ادھار لینے کا بیان

مسئلہ۔ کسی نے اگر کوئی سودا ادھار خریدا تو یہ بھی درست ہے لیکن اتنی بات ضروری ہے کہ کچھ مدت مقرر کر کے کہہ دے کہ پندرہ دن میں یا مہینے بھر میں یا چار مہینے میں تمہارے دام دے دوں گی اگر کچھ مدت مقرر نہیں کی مطلقا اتنا کہہ دیا کہ ابھی دام نہیں ہیں پھر دے دوں گی۔ سو اگر یوں کہا ہے کہ میں اس شرط سے خریدتی ہوں کہ دام پھر دوں گی تو بیع فاسد ہو گئی اور اگر خریدنے کے اندر یہ شرط نہیں لگائی خرید کر کہہ دیا کہ دام پھر دوں گی تو کچھ ڈر نہیں اور اگر نہ خریدنے کے اندر کچھ کہا نہ خرید کر کچھ کہا تب بھی بیع درست ہو گئی۔ اور ان دونوں صورتوں میں اس چیز کے دام ابھی دینا پڑیں گے۔ ہاں اگر بیچنے والی کچھ دن کی مہلت دے دے تو اور بات ہے لیکن اگر مہلت نہ دے اور ابھی دام مانگے تو دینا پڑیں گے۔

مسئلہ۔ کسی نے خریدتے وقت یوں کہا کہ فلانی چیز ہم کو دے دو جب خرچ آئے گا تب آدا لے لینا یا یوں کہا جب میرا بھائی آئے گا تب دے دوں گی یا یوں کہا جب کھیتی کٹے گی تب دے دوں گی یا اس نے اس طرح کہا بی بی تم لے لو جب جی چاہے دام دے دینا یہ بیع فاسد ہو گئی بلکہ کچھ نہ کچھ مدت مقرر کر کے لینا چاہیے اور اگر خرید کر ایسی بات کہہ دی تو بیع ہو گئی اور سودے والی کو اختیار ہے کہ ابھی دام مانگ لے لیکن صرف کھیتی کٹنے کے مسئلہ میں کہ اس صورت میں کھیتی کٹنے سے پہلے نہیں مانگ سکتی۔

مسئلہ۔ نقد داموں پر ایک روپیہ کے بیس سیر گیہوں بکتے ہیں مگر کسی کو ادھار لینے کی وجہ سے اس نے روپیہ کے پندرہ سیر گیہوں دیئے تو یہ بیع درست ہے مگر اسی وقت معلوم ہو جانا چاہیے کہ ادھارمول لے گی۔ مسئلہ۔ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ خریدار سے اول پوچھ لیا ہو کہ نقد لو گے یا ادھار۔ اگر اس نے نقد کہا تو بیس سیر دے دیئے اور اگر ادھار کہا تو پندرہ سیر دے دیئے۔ اور اگر معاملہ اس طرح کیا کہ خریدار سے یوں کہا کہ اگر نقد لو گے تو ایک روپیہ کے بیس سیر ہوں گے اور ادھار لو گے تو پندرہ سیر ہوں گے یہ جائز نہیں۔

مسئلہ۔ ایک مہینے کے وعدے پر کوئی چیز خریدی پھر ایک مہینہ ہو چکا۔ تب کہہ سن کر کچھ اور مدت بڑھوالی کہ پندرہ دن کی مہلت اور دے دے تو تمہارے دام ادا کر دوں گا۔ اور وہ بیچنے والی بھی اس پر رضا مند ہو گئی تو پندرہ دن کی مہلت اور مل گئی اور اگر وہ راضی نہ ہو تو ابھی مانگ سکتی ہے۔

مسئلہ۔ جب اپنے پاس دام موجود ہوں تو ناحق کسی کو ٹالنا کہ آج نہیں کل آنا۔ اس وقت نہیں اس وقت آنا ابھی روپیہ توڑوایا نہیں ہے جب توڑوایا جائے گا تب دام ملیں گے یہ سب باتیں حرام ہیں جب وہ مانگے اسی وقت روپیہ توڑ کر دام دے دینا چاہیے۔ ہاں البتہ اگر ادھار خریدا ہے تو جتنے دن کے وعدے پر خریدا ہے اتنے دن کے بعد دینا واجب ہو گا اب وعدہ پورا ہونے کے بعد ٹالنا اور دوڑانا جائز نہیں ہے لیکن اگر سچ مچ اس کے پاس ہیں ہی نہیں۔ نہ کہیں سے بندوبست کر سکتی ہے تو مجبوری ہے جب آئے اس وقت نہ ٹالے۔

