جن لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ان کا بیان

مسئلہ۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اتنی ہی قیمت کا سوداگری کا اسباب ہو اس کو شریعت میں مالدار کہتے ہیں ایسے شخص کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اور اس کو زکوٰۃ کا پیسہ لینا اور کھانا بھی حلال نہیں۔ اسی طرح جس کے پاس اتنی ہی قیمت کا کوئی مال ہو جو سوداگری کا اسباب تو نہیں لیکن ضرورت سے زائد ہے وہ بھی مالدار ہے ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اگرچہ خود اس قسم کے مالدار پر زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔

مسئلہ۔ اور جس کے پاس اتنا مال نہیں بلکہ تھوڑا مال ہے یا کچھ بھی نہیں یعنی ایک دن کے گزارہ کے موافق بھی نہیں اس کو غریب کہتے ہیں ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور ان لوگوں کو لینا بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ بڑی بڑی دیگیں اور بڑے بڑے فرش فروش اور شامیانے جن کی برسوں میں ایک آدھ دفعہ کہیں شادی بیاہ میں ضرورت پڑتی ہے اور روزہ مرہ ان کی ضرورت نہیں ہوتی وہ ضروری اسباب میں داخل نہیں۔

مسئلہ۔ رہنے کا گھر اور پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے لیے نوکر چاکر اور گھر کی گھرستی جو اکثر کام میں رہتی ہے یہ سب ضروری اسباب میں داخل ہیں اس کے ہونے سے مالدار نہیں ہو گی چاہے جتنی قیمت کی ہو اس لیے اس کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اسی طرح پڑھے ہوئے آدمی کے پاس اس کی سمجھ اور برتاؤ کی کتابیں بھی ضروری اسباب میں داخل ہیں۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس دس پانچ مکان ہیں جن کو کرایہ پر چلاتی ہے اور اس کی آمدنی سے گزر کرتی ہے یا ایک آدھ گاؤں ہے جس کی آمدنی آتی ہے لیکن بال بچے اور گھر میں کھانے پینے والے لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ اچھی طرح بسر نہیں ہوتی اور تنگی رہتی ہے اور اس کے پاس کوئی ایسا مال بھی نہیں جس میں زکوٰۃ واجب ہو تو ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس ہزار روپے نقد موجود ہیں لیکن وہ پورے ہزار روپے کا یا اس سے بھی زائد کا قرض دار ہے تو اس کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر قرضہ ہزار روپے سے کم ہو تو دیکھو قرضہ دے کر کتنے روپے بچتے ہیں اگر اتنے بچیں جتنے میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اور اور اگر اس سے کم بچیں تو دنیا درست ہے۔

مسئلہ۔ ایک شخص اپنے گھر کا بڑا مالدار ہے لیکن کہیں سفر میں ایسا اتفاق ہوا کہ اس کے پاس کچھ خرچ نہیں رہا سارا مال چوری ہو گیا اور کوئی وجہ ایسی ہوئی کہ اب گھر تک پہنچنے کا بھی خرچ نہیں ہے ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔ ایسے ہی اگر حاجی کے پاس راستے میں خرچ مک گیا اور اس کے گھر میں بہت مال و دولت ہے اس کو بھی دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کا پیسہ کسی کافر کو دینا درست نہیں مسلمان ہی کو دے۔ اور زکوٰۃ اور عشر اور صدقہ فطر اور نذر اور کفارہ کے سوا اور خیر خیرات کافر کو بھی دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کا پیسہ کسی کافر کو دینا درست نہیں مسلمان ہی کو دے دے۔ اور زکوٰۃ اور عشر اور صدقہ فطر اور نذر اور کفارہ کے سوا اور خیر خیرات کافر کو بھی دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کے پیسہ سے مسجد بنوانا یا کسی لا وارث مردہ کا گور و کفن کر دینا یا مردے کی طرف سے اس کا قرضہ ادا کر دینا یا کسی اور نیک کام میں لگا دینا درست نہیں جب تک کسی مستحق کو دے نہ دیا جائے زکوٰۃ ادا نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ اپنی زکوٰۃ کا پیسہ اپنے ماں باپ دادا دادی نانا نانی پر دادا وغیرہ جن لوگوں سے یہ پیدا ہوئی ہے ان کو دینا درست نہیں ہے۔ اسی طرح اپنی اولاد اور پوتے پڑپوتے نواسے وغیرہ جو لوگ اس کی اولاد میں داخل ہیں ان کو بھی دینا درست نہیں۔ ایسے ہی بی بی اپنے میاں کو اور میاں بی بی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔

مسئلہ۔ ان رشتہ داروں کے سوا سب کو زکوٰۃ دینا درست ہے۔ جیسے بھائی بہن بھتیجی بھانجی چچا پھوپی خالہ ماموں سوتلی ماں سوتیلا باپ سوتیلا دادا ساس خسر وغیرہ سب کو دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ نابالغ لڑکے کا باپ اگر مالدار ہو تو اس کو زکوٰۃ دینا درست نہیں اور اگر لڑکا لڑکی بالغ ہو گئے اور خود وہ مالدار نہیں لیکن ان کا باپ مالدار ہے تو ان کو دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر چھوٹے بچے کا باپ تو مالدار نہیں لیکن ماں مالدار ہے تو اس بچے کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ سیدوں کو اور علویوں کو اسی طرح جو حضرت عباس کی یا حضرت جعفر کی یا حضرت عقیل یا حضرت حارث بن عبدالمطلب کی اولاد میں ہوں ان کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اسی طرح جو صدقہ شریعت سے واجب ہو اس کا دینا بھی درست نہیں جیسے نذر کفارہ عشر صدقہ فطر اور اس کے سوا اور کسی صدقہ خیرات کا دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ گھر کے نوکر چاکر خدمت گار ماما دائی کھلائی وغیرہ کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے لیکن ان کی تنخواہ میں نہ حساب کرے بلکہ تنخواہ سے زائد بطور انعام اکرام کے دے دے اور دل میں زکوٰۃ دینے کی نیت رکھے تو درست ہے۔

مسئلہ۔ جس لڑکے کو تم نے دودھ پلایا ہے اس کو اور جس نے بچپن میں تم کو دودھ پلایا ہے اس کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ ایک عورت کا مہر ہزار روپیہ ہے لیکن اس کا شوہر بہت غریب ہے کہ ادا نہیں کر سکتا تو ایسی عورت کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر اس کا شوہر امیر ہے لیکن مہر دیتا نہیں یا اس نے اپنا مہر معاف کر دیا تو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر یہ امید ہے کہ جب مانگوں گی تو وہ ادا کر دے گا کچھ تامل نہ کرے گا تو ایسی عورت کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں۔

مسئلہ۔ ایک شخص کو مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دے دی پھر معلوم ہوا کہ وہ تو مالدار ہے یا سید ہے یا اندھیاری رات میں کسی کو دے دیا پھر معلوم ہوا کہ وہ تو میری ماں تھی یا میری لڑکی تھی یا اور کوئی ایسا رشتہ دار ہے جس کو زکوٰۃ دینا درست نہیں تو ان سب صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہو گئی دوبارہ ادا کرنا واجب نہیں لیکن لینے والے کو اگر معلوم ہو جائے کہ یہ زکوٰۃ کا پیسہ ہے اور میں زکوٰۃ لنیے کا مستحق نہیں ہوں تو نہ لے اور پھرا دے۔ اور اگر دینے کے بعد معلوم ہوا کہ جس کو دیا ہے وہ کافر ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر ادا کرے۔

