(ملفوظ 178)تھانہ بھون میں بہت سے صاحب کمال پیدا ہوئے :

ایک سلسلہ گفتگو میں حضرت والا نے چند مہمانوں کو جوپورپ کی طرف کے رہنے والے تھے اپنی طرف متوجہ کرکے فرمایا کہ دیکھئے یہ توہماری حالت ہے کہ الحمداللہ اپنے بزرگوں کا نہایت درجہ کا ادب احترام کرتے ہیں مگر پھر بھی کانپور میں مخالفین نے یہ مشہور کیا ہے کہ میں نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حجرہ کا پاخانہ بنوایا میں نے سن کرکہا کہ یہ صغری ہے اور کبری کیا ہوا وہ یہ کہ جوحجرہ کا پاخانہ بنوائے وہ عاصی ہے سو اس کبری کی کیا دلیل ہے شریعت میں اس میں کیا قباحت ہے محبت اورادب تو اور چیز ہے میں تو یہ پوچھتا ہوں کہ شیریعت کا کیا حکم ہے یہ بتلاؤ فتویٰ دو اور واقعہ یہ ہے کہ میں نے پاخانہ کا حجرہ بنوایا ہے حجرہ کا پاخانہ نہیں بنوایا پہلے آدمی تحقیق کرلے یہ فرمایا کہ حضرت والا ان مہمانوں کو ہمراہ لے کر اس مقام پرتشریف لے گئے اور اس مقام کا نقشہ سمجھا یا کہ یہ ہے وہ مقام یہ جگہ پاخانہ کی حد میں تھی مگر اس جگہ کونجاست سے کوئی تعلق نہ تھا اس لئے قد مچوں کی جگہ پراتنی کرسی دیدی گئی کہ وہ جگہ دفن ہوگئی اب اس کو داخل حجرہ لرلیا گیا ہے جس کو آپ لوگ دیکھ رہے ہیں یہ حقیقت ہے اس واقعہ کی جس کو اس طرح مسخ کیا ہے اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ بدعتیوں میں دین نہیں ہوتا اور دین کی باتوں کی وہابیت کہتے ہیں اسی بناء پرمولانا فیض الحسن صاحب مرحوم نے وہابی بدعتی کی عجیب تفسیر کی تھی کہ وہابی کے معنی ہیں بے ادب باایمان اور بدعتی کے معنی ہیں با ادب بے ایمان ۔