سودا معلوم ہونے کا بیان

مسئلہ۔ اناج غلہ وغیرہ سب چیزوں میں اختیار ہے چاہے تول کے حساب سے لے اور یوں کہہ دے کہ ایک روپے کے بیس سیر گیہوں میں نے خریدے اور چاہے یوں ہی مول کر کے لے لیوے اور یوں کہہ دے کہ گیہوں کی یہ ڈھیری میں نے ایک روپیہ کو خریدی پھر اس ڈھیری میں چاہے جتنے گیہوں نکلیں سب اسی کے ہیں۔ مسئلہ۔ کنڈے میں  امرود نارنگی وغیرہ میں بھی اختیار ہے کہ گنتی کے حساب سے لے یا ویسے ہی ڈھیر کاموں کو کر لے۔ اگر ایک ٹوکری کے سب آم اس نے خرید لیے اور گنتی اس کی کچھ معلوم نہیں کہ کتنے ہیں تو بیع درست ہے اور سب آم اسی کے ہیں چاہے کم نکلیں چاہے زیادہ۔ مسئلہ۔ کوئی عورت بیر وغیرہ کوئی چیز بیچنے آئی اس سے کہا کہ ایک پیسہ کو اس اینٹ کے برابر تول دے اور وہ بھی اس اینٹ کے برابر تول دینے پر راضی ہو گئی اور اس اینٹ کا وزن کسی کو نہیں معلوم کہ کتنی بھاری نکلے گی تو یہ بیع بھی درست ہے۔ مسئلہ۔ آم کا یا امرود نارنگی وغیرہ کا پورا ٹوکرا ایک روپے کو اس شرط پر خریدا کہ اس میں چار سو آم ہیں پھر جب گنے گئے تو اس میں تین سو ہی نکلے۔ لینے والی کو اختیار ہے چاہے لے چاہے نہ لے اگر لے گی تو پورا ایک روپیہ نہ دینا پڑے گا بلکہ ایک سیکڑے کے دام کم کر کے فقط بارہ نے دے اور اگر ساڑھے تین سو نکلیں تو چودہ آنے دے غرضیکہ جتنے آم کم ہوں اتنے دام بھی کم ہو جائیں گے اور اگر اس ٹوکرے میں چار سو سے زیادہ آم ہوں تو جتنے زیادہ ہیں وہ بیچنے والی کے ہیں اس کو چار سو سے زیادہ لینے کا حق نہیں ہے ہاں اگر پورا ٹوکرا خرید لیا اور کچھ مقرر نہیں کیا کہ اس میں کتنے آم ہیں تو جو کچھ نکلے سب اسی کا ہے چاہے کم نکلیں اور چاہے زیادہ۔ مسئلہ۔ بنارسی ڈوپٹہ یا چکن کا دوپٹہ یا پلنگ پوش یا زار بند وغیرہ کوئی ایسا کپڑا خریدا کہ اگر اس میں سے کچھ پھاڑ لیں تو نکما اور خراب ہو جائے گا۔

اور خریدتے وقت یہ شرط کر لی تھی کہ یہ دوپٹہ تین گزر کا ہے پھر جب ناپا تو کچھ کم نکلا تو جتنا کم نکلا ہے اس کے بدلے میں دام نہ کم ہوں گے بلکہ جتنے دام طے ہوئے ہیں وہ پورے دینا پڑیں گے۔ ہاں کم نکلنے کی وجہ سے بس اتنی رعایت کی جائے گی کہ دونوں طرف سے پکی بیع ہو جانے پر بھی اس کو اختیار ہے چاہے لے چاہے نہ لے اور اگر کچھ زیادہ نکلا تو وہ بھی اسی کا ہے اور اس کے بدلے میں دام کچھ زیادہ دینا نہ پڑیں گے۔ مسئلہ۔ کسی نے رات کو دو ریشمی ازار بند ایک روپے کے لیے جب صبح کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ان میں کا سوتی ہے تو دونوں کی بیع جائز نہیں ہوئی نہ ریشمی کی نہ سوتی کی۔ اسی طرح اگر دو انگوٹھیاں شرط کر کے خریدیں کہ دونوں کا رنگ فیروزہ کا ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک میں فیروزہ نہیں ہے کچھ اور ہے تو دونوں کی بیع ناجائز ہے اب اگر ان میں سے ایک کا یا دونوں کا لینا منظور ہو تو اس کی ترکیب یہ ہے کہ پھر سے بات جیت کر کے خریدے۔