مسئلہ۔ اگر کسی پر شبہ ہو کہ معلوم نہیں مالدار ہے یا محتاج ہے تو جب تک تحقیق نہ ہو جائے اس کو زکوٰۃ نہ دے۔ اگر بے تحقیق کیے دے دیا تو دیکھو دل زیادہ کدھر جاتا ہے اگر دل یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ فقیر ہے تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اور اگر دل یہ کہے کہ وہ مالدار ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر سے دے۔ لیکن اگر دینے کے بعد معلوم ہو جائے کہ وہ غریب ہی ہے تو پھر زکوٰۃ ادا ہو گئی۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کے دینے میں اور زکوٰۃ کے سوا اور صدقہ خیرات میں سب سے زیادہ اپنے رشتہ ناتہ کے لوگوں کا خیال رکھو کہ پہلے ان ہی لوگوں کو دو لیکن ان کو یہ نہ بتاؤ کہ یہ زکوٰۃ یا صدقہ اور خیرات کی چیز ہے تاکہ وہ برا نہ مانیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرابت والوں کو خیرات دینے سے دہرا ثواب ملتا ہے۔ ایک تو خیرات کا دوسرا اپنے عزیزوں کے ساتھ سلوک و احسان کرنے کا پھر جو کچھ ان سے بچے وہ اور لوگوں کو دو۔

مسئلہ۔ ایک شہر کی زکوٰۃ دوسرے شہر میں بھیجنا مکروہ ہے ہاں اگر دوسرے شہر میں اس کے رشتہ دار رہتے ہوں ان کو بھیج دیا یا یہاں والوں کے اعتبار سے وہاں کے لوگ زیادہ محتاج ہیں یا وہ لوگ دین کے کام میں لگے ہیں ان کو بھیج دیا تو مکروہ نہیں کہ طالب علموں اور دیندار عالموں کو دینا بڑا ثواب ہے۔

پیداوار کی زکوٰۃ کا بیان

مسئلہ۔ کوئی شہر کافروں کے قبضہ میں تھا وہی لوگ وہاں رہتے سہتے تھے پھر مسلمان ان پر چڑھ آئے اور لڑ کر وہ شہر ان سے چھین لیا اور وہاں دین اسلام پھیلایا اور مسلمان بادشاہ نے کافروں سے لے کر شہر کی ساری زمین ان ہی مسلمانوں کو بانٹ دی تو ایسی زمین کو شرع میں عشری کہتے ہیں اور اگر اس شہر کے رہنے والے لوگ سب کے سب اپنی خوشی سے مسلمان ہو گئے لڑنے کی ضرورت نہیں پڑی تب بھی اس شہر کی سب زمین عشری کہلائے گی اور عرب کے ملک کی بھی ساری زمین عشری ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے باپ دادا سے یہی عشری زمین برابر چلی آتی ہو یا کسی ایسے مسلمان سے خریدی جس کے پاس اسی طرح چلی آتی ہو تو ایسی زمین میں جو کچھ پیدا ہوا اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ اور طریقہ اس کا یہ ہے کہ اگر کھیت کو سینچنا نہ پڑھے فقط بارش کے پانی سے پیداوار ہو گئی یا ندی اور دریا کے کنارے پر ترائی میں کوئی چیز بوئی اور بے سنچے پیدا ہو گئی تو ایسے کھیت میں جتنا پیدا ہوا ہے اس کا دسواں حصہ خیرات کر دینا واجب ہے یعنی دس من میں ایک من اور دس سیر میں ایک سیر اور اگر کھیت کو پرچلا کر کے یا کسی اور طریق سے سینچا ہے تو پیداوار کا بیسواں حصہ خیرات کرے یعنی بیس من میں ایک من اور بیس سیر میں ایک سیر اور یہی حکم ہے باغ کا ایسی زمین میں کتنی ہی تھوڑی چیز پیدا ہوئی ہو بہرحال یہ صدقہ خیرات کرنا واجب ہے کم اور زیادہ ہونے میں کچھ فرق نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اناج ساگ ترکاری میوہ پھل پھول وغیرہ جو کچھ پیدا ہو سب کا یہی حکم ہے۔

مسئلہ۔ عشری زمین یا پہاڑ یا جنگل سے اگر شہد نکالا تو اس میں بھی یہ صدقہ واجب ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے اپنے گھر کے اندر کوئی درخت لگایا یا کوئی چیز ترکاری کی قسم سے ہے اور کچھ بویا اور اس میں پھل آیا تو اس میں یہ صدقہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر عشری زمین کوئی کافر خرید لے تو وہ عشری نہیں رہتی پھر اگر اس سے مسلمان بھی خرید  لے یا کسی اور طور پر اس کو مل جائے تب بھی وہ عشری نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ یہ بات کہ یہ دسواں یا بیسواں حصہ کس کے ذمہ ہے یعنی زمین کے مالک پر ہے یا پیداوار کے مالک پر ہے۔ اس میں بڑا عالموں کا اختلاف ہے مگر ہم آسانی کے واسطے یہی بتلایا کرتے ہیں کہ پیداوار والے کے ذمہ ہے۔ سو اگر کھیت ٹھیکہ پر ہو خواہ نقد پر یا غلہ پر تو کسان کے ذمہ ہو گا اور اگر کھیت بٹائی پر ہو تو زمیندار اور کسان دونوں اپنے اپنے حصہ کا دیں۔

زکوٰۃ کے ادا کرنے کا بیان

مسئلہ۔ جب مال پر پورا سال گزر جائے تو فورا زکوٰۃ ادا کر دے نیک کام میں دیر لگانا اچھا نہیں کہ شاید اچانک موت آ جائے اور یہ مواخذہ اپنی گردن پر رہ جائے اگر سال گزرنے پر زکوٰۃ ادا نہیں کی یہاں تک کہ دوسرا سال بھی گزر گیا تو گنہگار ہوئی اب بھی توبہ کر کے دونوں سال کی زکوٰۃ دے دے غرض عمر بھر میں کبھی نہ کبھی ضرور دے دے باقی نہ رکھے۔

مسئلہ۔ جتنا مال ہے اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دینا واجب ہے یعنی سو روپے میں ڈھائی روپے اور چالیس روپے میں ایک روپیہ۔

مسئلہ۔ جس وقت زکوٰۃ کا روپیہ کسی غریب کو دے دے اس وقت اپنے دل میں اتنا ضرور خیال کر لے کہ میں زکوٰۃ میں دیتی ہوں اگر یہ نیت نہیں کہ یوں ہی دے دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر سے دینا چاہیے اور جتنا دیا ہے اس کا ثواب الگ ملے گا۔

مسئلہ۔ اگر فقیر کو دیتے وقت یہ نیت نہیں کی تو جب تک وہ مال فقیر کے پاس رہے اس وقت تک یہ نیت کر لینا درست ہے اب نیت کر لینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ البتہ جب فقیر نے خرچ کر ڈالا اس وقت نیت کرنے کا اعتبار نہیں ہے اب پھر سے زکوٰۃ دے۔

مسئلہ۔ کسی نے زکوٰۃ کی نیت سے دو روپے نکال کر الگ رکھ لیے کہ جب کوئی مستحق ملے گا اس کو دے دوں گی پھر جب فقیر کو دے دیا اس وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا بھول گئی تو بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ البتہ زکوٰۃ کی نیت سے نکال کر الگ نہ رکھتی تو ادا نہ ہوتی۔

مسئلہ۔ کسی نے زکوٰۃ کے روپے نکالے تو اختیار ہے چاہے ایک ہی کو سب دے دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی غریبوں کو دے اور چاہے اسی دن سب دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی مہینے میں دے۔

