پرعمل کرنیوالے تم ہو یا ہم یہ سن کررہ گئے اس وقت لوگوں کی عجیب ہی حالت تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کوئی نشہ پی کر بے خبراورمدحوش ہوجاتا ہےکہ کسی بات کی خبر ہی نہیں رہتی یہ حالت تھی نہ حدود کی رعایت نہ اصول ک پرواہ دین اور شعائر دین کی طرف مطلق توجہ ہی نہ تھی بس ایک ہی بات کے ہوش تھے کہ جوگاندھی کی زبان سے نکل جاتا اس کو قرآن وحدیث سے ثابت کرنے اور لوگوں سے عمل کرانے پرتمام اپنی قوت صرف کردینا اپنی فلاخ اور بہبود کا باعث سمجھتے تھے یہاں تک خیالات فاسدہ کا غلبہ ہوچکا تھا کہ ایک وعظ کا جلسہ سہارنپورمیں ہوا اس جلسہ میں ایک مقرر نے بیان کیا کہ بعض لوگ کہتے یا کہ اگرسورج مل گیا تو
ہندو مسجدوں میں اذان نہ ہونے دیں گے توکیا بلااذان کے نماز نہیں ہوسکتی یا کہتے ہیں کہ گائے کی قربانی نہ ہونے دیں گے توکیا بکرے کی قربانی نہیں ہوسکتی کیا گائےکی قربانی واجب ہے ، یہ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے راہبر اورمقتدا بنے ہوئے ہیں مسلمانوں کی باگ ایسے راہزنوں کے ہاتھ میں ہے ایسے بددین بدفہم لوگ
مسلمانوں کے جہاز کے ناخدا بنے ہوئے ہیں اس مقررکے بیان میں ایک اور بات رہ گئی اگر اس کو بھی بیان کردیتاتو پھر کوئی جھگڑا ہی نہ رہتا وہ یہ کہ اگرایمان اور اسلام
پرہندوؤں نے نہ رہنے دیا تو کیا بدوں اسلام اور ایمان کے ساتھ زندہ نہ رہیں گے یہی وہ لوگ ہیں جو اسلام کے دوست نما دشمن ہیں اس بدفہم سے کوئی پوچھتا کہ جب شعائر اسلام کے چھوڑدینے کو گورا کرنے کی مسلمانوں کو تعلیم کررہا ہے توپھر انگریزوں ہی میں جاکر جذ ب ہوجا عیسائیت ہی قبول کرلے انکی تو حکومت بنی بنائی ہے ہندوں کی حکومت کیلئے تو بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے پھر کامیابی بھی محتمل اجی اسلام اور شعائر اسلام کو چھوڑنا ہی ہے تو اس میں کیا انگریزاور کیا ہندو بلکہ تیری محبوبہ
دنیا ہندوں سے زیادہ انگریزوں کے پاس ہے بدفہم سمجھتے ہیں کہ تدابیرے سے کام چل سکتا ہے میں کہتا ہوں کہ نرمی تدبیروں سے کام نہیں چل سکتا ہے تائید حق سے
اور وہ موقوف ہے طلعت اور فرمانبرداری پرباغیوں ، سرکشوں اور نافرمانو ں کے ساتھ تائید حق نہیں ہو ا کرتی یہ ہی وجہ ہے کہ اسوقت کسی کام میں بھی برکت نصیب
نہ ہوئی اور جہاں ایسے ایسے راہبر اور پیشوا ہوں گے یہ ہی نتیجہ ہوگا کسی نے خوب کہا ہے
گربہ میروسگ وزیروموش رادیوان کنند ایں چنیں ارکان دولت ملک راویراں کنند
( بلی کو صدر، کتے کو وزیراعظم ، چوہے کو وزیرمملکت بنادیں تو ایسے ارکان دولت توملک کو ویران ہی کریں گے ۔ 12)