بیچنے اور مول لینے کا بیان

مسئلہ 1۔جب ایک شخص نے کہا میں نے یہ چیز اتنے داموں پر بیچ دی اور دوسرے نے کہا میں نے لے لی تو وہ چیز بک گئی اور جس نے مول لیا ہے وہی اس کی مالک بن گئی۔ اب اگر وہ یہ چاہے کہ میں نہ بیچوں اپنے پاس ہی رہنے دوں۔ یا یہ چاہے کہ میں نہ خریدوں تو کچھ نہیں ہو سکتا ہے اس کو دینا پڑے گا اور اس کو لینا پڑے گا اور اس بک جانے کو بیع کہتے ہیں

مسئلہ2۔ ایک نے کہا کہ میں نے یہ چیز دو پیسے کو تمہارے ہاتھ بیچی۔ دوسری نے کہا مجھے منظور ہے یا یوں کہا میں اتنے داموں پر راضی ہوں اچھا میں نے لے لیا تو ان سب باتوں سے وہ چیز بک گئی۔ اب نہ تو بیچنے والے کو یہ اختیار ہے کہ نہ دے اور نہ لینے والے کو یہ اختیار ہے کہ نہ خریدے۔ لیکن یہ حکم اس وقت ہے کہ دونوں طرف سے یہ بات چیت ایک ہی جگہ بیٹے بیٹھے ہوئی ہو۔ اگر ایک نے کہا میں نے یہ چیز چار پیسے کو تمہارے ہاتھ بیچی اور وہ دوسری چار پیسے کا نام سن کر کچھ نہیں بولی اٹھ کھڑی ہوئی ہو یا کسی اور سے صلاح لینے چلی گئی یا اور کسی کام کو چلی گئی اور جگہ بدل گئی تب اس نے کہا اچھا میں نے چار پیسے کو خرید لی تو ابھی وہ چیز نہیں بکی۔ ہاں اگر اس کے بعد وہ بیچنے والی کنجڑن وغیرہ یوں کہہ دے کہ میں نے دے دی یا یوں کہے اچھا لے لو تو البتہ بک جائے گی اسی طرح اگر وہ کنجڑن اٹھ کھڑی ہوئی یا کسی کا م کو چل گئی تب دوسری نے کہا میں نے لے لیا تب بھی وہ چیز نہیں بکی۔ خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ جب ایک ہی جگہ دونوں طرف سے بات چیت ہو گئی تب وہ چیز بکے گی۔

مسئلہ 3۔ کسی نے کہا یہ چیز ایک پیسہ کو دے دو اس نے کہا میں نے دے دی اس میں بیع نہیں ہوئی البتہ اس کے بعد اگر مول لینے والی نے پھر کہہ دیا کہ میں نے لے لیا تو بک گئی۔ مسئلہ

4۔ کسی نے کہا یہ چیز ایک پیسہ کو میں نے لے لی اس نے کہا لے لو تو بیع ہو گئی۔

مسئلہ 5۔ کسی نے کسی چیز کے دام چکا کر اتنے دام اس کے ہاتھ پر رکھے اور وہ چیز اٹھا لی اور اس نے خوشی سے دام لے لیے پھر نہ اس نے زبان سے کہا کہ میں نے اتنے داموں پر یہ چیز بیچی نہ اس نے کہا میں نے خریدی تو اس لین دین ہو جانے سے بھی چیز بک جاتی ہے اور بیع درست ہو جاتی ہے۔