مسئلہ۔ بہتر یہ ہے کہ ایک غریب کو کم سے کم اتنا دے دے کہ اس دن کے لیے کافی ہو جائے کسی اور سے مانگنا نہ پڑے۔

مسئلہ۔ ایک ہی فقیر کو اتنا مال دے دینا جتنے مال کے ہونے سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے مکروہ ہے لیکن اگر دے دیا تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اور اس سے کم دینا جائز ہے مکروہ بھی نہیں۔

مسئلہ۔ کوئی عورت قرض مانگنے آئی اور یہ معلوم ہے کہ وہ اتنی تنگدست اور مفلس ہے کہ کبھی ادا نہ کر سکے گی یا ایسی نا دہندہ ہے کہ قرض لے کر کبھی ادا نہیں کرتی اس کو قرض کے نام سے زکوٰۃ کا روپیہ پیسہ دے دیا اور اپنے دل میں سوچ لیا کہ میں زکوٰۃ دیتی ہوں تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اگرچہ وہ اپنے دل میں یہی سمجھے کہ مجھے قرض دیا ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کو انعام کے نام سے کچھ دیا مگر دل میں یہی نیت ہے کہ میں زکوٰۃ دیتی ہوں تب بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی غریب آدمی پر تمہارے دس روپے قرض ہیںل اور تمہارے مال کی زکوٰۃ بھی دس روپے یا اس سے زیادہ ہے اس کو اپنا قرض زکوٰۃ کی نیت سے معاف کر دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی البتہ اس کو دس روپے زکوٰۃ کی نیت سے دے دو تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اب یہی روپے اپنے قرض میں اس سے لے لینا درست ہیں۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس چاندی کا اتنا زیور ہے کہ حساب س تین تولہ چاندی زکوٰۃ کی ہوتی ہے اور بازار میں تین تولہ چاندی دو روپے بکتی ہے تو زکوٰۃ میں دو روپے چاندی کے دے دینا درست نہیں کیونکہ دو روپے کا وزن تنت تولہ نہیں ہوتا اور چاندی کی زکوٰۃ میں جب چاندی دی جائے تو وزن کا اعتبار ہوتا ہے قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ہاں اس صورت میں اگر دو روپے کا سونا خرید کر کے دے دیا یا دو روپے گلٹ کے یا دو روپے کے پیسے یا دو روپے کی گلٹ کی ریزگاری یا دو روپے کا کپڑا یا اور کوئی چیز دے دی یا خود تین تولہ چاندی دے دی تو درست ہے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کا روپیہ خود نہیں دیا بلکہ کسی اور کو دے دیا کہ تم کسی کو دے دینا یہ بھی جائز ہے اب وہ شخص دیتے وقت اگر زکوٰۃ کی نیت نہ بھی کرے تب بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ کسی غریب کو دینے کے لیے تم نے دو روپے کسی کو دیئے لیکن اس نے بعینہ وہی دو روپے فقیر کو نہیں دیئے جو تم نے دیئے تھے بلکہ اپنے پاس سے دو روپے تمہاری طرف سے دے دیئے اور یہ خیال کیا کہ وہ روپے میں لے لوں گا تب بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی بشرطیکہ تمہارے روپے اس کے پاس موجود ہوں اور اب وہ شخص اپنے دور روپے کے بدلے میں تمہارے وہ دونوں روپے لے لیوے البتہ اگر تمہارے دیئے ہوئے روپے اس نے پہلے خرچ کر ڈالے اس کے بعد اپنے روپے غریب کو دیئے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی یا تمہارے روپے اس کے پاس رکھے تو ہیں لیکن اپنے روپے دیتے وقت یہ نیت نہ تھی کہ میں وہ روپے لے لوں گا تب بھی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔ اب وہ دونوں روپے پھر زکوٰۃ میں دے دے۔

مسئلہ۔ اگر تم نے روپے نہیں دیئے لیکن اتنا کہہ دیا کہ تم ہماری طرف سے زکوٰۃ دے دینا اس لیے اس نے تمہاری طرف سے زکوٰۃ دے دی تو ادا ہو گئی اور جتنا اس نے تمہاری طرف سے دیا ہے اب تم سےلے لیوے۔

مسئلہ۔ اگر تم نے کسی سے کچھ نہیں کہا اس نے بلا تمہاری اجازت کے تمہاری طرف سے زکوٰۃ دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی اب اگر تم منظور بھی کر لو تب بھی درست نہیں اور جتنا تمہاری طرف سے دیا ہے تم سے وصول کرنے کا اس کو حق نہیں۔

مسئلہ۔ تم نے ایک شخص کو اپنی زکوٰۃ دینے کے لیے دو روپے دیئے تو اس کو اختیار ہے چاہے خود کسی غریب کو دے دے یا کسی اور کے سپرد کر دے کہ تم یہ روپیہ زکوٰۃ میں دے دینا اور نام کا بتلانا ضروری نہیں ہے کہ فلانی کی طرف سے یہ زکوٰۃ دینا۔ اور وہ شخص وہ روپیہ اگر اپنے کسی رشتہ دار یا ماں باپ کو غریب دیکھ کر دے دے تو بھی درست ہے۔ لیکن اگر وہ خود غریب ہو تو آپ ہی لے لینا درست نہیں۔ البتہ اگر تم نے یہ کہہ دیا ہو کہ جو چاہے کرو اور جسے چاہے دے دو تو آپ بھی لے لینا درست ہے۔

زکوٰۃ کا بیان

جس کے پاس مال ہو اور اس کی زکوٰۃ نہ نکالتی ہو وہ اللہ تعالی کے نزدیک بڑی گنہگار ہے قیامت کے دن اس پر بڑا سخت عذاب ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس کے پاس سونا چاندی ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی پھر ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کر کے اس کی دونوں کروٹیں اور پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی اور جب ٹھنڈی ہو جائیں گی پھر گرم کر لی جائیں گی اور نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ نہ ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال بڑا زہریلا گنجا سانپ بنایا جائے گا اور اس کی گردن میں لپٹ جائے گا پھر اس کے دونوں جبڑے نوچے گا اور کہے گا میں ہوں تیرا مال اور میں ہی تیرا خزانہ ہوں۔ خدا کی پناہ بھلا اتنے عذاب کی کون سہار کرسکتا ہے تھوڑے سے لالچ کے بدلے یہ مصیبت بھگتنا بڑی بیوقوفی کی بات ہے خدا ہی کی دی ہوئی دولت کو خدا کی راہ میں نہ دینا کتنی بے جا بات ہے۔

مسئلہ۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر روپیہ ہو۔ شبیر علی اور ایک سال تک باقی رہے تو سال گزرنے پر اس کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر اس سے کم ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ اور اگر اس سے زیادہ ہو تو بھی زکوٰۃ واجب ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس آٹھ تولہ سونا چار مہینے یا چھ مہینے تک رہا پھر وہ کم ہو گیا اور وہ تین مہینے کے بعد ملے گا تب بھی زکوٰۃ دینا واجب ہے غرضیکہ جب سال کے اول و آخر میں مالدار ہو جائے اور سال کے بیچ میں کچھ دن اس مقدار سے کم رہ جائے تو بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ بیچ میں تھوڑے دن کم ہو جانے سے زکوٰۃ معاف نہیں ہوتی البتہ اگر سب مال جاتا رہے اس کے بعد پھر مال ملے تو جب سے پھر ملا ہے تب سے سال کا حساب کیا جائے گا۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس آٹھ نو تولہ سونا تھا لیکن سال گزرنے سے پہلے پہلے جاتا رہا پورا سال نہیں گزرنے پایا تو زکوٰۃ واجب نہیں۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہے۔ اور اتنے ہی روپوں کی وہ قرض دار ہے تو بھی زکوٰۃ واجب نہیں۔

