ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات حاضرہ کے دور میں عجیب عجیب الزامات اور بہتان میرے سر تھوپے گئے ـ بعض لوگ کہتے تھے ان کو حس نہیں ـ اس لئے خاموش بیٹھے ہیں میں کہتا ہوں کہ بیٹھنے کا سبب بے حسی نہیں ـ بلکہ حس ہی بسبب ہے ـ وہ یہ کہ جو تم کو معلوم ہے ـ ہم کو بھی معلوم ہے اور تم سے زائد ہم کو ایک اور بات معلوم ہے ـ جس کیوجہ سے ہم خاموش ہیں ـ وہ یہ کہ بدون قوت کے مقابلہ کرنے میں ہم فنا ہو جائیں گے ـ مٹ جائیں گے کیونکہ ان تحریکات کی کامیابی کا نتیجہ ظاہرا ہندوؤں کا غلبہ ہے اور ہندو انگریزوں سے زیادہ دشمن ہیں ہر شخص شب و روز اسکا مشاہدہ کرتا ہے ـ دیکھ لیا جائے تمام دفاتر اور محکموں میں مسلمانوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جا رہا ہے ـ اگر واقعات اور مشاہدات کو بھی نظر انداز کیا جائے تو اسکا کسی کے پاس کیا جواب ہے ـ