مسئلہ 6۔ کوئی کنجڑن امرود بیچنے آئی بے پوچھے گچھ بڑے بڑے چار امرود اس کی ٹوکری میں سے نکالے اور ایک پیسہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اس نے خوشی سے پیسہ لے لیا تو بیع ہو گئی چاہے زبان سے کسی نے کچھ کہا ہو چاہے نہ کہا ہو۔ مسئلہ 7۔ کسی نے موتیوں کی ایک لڑی کو کہا یہ لڑی دس پیسہ کو تمہارے ہاتھ بیچی۔ اس پر خریدنے والی نے کہا اس میں سے انچ موتی میں نے لے لیے یا یوں کہا آدھے موتی میں نے خرید لیے تو جب تک وہ بیچنے والا اس پر راضی نہ ہو بیع نہیں ہو گی۔ کیونکہ اس نے تو پوری لڑی کا مول کیا ہے تو جب تک وہ راضی نہ ہو لینے والے کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اس میں سے کچھ لے اور کچھ نہ لے اگر لیوے تو پوری لڑی لینا پڑے گی۔ ہاں البتہ اگر اس نے یہ کہہ دیا ہو کہ ہر موتی ایک ایک پیسے کو اس پر اس نے کہا اس میں سے پانچ موتی میں نے خریدے تو پانچ موتی بک گے۔ مسئلہ 8۔ کسی کے پاس چار چیزیں ہیں بجلی بالی بندے پتے۔ اس نے کہا یہ سب میں نے چار آنہ کو بیچا تو اس کی منظوری کے یہ اختیار نہیں ہے کہ بعضی چیزیں لیوے اور بعضی چھوڑ دے کیونکہ وہ سب کو ساتھ ملا کر بیچنا چاہتی ہے ہاں البتہ اگر ہر چیز کی قیمت الگ الگ بتلا دے تو اس میں سے ایک آدھ چیز بھی خرید سکتی ہے۔ مسئلہ 9۔ بیچنے اور مول لینے میں یہ بھی ضروری ہے کہ جو سودا خریدے ہر طرح اس کو صاف کر لے کوئی بات ایسی گول مول نہ رکھے جس سے جھگڑا بکھیڑا پڑے۔ اسی طرح قیمت بھی صاف صاف مقرر اور طے ہو جانا چاہیے۔ اگر دونوں میں سے ایک چیز بھی اچھی طرح معلوم اور طے نہ ہو گی تو بیع صحیح نہ ہو گی۔ مسئلہ 10۔ کسی نے روپے کی یا پیسے کی کوئی چیز خریدی اب وہ کہتی ہے پہلے تم روپے دو تب میں چیز دوں گی اور یہ کہتی ہے پہلے تو چیز دے دے تب میں روپے دوں گی۔

تو پہلے اس سے دام دلوائے جائیں گے جب یہ دام دے دے تو اس سے وہ چیز دلوا دیں گے دام کے وصول پانے تک اس چیز کے نہ دینے کو اس کو اختیار ہے اور اگر دونوں طرف ایک سی چیز ہے مثلاً دونوں طرف دام ہیں یا دونوں طرف سودا ہے۔ جیسے روپے کے پیسے لینے لگیں یا کپڑے کے بدلے کپڑا لینے لگیں اور دونوں میں یہی جھگڑا پن پڑے تو دونوں سے کہا جائے گا کہ تم اس کے ہاتھ پر رکھو اور وہ تمہارے ہاتھ پر رکھے۔

رخصتی سے پہلے طلاق ہو جانے کا بیان

جناب مولانا مولوی سعید احمد صاحب مرحوم مفتی مدرسہ عالیہ مظاہر علوم سہارنپور نے مندرجہ ذیل سوال حضرت حکیم الامۃ مولانا مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ کی خدمت اقدس میں روانہ کیا تھا حضرت نے اس کا جو جواب مرحمت فرمایا وہ ذیل میں درج ہے

سوال مسئلہ 2۔ ایسی عورت سے یوں کہا اگر فلانا کام کرے تو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کے کرتے ہی تینوں طلاقیں پڑ گئیں۔

اس صورت میں تین طلاق پڑنے میں تامل ہے کیونکہ جس وقت شرط مقدم ہو اور طلاق کا لفظ مکرر ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں ایک تکرار بذریعہ حرف عطف دوسرے بلا حرف عطف۔ اول صورت میں امام صاحب کے نزدیک شرط کے پائے جانے کے وقت ایک طلاق واقع ہوتی ہے اور باقی طلاقیں لغو ہو جاتی ہیں اور صاحبین کے نزدیک تینوں واقع ہوتی ہیں اور اگر تکرار بلا حرف عطف ہو جیسے کہ مولف نے کیا ہے تو اس صورت میں اول طلاق معلق ہوتی ہے اور دوسری فی الحال واقع ہوتی ہے اور تیسری لغو ہو جاتی ہے۔