مسئلہ۔ اگر اتنے کی قرض دار ہے کہ قرضہ ادا ہو کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت بچتی ہے تو زکوٰۃ واجب ہے۔

مسئلہ۔ سونے چاندی کے زیور اور برتن اور سچا گوٹہ ٹھپہ سب پر زکوٰۃ واجب ہے۔ چاہے پہنتی رہتی ہو یا بند رکھے ہوں اور کبھی نہ پہنتی ہو۔ غرضیکہ چاندی و سونے کی ہر چیز پر زکوٰۃ واجب ہے۔ البتہ اگر اتنی مقدار سے کم ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ سونا چاندی اگر کھرا نہ ہو بلکہ اس میں کچھ میل ہو جیسے مثلاً چاندی میں رانگا ملا ہوا ہے تو دیکھو چاندی زیادہ ہے یا رانگا۔ اگر چاندی زیادہ ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو چاندی کا حکم ہے یعنی اگر اتنی مقدار ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر رانگا زادہ ہے تو اس کو چاندی نہ سمجھیں گے۔ پس جو حکم پیتل تانبے لوہے رانگے وغیرہ اسباب کا آگے آئے گا وہی اس کا بھی حکم ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس نہ تو پوری مقدار سونے کی ہے نہ پوری مقدار چاندی کی بلکہ تھوڑا سونا ہے اور تھوڑی چاندی تو اگر دونوں کی قیمت ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے یا ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر دونوں چیزیں اتنی تھوڑی تھوڑی ہیں کہ دونوں کی قیمت نہ اتنی چاندی کے برابر ہے نہ اتنے سونے کے برابر تو زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر سونے اور چاندی دونوں کی مقدار پوری پوری ہے تو قیمت لگانے کی ضرورت نہیں۔

مسئلہ۔ فرض کرو کہ کسی زمانہ میں پچیس روپے کا ایک تولہ سونا ملتا ہے اور ایک روپے کی ڈیڑھ تولہ چاندی ملتی ہے اور کسی کے پاس دو تولہ سونا اور پانچ روپے ضرورت سے زائد ہیں اور سال پھر تک وہ رہ گئے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ کیونکہ دو تولہ سونا پچاس روپے کا ہوا اور پچاس روپے کی چاندی پچھتر تولہ ہوئی تو دو تولہ سونے کی چاندی اگر خریدو گی تو پچھتر تولہ ملے گی اور پانچ روپے تمہارے پاس ہیں اس حساب سے اتنی مقدار سے بہت زیادہ مال ہو گیا جتنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ البتہ اگر فقط دو تولہ سونا ہو اس کے ساتھ روپے اور چاندی کچھ نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ ایک روپیہ کی چاندی مثلاً دو تولہ ملتی ہے اور کسی کے پاس فقط تیس روپے چاندی کے ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں اور یہ حساب نہ لگائیں گے کہ تیس روپے کی چاندی ساٹھ تولہ ہوئی کیونکہ روپیہ تو چاندی کا ہوتا ہے اور جب فقط چاندی یا فقط سونا پاس ہو تو وزن کا اعتبار ہے قیمت کا اعتبار نہیں۔ یہ حکم اس وقت کا ہے جب روپیہ چاندی کا ہوتا تھا۔ آجکل عام طور پر روپیہ گلٹ کا مستعمل ہے اور نوٹ کے عوض میں بھی وہی ملتا ہے اس لیے اب حکم یہ ہے کہ جس شخص کے پاس اتنے روپیہ یا نوٹ موجود ہوں جن کی ساڑھے باون تولہ چاندی بازار کے بھاؤ کے مطابق آ سکے اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی

مسئلہ۔ کسی کے پاس سو روپے ضرورت سے زائد رکھے تھے پھر سال پورا ہونے سے پہلے پہلے پچاس روپے اور مل گئے تو ان پچاس روپے کا حساب الگ نہ کریں گے بلکہ اسی سو روپے کے ساتھ اس کو ملا دیں گے اور جب ان سو روپے کا سال پورا ہو گا تو پورے ڈیڑھ سو کی زکوٰۃ واجب ہو گی اور ایسا سمجھیں گے کہ پورے ڈیڑھ سو پر سال گزر گیا۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس سو تولہ چاندی رکھی تھی پھر سال گزرنے سے پہلے دو چار تولہ سونا آ گیا یا نو دس تولہ سونا مل گیا تب بھی اس کا حساب الگ نہ کیا جائے گا بلکہ اس چاندی کے ساتھ ملا کر کے زکوٰۃ کا حساب ہو گا پس جب اس چاندی کا سال پورا ہو جائے گا تو اس سب مال کی زکوٰۃ واجب ہو گی۔

مسئلہ۔ سونے چاندی کے سوا اور جتنی چیزیں ہیں جیسے لوہا تانبا پیتل گلٹ رانگا وغیرہ اور ان چیزوں کے بنے ہوئے برتن وغیرہ اور کپڑے جوتے اور اس کے سوا جو کچھ اسباب ہو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کو بیچتی اور سوداگری کرتی ہو تو دیکھو وہ اسباب کتنا ہے اگر اتنا ہے کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہے تو جب سال گزر جائے تو اس سوداگری کے اسباب میں زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر وہ مال سوداگری کے لیے نہیں ہے تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے چاہے جتنا مال ہو اگر ہزاروں روپے کا مال ہو تب بھی زکوٰۃ واجب ہے۔

مسئلہ۔ گھر کا اسباب جیسے پتیلی دیگچہ بڑی دیگ سینی لگن اور کھانے پینے کے برتن اور رہنے سہنے کا مکان اور پہننے کے کپڑے سچے موتیوں کا ہار وغیرہ ان چیزوں میں زکوٰۃ واجب نہیں چاہے جتنا ہو اور چاہے روز مرہ کے کاروبار میں آتا ہو یا نہ آتا ہو کسی طرح زکوٰۃ واجب نہیں۔ ہاں اگر یہ سوداگری کا اسباب ہو تو پھر اس میں زکوٰۃ واجب ہے۔ خلاصہ یہ کہ سونے چاندی کے سوا اور جتنا مال اسباب ہو اگر وہ سوداگری کا اسباب ہے تو زکوٰۃ واجب ہے نہیں تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس دس پانچ گھر ہیں ان کو کرایہ پر چلاتی ہے تو ان مکانوں پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں چاہے جتنی قیمت کے ہوں۔ ایسے ہی اگر کسی نے دوچار سو روپے کے برتن خرید لیے اور ان کو کرایہ پر چلاتی رہتی ہے تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں غرضیکہ کرایہ پر چلانے سے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔

مسئلہ۔ پہننے کے دھراؤ جوڑے چاہے جتنے زیادہ قیمتی ہوں اس میں زکوٰۃ واجب نہیں لیکن اگر ان میں سچا کام ہے اور اتنا کام ہے کہ اگر چاندی چھڑائی جائے تو ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ نکلے گی تو اس چاندی پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس کچھ چاندی یا سونا ہے اور کچھ سوداگری کا مال ہے تو سب کو ملا کر دیکھو اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو واجب نہیں۔