برکت تدابیر منصوبہ پرعمل کرنے سے میسرہوسکتی ہے اور یہ ہڑتال اور جلوس یہ سب یورپ ہی سے سبق حاصل کیا ہے یہ سب انہیں ک تدابیر ہیں جن کے خلاف تم جدوجہد کررہے ہو ان تدابیر کی جوتم نے اختیار کررکھی ہیں اس سے زیادہ وقعت نہیں جیسے ایک گاوں میں ایک بوجھ بجکڑرہتا ہے اس گاؤں کا ایک آدمی کھجورکے درخت پرکھجوریں کھانے چڑھ گیا وہاں پہنچ کر زمین کو دیکھا توبڑی دورنظر آئی گھبراہٹ میں اترنا مشکل پڑگیا تمام گاؤں جمع ہوگیا مگریہ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس کو اتاریں کس طرح ، آخریہ طے ہوا کہ بوجھ بجکڑکو بلاؤ آیا درخت کے قریب کھڑے ہوکر اوپر نیچے دیکھا اور بہت غور اورفکر کے بعد کے سوچ سمجھ کرکہا کہ سمجھ کرکہا کہ سمجھ میں آگیا رسے لاؤ رسے آئے کہا کہ ان میں پھندا لگا کر اوپر پھینکوتا کہ اس کے پاس تک پہنچ جائے اس سے کہاں کہ تو پکڑلینا غرض کہ رسا پھینکا گیا اس نے
ڈال لیا اب لوگوں سے کہا کہ لگاؤ جھٹکا مزا حا فرمایا کہ جھٹکا ہوتا ہی ہے ناجائز لوگوں نے جھٹکا لگایا وہ شخص درخت سے زمین پرآکر پڑا ہڈی پسلی ٹوٹ گئیں دماغ پھٹ کر
بھیجا الگ جاپڑا ختم ہوگیا لوگوں نے کہا کہ یہ کیا کیا یہ تو مرگیا تو بوجھ بجکڑکہتے ہیں کہ مرگیا سسرااپنی موت مرااس کی قسمت میں ے تو ہزاروں آدمی اسی تدبیر سے رسے کے بذریعہ کنواں سے نکلوائے ہیں کنویں سے نکلوالینے پر قیاس کیا کھجورکے درخت پرسے اتروانے کو یہی حقیقت آج کل کے ان عقلاء اور لیڈروں کے قیاسیات اور تدابیر کی ہے یہ بھی عقل اور فہم میں اس بوجھ بجکڑسے کم نہیں بلکہ چار قدم اور آگے بڑھے ہوئے ہیں پھر اس پر ناز ہے دعوی ہے کہ ہم اہل عقل اوراہل فہم ہیں میں تو کہا کرتا ہوں کہ یہ آج کل کے اہل عقل اہل اکل ہیں عاقل نہیں آکل ہیں معلوم بھی ہے کہ ایک تدبیر ایک کیلئے نافع اور مفید ہے اور ایک کے لئے وہی مضر جیسے بوجھ بجکڑکی تدبیر ایک کیلئے تو مفید تھی کہ رسے کے ذریعے کنوئیں سے نکلوالیا اور دوسرے کیلئے مضر کھجور کے درخت سے رسے کے ذریعہ اتروایا ، ایک کے لیے
مفید اس لئے ہوئی کہ کنویں میں تھا پستی سے بلندی کی طرف آگیا اور دوسرے کے لیے مضر اس لئے ہوئی کہ بلندی سے پستی کی طرف آیا جس کا نتیجہ ہلاکت ہو توان تدابیر غیرمنصوص سے یہ پستی کی طرف جائیں گے اس لئے کہ تدابیر منصوصہ بلندی کی طرف ہیں ، اتنی تو خبر ہے ہی نہیں مگر پیشوا مقتدا ء بننے کو جی چاہتا ہے اصل بات یہ ہےکہ اگردین ہوتو عقل میں بھی نور ہودین کا تو نام ونشان ہی نہیں اپنی من گھڑت باتوں اور تدابیر پر کودتے اچھلتے پھرتے ہیں ملک کو تباہ برباد کیا لوگوں کا دین بھی خراب کیا کسی نے خوب کہا ہے
گربہ میرسگ وزیروموش رادیواں کنند ایں چنیں ارکا ن دولت ملک راریراں کنند