وان علق الطلاق بالشرط ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدارفانت طالق و طالق وطالق وہی غیر مدخلولۃ بانت بواحدۃ عندوجود الشرط فے قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی و لغا الباقی وعدہما یقح الثلاث ہذا کلہ اذا ذکرہ بحرف العطف فان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدارفانت طالق طالق طالق وہی غیر مدخلوۃ فالاول معلق بالشرط والثانی یقع للحال والثالث لغو ثم اذا تروجہاو دخلت الدار ینزل المعلق وان دخلت بعد البینونۃ قبل التزوج حنث ولا یقح شئی عالمگیری مختصر ص آج مصری وفی البحر آج ص وقید بحرف العطف لانہ لوذکر بغیر عطف اصلانحوان دخلت الدار فانت طالق واحدۃ واحدۃ ففی فتح القدیر یقح اتفاقا محمد وجود الشرط ویلغوما بعدہ لعدم مایوجب التشریک اھ وقال العلامۃ ابن عابدین علی قولہ وقید بحرف العطف فی ایمان البزازیۃ من الثالث فی یمین الطلاق ان دخلت الدارفانت طالق طالق طالق وہی غیر ملموسۃ فالاول معلق بالشرط والثانی ینزل فی الحال ویلغو الثالث وان تزوجہا ودخلت الدار نزل المعلق ولود خلت بعد البینونۃ قل التزوج انحل الیمین لا الی جزائ ولو موطوۃ تعلق الاول ونزل الثانی والثالث اھ وہذا کما تری مخالف لما نقلہ ہنا عن الفتح الا ان نفرق بین واحدۃ واحدۃ وطالق طالق وہو الظاہر اھ ہذا ماظہر لی واللہ اعلم بالصواب۔ اگر یہ اشکال صحیح ہے اور عبارت میں کسی ترمیم کی ضرورت ہے تو ترمیم فرما دی جائے تاکہ اصل مسئلہ کی جگہ لکھ کر اس پر حاشیہ میں نوٹ لکھ دیا جائے۔

سعید احمد غفرلہ 21 ربیع الاول56 ھ

جواب از حضرت حکیم الامۃ مولانا مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ

الجواب۔ ومنہ الصدق والصواب۔ طلاق ثلاث معلق میں باعتبار مطلقہ مدخول بہاوغیرہ مدخول بہاوباعتبار تقدیم شرط و تاخیر شرط و باعتبار عطف و عدم عطف بالواو آٹھ صورتیں ہیں جن کو ذیل میں اولا نقشہ کی شکل میں ثانیا عبارت میں ضبط کرتا ہوں پھر سب کے احکام نقل کر کے سوال کا جواب عرض کروں گا۔

عبارت یہ ہے: نمبر1: لغیر اللمدخول بابتقدیم الشرط مع العطف نمبر2: لغیر المدخول بہابتقدیم الشرط بلا عطف نمبر3: لغیر المدخول بہابتاخیر الشرط مع العطف نمبر4: لغیر المدخول خول بہابتا خیر الشرط بلاعطف نمبر5 للمدخول بہا بتقدیم الشرط مع العطف نمبر6 للمدخلو بہا بتقدیم الشرط بلاعطف نمبر 7 للمدخول بہا بتاخیر الشرط مع العطف نمبر8 للمدخول بہا بتا خیر الشرط بلا عطف۔