مسئلہ۔ سوداگری کا مال وہ کہلائے گا جس کو اسی ارادہ سے مول لیا ہو کہ اس کی سوداگری کریں گے تو اگر کسی نے اپنے گھر کے خرچ کے لیے یا شادی وغیرہ کے خرچ کے لیے چاول مول لیے پھر ارادہ ہو گیا کہ لاؤ اس کی سوداگری کر لیں تو یہ مال سوداگری کا نہیں ہے اور اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی پر تمہارا قرض آتا ہے تو اس قرض پر بھی زکوٰۃ واجب ہے لیکن قرض کی تین قسمیں ہیں ایک یہ کہ نقد روپیہ یا سونا چاندی کسی کو قرض دیا یا سوداگری کا اسباب بیچا اس کی قیمت باقی ہے اور ایک سال کے بعد یا دو تین برس کے بعد وصول ہوا تو اگر اتنی مقدار ہو جنتی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو ان سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر یکمشت نہ وصول ہو تو جب اس میں گیارہ تولہ چاندی کی قیمت وصول ہو تب اتنے کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے اور اگر گیارہ تولہ چاندی کی قیمت بھی متفرق ہی ہو کر ملے تو جب بھی یہ مقدار پوری ہو جائے اتنی مقدار کی زکوٰۃ ادا کرتی رہے اور جب دے تو سب برسوں کی دے اور اگر قرضہ اس سے کم ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی البتہ اگر اس کے پاس کچھ اور مال بھی ہو اور دونوں ملا کر مقدار پوری ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی۔

مسئلہ۔ اور اگر نقد نہیں دیا نہ سوداگری کا مال بیچا بلکہ کوئی اور چیز بیچی تھی جو سوداگری کی نہ تھی جیسے پہننے کے کپڑے بیچ ڈالے یا گھرہستی کا اسباب بیچ دیا یا اس کی قیمت باقی ہے اور اتنی ہے جتنی میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے پھر وہ قیمت کئی برس کے بعد وصول ہو تو سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر سب ایک دفعہ کر کے نہ وصول ہو بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے ملے تو جب تک اتنی رقم نہ وصول ہو جائے جو نرخ بازار سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہو تب تک زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ جب مذکورہ رقم وصول ہو تو سب برسوں کی زکوٰۃ کا حساب ملنے کے دن سے ہے پچھلے برسوں کی زکوٰۃ واجب نہیں بلکہ اگر اب اس کے پاس رکھا رہے اور اس پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی نہیں تو واجب نہیں۔

مسئلہ۔ اگر کوئی مالدار آدمی جس پر زکوٰۃ واجب ہے سال گزرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دے اور سال کے پورے ہونے کا انتظار نہ کرے تو یہ بھی جائز ہے اور زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے اور اگر مالدار نہیں ہے بلکہ کہیں سے مال ملنے کی امید تھی اس امید پر مال ملنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دی تو یہ زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ جب مال مل جائے اور اس پر سال گزر جائے تو پھر زکوٰۃ دینا چاہیے۔

مسئلہ۔ مالدار آدمی اگر کئی سال کی زکوٰۃ پیشگی دے دے یہ بھی جائز ہے لیکن اگر کسی سال مال بڑھ گیا تو بڑھتی کی زکوٰۃ پھر دینا پڑے گی۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس سو روپے ضرورت سے زیادہ رکھے ہوئے ہیں اور سو روپے کہیں اور سے ملنے کی امید ہے اس نے پورے دو سو روپے کی زکوٰۃ سال پورا ہونے سے پہلے پیشگی دے دی یہ بھی درست ہے لیکن اگر ختم سال پر روپیہ نصاب سے کم ہو گیا تو زکوٰۃ معاف ہو گئی اور وہ دیا ہوا صدقہ نافلہ ہو گیا۔

مسئلہ۔ کسی کے مال پر پورا سال گزر گیا لیکن ابھی زکوٰۃ نہیں نکالی تھی کہ سارا مال چوری ہو گیا یا اور کسی طرح سے جاتا رہا تو زکوٰۃ بھی معاف ہو گئی۔ اگر خود اپنا مال کسی کو دے دیا یا اور کسی طرح اپنے اختیار سے ہلاک کر ڈالا تو جتنی زکوٰۃ واجب ہوئی تھی وہ معاف نہیں ہوئی بلکہ دینا پڑے گی۔

مسئلہ۔ سال پورا ہونے کے بعد کسی نے اپنا سارا مال خیرات کر دیا تب بھی زکوٰۃ معاف ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس دو سو روپے تھے ایک سال کے بعد اس میں سے ایک سو چوری ہو گئے یا ایک سو روپے خیرات کر دیئے تو ایک سو کی زکوٰۃ معاف ہو گئی فقط ایک سو کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔

اعتکاف کا بیان

رمضان شریف کی بیسویں تاریخ کے دن چھپنے سے ذرا پہلے سے رمضان کی انتیس یا تیس تاریخ یعنی جس دن عید کا چاند نظر آ جائے اس تاریخ کے دن چھپنے تک اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھنے کے لیے جگہ مقرر کر رکھی ہو اس جگہ پر پابندی سے جم کر بیٹھے اس کو اعتکاف کہتے ہیں اس کا بڑا ثواب ہے اگر اعتکاف شروع کرے تو فقط پیشاب پاخانہ یا کھانے پینے کی ناچاری سے تو وہاں سے اٹھنا درست ہے اور اگر کوئی کھانا پانی دینے والا ہو تو اس کے لیے بھی نہ اٹھے۔ ہر وقت اسی جگہ رہے اور وہیں سو وے اور بہتر یہ ہے کہ بیکار نہ رہے قرآن پڑھتی رہے نفلیں اور تسبیحیں جو توفیق ہو اس میں لگی رہے اور اگر حیض یا نفاس آ جائے تو اعتکاف چھوڑ دے اس یں  درست نہیں اور اعتکاف میں مرد سے ہمبستر ہونا لپٹنا چمٹنا بھی درست نہیں۔

فدیہ کا بیان

مسئلہ۔ جس کو اتنا بڑھاپا ہو گیا ہو کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی یا اتنی بیمار ہے کہ اب اچھے ہونے کی امید نہیں نہ روزے رکھنے کی طاقت ہے تو وہ روزے نہ رکھے اور ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو صدقہ فطر کے برابر غلہ دے دے یا صبح شام پیٹ بھر کے اس کو کھلا دے شرع میں اس کو فدیہ کہتے ہیں اور اگر غلہ کے بدلے اسی قدر غلہ کی قیمت دے دے تب بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ وہ گیہوں اگر تھوڑے تھوڑے کر کے کئی مسکینوں کو بانٹ دیے تو بھی صحیح ہے۔

مسئلہ۔ پھر اگر کبھی طاقت آ گئی یا بیماری سے اچھی ہو گئی تو سب روزے قضا رکھنے پڑیں گے اور جو فدیہ دیا ہے اس کا ثواب الگ ملے گا۔

مسئلہ۔ کسی کے ذمہ کئی روزے قضا تھے اور مرتے وقت وصیت کر گئی کہ میرے روزوں کے بدلے فدیہ دے دینا تو اس کے مال میں اس کا ولی فدیہ دے دے اور کفن دفن اور قرض ادا کر کے جتنا مال بچے اس کی ایک تہائی میں سے اگر سب فدیہ نکل آئے تو دینا واجب ہو گا۔

