( ملفوظ 339) تحریکات کا دینی نقصان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان تحریکات میں یہانکے لوگ تو اپنا دشمن ہی ہیں مگر بعض عیسائی بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں چناچہ کوہ منصوری پر عیسائیوں کا ایک وفد تبلیغ کے لئے امریکہ سے آیا تھا اس میں ایک پادری تھا میرے ایک عزیز سے اس کی ملاقات ہو گئی اس نے میرے متعلق پوچھا کہ ان تحریکات میں اس کا کیا خیال ہے انہوں نے کہا کہ وہ ان تحریکات کے خلاف ہے یہ سنکر اس پادری نے کہا کہ یہ شخص عسائیت کا سخت دشمن معلوم ہوتا ہے ان عزیز نے کہا کہ یہ تحریکات خود عسائیت کے خلاف ہیں تو اگر وہ اسمیں شریک ہوتے تب تو عسائیت کی دشمنی کے کیا معنی کہا کہ تم اس بات کو نہیں سمجھتے اس وقت ہندستان میں دو مذہب ہیں ایک ہندو اور ایک مسلمان اور دونوں میں بوجہ اختلاف مذہب کے تصادم ہے اسوجہ سے اپنے اپنے مذہب ہر سختی سے جمے ہوئے ہیں مگر ان تحریکات میں دونوں بہت سے کام اپنے مذہب کے خلاف کر رہے ہیں جس سے ان پر لا مذہبی کا غلبہ ہو جائے گا اور لا مذہبی کے بعد عسائیت کی قابلیت قریب ہو جاتی ہے تو تحریکات کے خلاف کرنا عسائیت سے روکنا ہے یہ راز ہے جس کو یہ شخص سمجھا ہے اور تحریکات کا مخالف ہے اس لئے ہم کہتا ہے کہ یہ شخص عسائیت کا سخت دشمن ہے پھر فرمایا کہ آج کل کی عسائیت کا پہلا زینہ لا مذہبیت ہے عیسائی ہوتے ہی وہ ہیں جو مذہب ہیں اور ان تحریکات میں مسلمانوں نے تو بلا وجہ ہی سر کٹائے نہ ہندو ہی راضی ہوئے نہ انگریز ان کو تو صرف ایک ذات راضی کرنے کی ضرورت ہے اگر وہ راضی ہو جائیں تو پھر کسی کی نا راضگی سے کچھ نہیں اور وہ حق تعالی کی ذات ہے اور اب تو مسلمان اسکے مصداق ہو گئے جیسا کہ ایک صاحب سرگرم تحریفات نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے ـ
اس نقش پا کے سجدہ نے کیا کیا کیا ذلیل
ہم کو چہ رقیب میں بھی سر کے بل گئے