مسئلہ۔ اگر اس نے وصیت نہیں کی مگر ولی نے اپنے مال میں سے فدیہ دے دیا تب بھی خدا سے امید رکھے کہ شاید قبول کر لے اور اب روزوں کا مواخذہ نہ کرے اور بغیر وصیت کیے خود مردے کے مال میں سے فدیہ دینا جائز نہیں ہے اسی طرح اگر تہائی مال سے فدیہ زیادہ ہو جائے تو باوجود وصیت کے بھی زیادہ دینا بدون رضا مندی سب وارثوں کے جائز نہیں ہاں اگر سب وارث خوش دل سے راضی ہو جائیں تو دونوں صورتوں میں فدیہ دینا درست ہے لیک نابالغ وارث کی اجازت کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں۔ بالغ وارث اپنا حصہ جدا کر کے اس میں سے دے دیں تو درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کس کی نماز قضا ہو گئی ہوں اور وصیت کر کے مر گئی کہ میری نمازوں کے بدلے میں فدیہ دے دینا اس کا بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ۔ ہر وقت کی نماز کا اتنا ہی فدیہ ہے جتنا ایک روزہ کا فدیہ ہے اس حساب سے دن رات کے پانچ فرض اور ایک وتر چھ نمازوں کی طرف سے ایک چھٹانک کم پونے گیارہ سیر گہیوں اسی روپے کے سیر سے دے مگر احتیاطا پورے بارہ سیر دے۔

مسئلہ۔ کسی کے ذمہ زکوٰۃ باقی ہے ابھی ادا نہیں کی تو وصیت کر جانے سے اس کا بھی ادا کر دینا وارثوں پر واجب ہے۔ اگر وصیت نہیں کی اور وارثوں نے اپنی خوشی سے دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔

مسئلہ۔ اگر ولی مردے کی طرف سے قضا روزے رکھ لے یا اس کی طرف سے قضا نمازیں پڑھ لے تو یہ درست نہیں یعنی اس کے ذمہ سے نہ اتریں گی۔

مسئلہ۔ بے وجہ رمضان کا روزہ چھوڑ دینا درست نہیں اور بڑا گناہ ہے یہ نہ سمجھے کہ اس کے بدلے ایک روزہ قضا رکھ لوں گی کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رمضان کے ایک روزے کے بدلے میں اگر سال برابر روزے رکھتی رہے تب بھی اتنا ثواب نہ ملے گا جتنا رمضان میں ایک روزے کا ثواب ملتا ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی نے شامت اعمال سے روزہ نہ رکھا تو اور لوگوں کے سامنے کچھ کھائے نہ پئے نہ یہ ظاہر کرے کہ آج میرا روزہ نہیں ہے اس لیے کہ گناہ کر کے اس کو ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اگر سب سے کہہ دے گی تو دہرا گناہ ہو گا۔ ایک تو روزہ نہ رکھنے کا دوسرا گناہ ظاہر کرنے کا۔ یہ جو مشہور ہے کہ خدا کی چوری نہیں تو بندہ کی کیا چوری یہ غلط بات ہے بلکہ جو کسی عذر سے روزہ نہ رکھے اس کو بھی مناسب ہے کہ سب کے روبرو نہ کھائے۔

مسئلہ۔ جب لڑکا یا لڑکی روزہ رکھنے کے لائق ہو جائیں تو ان کو بھی روزہ کا حکم کرے اور جب دس برس کی عمر ہو جائے تو مار کر روزہ رکھائے اگر سارے روزے نہ رکھ سکے تو جتنے رکھ سکے رکھائے۔

مسئلہ۔ اگر نابالغ لڑکا لڑکی روزہ رکھ کے توڑ ڈالے تو اس کی قضا نہ رکھائے۔ البتہ اگر نماز کی نیت کر کے توڑ دے تو اس کو دہرائے۔

جن وجہوں سے روزہ توڑ دینا جائز نہیں ان کا بیان

مسئلہ۔ اگر ایسی بیماری ہے کہ روزہ نقصان کرتا ہے اور یہ ڈر ہے کہ اگر روزہ رکھے گی تو بیماری پڑھ جائے گی یا دیر میں اچھی ہو گی یا جان جاتی رہے گی تو روزہ نہ رکھے جب اچھی ہو جائے گی تو اس کی قضا رکھ لے لیکن فقط اپنے دل سے ایسا خیال کر لینے سے روزہ چھوڑ دینا درست نہیں ہے بلکہ جب کوئی مسلمان دیندار طبیب کہہ دے کہ روزہ تم کو نقصان کرے گا تب چھوڑنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر حکیم یا ڈاکٹر کافر ہے یا شرع کا پابند نہیں ہے تو اس کی بات کا اعتبار نہیں ہے فقط اس کے کہنے سے روزہ نہ چھوڑے۔

مسئلہ۔ اگر حکیم نے کچھ کہا نہیں لیکن خود اپنا تجربہ ہے اور کچھ ایسی نشانیاں معلوم ہوئیں جن کی وجہ سے دل گواہی دیتا ہے کہ روزہ نقصان کرے گا تب بھی روزہ نہ رکھے اور اگر خود تجربہ کار نہ ہو اور اس بیماری کا کچھ حال معلوم نہ ہو تو فقط خیال کا اعتبار نہیں۔ اگر دیندار حکیم کے بغیر بتائے اور بے تجربے کے اپنا خیال ہی خیال پر رمضان کا روزہ توڑے گی تو کفارہ دینا پڑے گا۔ اور اگر روزہ نہ رکھے گی تو گنہگار ہو گی۔

مسئلہ۔ اگر بیماری سے اچھی ہو گئی لیکن ابھی ضعف باقی ہے اور یہ غالب گمان ہے کہ اگر روزہ رکھا تو پھر بیمار پڑ جائے گی تب بھی روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی مسافرت میں ہو تو اس کو بھی درست ہے کہ روزہ نہ رکھے پھر کبھی اس کی قضا رکھ لے اور مسافرت کے معنے وہی ہیں جس کا نماز کے بیان میں ذکر ہو چکا ہے یعنی تین منزل جانے کا قصد ہو۔

مسئلہ۔ مسافرت میں اگر روزے سے کوئی تکلیف نہ ہو جیسے ریل پر سوار ہے اور یہ خیال ہے کہ شام تک گھر پہنچ جاؤں گی یا اپنے ساتھ سب راحت و آرام کا سامان موجود ہے تو ایسے وقت سفر میں بھی روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔ اور اگر روزہ نہ رکھے تب بھی کوئی گناہ نہیں۔ ہاں رمضان شریف کے روزے کی جو فضیلت ہے اس سے محروم رہے گی۔ اور اگر راستہ میں روزہ کی وجہ سے تکلیف اور پریشانی ہو تو ایسے وقت روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔

مسئلہ۔ اگر بیماری سے اچھی نہیں ہوئی اس میں مر گئی یا ابھی گھر نہیں پہنچی مسافرت ہی میں مر گئی تو جتنے روزے بیمار یا سفر کی وجہ سے چھوٹے ہیں آخرت میں ان کا مواخذہ نہ ہو گا کیونکہ قضا رکھنے کی مہلت ابھی اس کو نہیں ملی تھی

مسئلہ۔ اگر بیماری میں دس روزے گئے تھے پھر پانچ دن اچھی رہی لیکن قضا روزے نہیں رکھے تو پانچ روزے معاف ہیں فقط پانچ روزوں کی قضا نہ رکھنے پر پکڑی جائے گی۔ اور اگر پورے دس دن اچھی رہی تو پورے دسوں دن کی پکڑ ہو گئی اس لیے ضروری ہے کہ جتنے روزوں کا مواخذہ اس پر ہونے والا ہے اتنے دنوں کا فدیہ دینے کے لیے کہہ مرے جبکہ اس کے پاس مال ہو اور فدیہ کا بیان آگے آتا ہے۔

مسئلہ۔ اسی طرح اگر مسافرت میں روزے چھوڑ دیئے تھے پھر گھر پہنچنے کے بعد مر گئی تو جتنے دن گھر میں رہی ہے فقط اتنے دن کی پکڑ ہو گی اس کو بھی چاہیے کہ فدیہ کی وصیت کر جائے۔ اگر روزے گھر رہنے کی مدت سے زیادہ چھوٹے ہوں تو ان کا مواخذ نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر راستہ میں پندرہ دن رہنے کی نیت سے ٹھیر گئی تو اب روزہ چھوڑنا درست نہیں کیونکہ شرع سے اب وہ مسافر نہیں رہی۔ البتہ اگر پندرہ دن سے کم ٹھیرنے کی نیت ہو تو روزہ رکھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو جب اپنی جان کا یا بچہ کی جان کا کچھ ڈر ہو تو روزہ نہ رکھے پھر کبھی قضا رکھ لے لیکن اگر اپنا شوہر مالدار ہے کہ کوئی انا رکھ کر دودھ پلوا سکتا ہے تو دودھ پلانے کی وجہ سے ماں کو روزہ چھوڑنا درست نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ ایسا بچہ ہے کہ سوائے اپنی ماں کے کسی اور کا دودھ نہیں پیتا ہے تو ایسے وقت ماں کو روزہ نہ رکھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی انا نے دودھ پلانے کی نوکری کی پھر رمضان آ گیا اور روزہ سے بچہ کی جان کا ڈر ہے تو انا کو بھی روزا نہ رکھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ اسی طرح اگر کوئی دن کو مسلمان ہوئی یا دن کو جوان ہوئی تو اب دن بھر کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے اور اگر کچھ کھا لیا تو اس روزہ کی قضا رکھنا بھی نئی مسلمان اور نئی جوان کے ذمہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ۔ مسافرت میں روزہ نہ رکھنے کا ارادہ تھا لیکن دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے ہی اپنے گھر پہنچ گئی یا ایسے وقت میں پندرہ دن رہنے کی نیت سے کہیں رہ پڑی اور اب تک کچھ کھایا پیا نہیں ہے تو اب روزہ کی نیت کر لے۔

کفارہ کے بیان

مسئلہ۔ رمضان شریف کے روزے توڑ ڈالنے کا کفارہ یہ ہے کہ دو مہینے برابر لگاتار روزے رکھے تھوڑے تھوڑے کر کے روزے رکھنے درست نہیں اگر کسی وجہ سے بیچ میں دو ایک روزے نہیں رکھے تو اب پھر سے دو مہینے کے روزے رکھے ہاں جتنے روزے حیض کی وجہ سے جاتے رہے ہیں وہ معاف ہیں ان کے چھوٹ جانے سے کفارہ میں کچھ نقصان نہیں آیا لیکن پاک ہونے کے بعد ترت پھر روزے رکھنے شروع کرے اور ساٹھ روزے پورے کر لے۔

مسئلہ۔ نفاس کی وجہ سے بیچ میں روزے چھوٹ گئے پورے روزے لگاتار نہیں رکھ سکی تو بھی کفارہ صحیح نہیں ہوا سب روزے پھر سے رکھے۔

مسئلہ۔ اگر دکھ بیماری کی وجہ سے بیچ میں کفارے کے کچھ روزے چھوٹ گئے تب بھی تندرست ہونے کے بعد پھر سے روزے رکھنے شروع کرے۔

مسئلہ۔ اگر بیچ میں رمضان کا مہینہ آ گیا تب بھی کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر کسی کو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ساٹھ مسکینوں کو صبح شام پیٹ بھر کے کھانا کھلا دے جتنا ان کے پیٹ میں سمائے خون تن کر کھا لیں۔

مسئلہ۔ ان مسکینوں میں اگر بعضے بالکل چھوٹے بچے ہوں تو جائز نہیں ان بچوں کے بدلے اور مسکینوں کو پھر کھلا دے۔

مسئلہ۔ اگر گیہوں کی روٹی ہو تو روکھی روٹی کھلانا بھی درست ہے اور اگر جوء باجرہ جوار وغیرہ کی روٹی ہو تو اس کے ساتھ کچھ دال وغیرہ دینا چاہے جس کے ساتھ روٹی کھائیں۔

مسئلہ۔ مگر کھانا نہ کھلائے بلکہ ساٹھ مسکینوں کو کچا اناج دے دے تو بھی جائز ہے ہر ایک مسکین کو اتنا اتنا دے جتنا صدقہ فطر دیا جاتا ہے اور صدقہ فطر کا بیان زکوٰۃ کے باب میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالی۔

مسئلہ۔ اگر اتنے اناج کی قیمت دے دے تو بھی جائز ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی اور سے کہہ دیا کہ تم میری طرف سے کفارہ ادا کر دو اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اور اس نے اس کی طرف سے کھانا کھلا دیا یا کچا اناج دے دیا تب بھی کفارہ ادا ہو گیا اور اگر بے اس کے کہے کسی نے اس کی طرف سے دیے دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر ایک ہی مسکین کو ساٹھ دن تک صبح و شام کھانا کھلا دیا یا ساٹھ دن تک کچا اناج یا قیمت دییں رہی تب بھی کفارہ صحیح ہو گیا۔

مسئلہ۔ اگر ساٹھ دن تک لگاتار کھانا نہیں کھلایا بلکہ بیچ میں کچھ دن ناغہ ہو گئے تو کچھ حرج نہیں یہ بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر ساٹھ دن کا اناج حساب کر کے ایک فقیر کو ایک ہی دن دے دیا تو درست نہیں۔ اسی طرح ایک ہی فقیر کو ایک ہی دن اگر ساٹھ دفعہ کر کے دے دیا تب بھی ایک ہی دن کا ادا ہوا ایک کم ساٹھ مسکینوں کو پھر دینا چاہیے اسی طرح قیمت دینے کا بھی حکم ہے یعنی ایک دن میں ایک مسکین کو ایک روزے کے بدلے سے زیادہ دینا درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر کسی فقیر کو صدقہ فطر کی مقدار سے کم دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر ایک ہی رمضان کے دو یا تین روزے توڑ ڈالے تو ایک ہی کفارہ واجب ہے۔ البتہ اگر یہ دونوں روزے ایک رمضان کے نہ ہوں تو الگ الگ کفارہ دینا پڑے گا۔

سحری کھانے اور افطار کرنے کا بیان

مسئلہ1۔ سحری کھانا سنت ہے اگر بھوک نہ ہو اور کھانا نہ کھائے تو کم سے کم دو تین چھوہارے ہی کھا لے۔ یا کوئی اور چیز تھوڑی بہت کھا لے کچھ نہ سہی تو تھوڑا سا پانی ہی پی لے۔

مسئلہ3۔ اگر کسی نے سحری نہ کھائی اور اٹھ کر ایک آدھ پان کھا لیا تو بھی سحری کھانے کا ثواب مل گیا۔

مسئلہ4۔ سحری میں جہاں تک ہو سکے دیر کر کے کھانا بہتر ہے لیکن اتنی دیر نہ کرے کہ صبح ہونے لگے اور روزہ میں شبہ پڑ جائے۔

مسئلہ 5۔ اگر سحری بڑی جلدی کھا لی مگر اس کے بعد پان تمباکو چائے پانی دیر تک کھاتی پیتی رہی جب صبح ہونے میں تھوڑی دیر رہ گئی تب کلی کر ڈالی تب بھی دیر کر کے کھانے کا ثواب مل گیا اور اس کا بھی وہی حکم ہے جو دیر کر کے کھانے کا حکم ہے۔

مسئلہ 6۔ اگ رات کو سحری کھانے کے لیے آنکھ نہ کھلی سب کے سب سو گئے تو بے سحری کھائے صبح کا روزہ رکھو سحری چھوٹ جانے سے روزہ چھوڑ دینا بڑی کم ہمتی کی بات اور بڑا گناہ ہے۔

مسئلہ 7۔ جب تک صبح نہ ہو اور فجر کا وقت نہ آئے جس کا بیان نمازوں کے وقتوں میں گزر چکا ہے تب تک سحری کھانا درست ہے اس کے بعد درست نہیں۔

مسئلہ 8۔ کسی کی آنکھ دیر میں کھلی اور یہ خیال ہوا کہ ابھی رات باقی ہے اس گمان پر سحری کھالی پھر معلوم ہوا کہ صبح ہو جانے کے بعد سحری کھائی تھی تو روزہ نہیں ہوا قضا رکھے اور کفارہ واجب نہیں لیکن پھر بھی کچھ کھائے پئے نہیں روزہ داروں کی طرح رہے۔ اسی طرح اگر سورج ڈوبنے کے گمان سے روزہ کھول لیا پھر سورج نکل آیا تو روزہ جاتا رہا اس کی قضا کرے کفارہ واجب نہیں اور جب تک سورج نہ ڈوب جائے کچھ کھانا پینا درست نہیں۔

مسئلہ9۔ اگر اتنی دیر ہو گئی کہ صبح ہو جانے کا شبہ پڑ گیا تو اب کچھ کھانا مکروہ ہے اور اگر ایسے وقت کچھ کھا لیا یا پانی پی لیا تو برا کیا اور گناہ ہوا۔ پھر اگر معلوم ہو گیا کہ اس وقت صبح ہو گئی تھی تو اس روزہ کی قضا رکھے اور اگر کچھ نہ معلوم ہو شبہ ہی شبہ رہ جائے تو قضا رکھنا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط کی بات یہ ہے کہ اس کی قضا رکھ لے۔

مسئلہ10۔ مستحب یہ ہے کہ جب سورج یقیناً ڈوب جائے تو ترت روزہ کھول ڈالے دیر کر کے روزہ کھولنا مکروہ ہے۔

مسئلہ11۔ بدلی کے دن ذرا دیر کر کے روزہ کھولو جب خوب یقین ہو جائے کہ سورج ڈوب گیا ہو گا تب افطار کرو اور صرف گھڑی گھڑیاں وغیرہ پر کچھ اعتماد نہ کرو جب تک کہ تمہارا دل گواہی نہ دے دے کیونکہ گھڑی شاید کچھ غلط ہو گئی ہو بلکہ اگر کوئی اذان بھی کہہ دے لیکن ابھی وقت آنے میں کچھ شبہ ہے تب بھی روزہ کھولنا درست نہیں۔

مسئلہ12۔ چھوہارے سے روزہ کھولنا بہتر ہے اور اور کوئی میٹھی چیز ہو اس سے کھولے وہ بھی نہ ہو تو پانی سے افطار کرے بعضی عورتیں اور بعضے مرد نمک کی کنکری سے افطار کرتے ہیں اور اس میں ثواب سمجھتے ہیں یہ غلط عقیدہ ہے۔

مسئلہ13۔ جب تک سورج کے ڈوبنے میں شبہ رہے تب تک افطار کرنا جائز نہیں۔

جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور جن سے ٹوٹ جاتا ہے

مسئلہ 1۔ اگر روزہ دار بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے یا بھولے سے خاوند سے ہمبستر ہو جائے تو اس کا روزہ نہیں گیا۔ اگر بھول کر پیٹ بھر بھی کھا پی لے تب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر بھول کر کئی دفعہ کھا پی لیا تب بھی روزہ نہیں گیا۔

مسئلہ۔ ایک شخص کو بھول کر کچھ کھاتے پیتے دیکھا تو اگر وہ اس قدر طاقت دار ہے کہ روزہ سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تو روزہ یاد دلا دینا واجب ہے اور اگر کوئی نا طاقت ہو کہ روزہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اس کو یاد نہ دلائے کھانے دے۔

مسئلہ 4۔ دن کو سرمہ لگانا تیل لگانا خوشبو سونگھنا درست ہے اس سے روزہ میں کچھ نقصان نہیں آتا چاہے جس وقت ہو۔ بلکہ اگر سرمہ لگانے کے بعد تھوک میں یا رینٹھ میں سرمہ کا رنگ دکھائی دے تو بھی روزہ نہیں گیا نہ مکروہ ہوا۔

مسئلہ 6۔ حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا آپ ہی آپ دھواں چلا گیا یا گرد و غبار چلا گیا تو روزہ نہیں گیا البتہ اگر قصداً ایسا کیا تو روزہ جاتا رہا۔

مسئلہ 7۔ لوبان وغیرہ کوئی دھونی سلگائی پھر اس کو اپنے پاس رکھ کر سونگھا تو روزہ جاتا رہا۔ اسی طرح حقہ پینے سے بھی روزہ جاتا رہتا ہے۔ البتہ اس دھوئیں کے سوا عطر کیوڑھ گلاب پھول وغیرہ اور خوشبو سونگھنا جس میں دھواں نہ ہو درست ہے۔

مسئلہ 8۔ دانتوں میں گوشت کا ریشہ اٹکا ہوا تھا یا ڈلی کا دھرا وغیرہ کوئی اور چیز تھی اس کو خلال سے نکال کر کھا گئی لیکن منہ سے باہر نہیں نکالا آپ ہی آپ حلق میں چلی گئی تو دیکھو اگر چنے سے کم ہے تب تو روزہ نہیں گیا اور اگر چنے کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو جاتا رہا البتہ اگر منہ سے باہر نکال لیا تھا پھر اس کے بعد نگل گئی تو ہر حال میں روزہ ٹوٹ گیا چاہے وہ چیز چنے کی برابر ہو یا اس سے بھی کم ہو دونوں کا ایک حکم ہے۔

مسئلہ 9۔ تھوک نگلنے سے روزہ نہیں جاتا چاہے جتنا ہو۔

مسئلہ۔ اگر پان کھا کر خوب کلی غرغرہ کر کے منہ صاف کر لیا لیکن تھوک کی سرخی نہیں گئی تو اس کا کچھ حرج نہیں روزہ ہو گیا (ق)

مسئلہ 29۔ کسی نے بھولے سے کچھ کھا لیا اور یوں سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس وجہ سے پھر قصداً کچھ کھا لیا تو اب روزہ جاتا رہا فقط قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔

مسئلہ 30۔ اگر کسی کو قے ہوئی اور وہ سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس گمان پر پھر قصداً کھا لیا اور روزہ توڑ دیا تو بھی قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔

مسئلہ 31۔ اگر سرمہ لگایا یا فصد لی یا تیل ڈالا پھر سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اور پھر قصداً کھا لیا تو قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں

مسئلہ 32۔ رمضان کے مہینے میں اگر کسی کا روزہ اتفاقا ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے سارے دن روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے۔

مسئلہ 33۔ کسی نے رمضان میں روزہ کی نیت ہی نہیں کی اس لیے کھاتی پیتی رہی اس پر کفارہ واجب نہیں۔ کفارہ جب ہے کہ نیت کر کے توڑ دے۔