احکام یہ ہیں فی العالمگیریۃ الفصل الرابع من الباب الثانی من کتاب الطلاق وان علق الطلاق بالشرط ان کان الشرط مقدما نفقال ان دخلت الدار فانت طالق وطالق وطالق وہی غیر مدخولۃ وہی الصورۃ الاولی بانت بواحدۃ عندوجودالشرط فی قول ابی حنیفۃ والغاالباقی وعندہما یفع الثلث وان کانت مدخولۃ وہی الصورۃ الخامسۃ بانت بثلث اجماعا الا علی قول ابی حنیفۃ یتبع بعضہا بعضا فی الوقوع وعندہما یقح الثلاث جملۃ واحدۃ وان کان الشرط موخرا فقال انت طالق وطالق وطالق ان دخلت الدار وذکرہ بالفائ الظن انہا اومکان الواد فدخلت الدار بانت بثلث اجماعا سوئ کانت مدخلوۃ او غیر مدخولۃ وہی الصورۃ الثالثۃ والسابعۃ ہذا کلہ اذا ذکرہ بحرف العطف فان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدار فانت طالق طالق طالق وہی غیر مدحولۃ وہی الصورۃ الثانیۃ المذکورۃ فی بہشتی زیور فلاول معلق بالشرط والثانی یقح للحال والحالث لغو وہوالذی ذکرہ المستفتی ثم اذا ترزوجہا و دخلت الدار ینزل المعلق وان دخلت بعد السینونۃ قبل التزوج حنث ولا یقح شئی وان کانت مدخولۃ وہی الصورۃ السادسۃ فالاول معلق بالشرط والثانی والثالث یقعان فی الحال وان اخرالشرط فقال انت طالق طالق طالق ان دخلت الداروہی غیر مدخولۃ وہی الصورۃ الرابعۃ فلاول ینزل المحال ولغا الباقی وان کانت مدحولۃ وہی الصورۃ الثانیۃ ینزل الاول والثانی للحال ویتعلق الثالث بالشرط کذافی السراج الوہاج وفی الدر المختار باب طلاق غیر المدخول بہا فی نظیر المسئلۃ وتقع واحدۃ ان قدم الشرط وفی ردالمختار ہذا عندہ ہما ثنتان ایضا ورجحہ الکمال فی فتح القدیر واقرہ فی البحراہ۔

اب سوال کا جواب عرض کرتا ہوں کہ بہشتی زیور کا مسئلہ مبحوث عنہا ظاہرا صورۃ ثانیہ ہے جس کا حکم یہ ہے کہ پہلی طلاق معلق ہو گی اور دوسری فی الحال واقع ہو گی اور تیسری لغو ہو گی جیسا سوال میں بھی بقل کیا گیا ہے اور روایات جواب میں بھی۔ اس بنائ پر بہشتی زیور کی عبارت پر اشکال صحیح اور اس کی تصحیح کے لیے عبارت کی ترمیم کافی نہیں بلکہ اس مسئلہ کو حذف ہی کر دینا چاہیے یہ امر قابل تامل ہے کہ اس حکم کی بنائ پر تکرار بلا عطف ہے جیسا صیغہ مفروضہ سے ظاہر ہے اور اردو کے محاورات میں عام اہل لسان اس صورت میں عطف ہی کا قصد کرتے ہیں ممکن ہے کہ مولف بہشتی زیور نے کہ مولوی احمد علی صاحب ہیں جیسا کہ احقر اپنی بعض تحریرات میں اس کو شائع بھی کر چکا ہے اس کو عطف ہی میں داخل کیا ہو جو صور ثمانیہ سے صورۃ اولی ہے اور اس میں امام صاحب اور صاحبین اختلاف کرتے ہیں مولف نے صاحبین کے قول کو راجح سمجھ کر کیا ہو۔ جیسا روایات بالا میں فتح القدیر و بحر سے اس کا راجح ہونا نقل کیا گیا ہے اس صورت میں اشکال رفع ہو جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اس حکم مذکور بہشتی زیور کی صحت دو مقدموں پر موقوف ہے ایک یہ کہ عطف و عدم عطف ہمارے محاورہ میں یکساں ہیں دوسرے یہ کہ صاحبین کا قول راجح ہے پس اگر یہ مقدمات مسلم ہوں تو حکم صحیح ہے ورنہ غلط اور بہشتی زیور میں درمختار کے جس مقام کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مقام باوجود تلاش کے نہیں ملا۔ نہ مستفتی نے اس سے تعرض کیا ممکن ہے کہ اس کے دیکھنے سے مزید بصیرت حاصل ہو سکتی۔ بہرحال اگر ہذف کیا جائے تو کسی تکلف کی ضرورت نہیں۔ لیکن احتیاط یہ ہے کہ یہ حاشیہ کسی پاس والے مسئلہ پر لکھ دیا جائے کہ اس مقام پر ایک مسئلہ تھا جو ظاہر عبارات فقہاء کے خلاف تھا اس کو با اجازت اشرف علی حذف کر دیا گیا ہے۔ اس حاشیہ سے یہ فائدہ ہو گا کہ دوسرے نسخے دکھ کر یہ شبہ نہ ہو گا کہ شاید اس کو سہوا نہیں لکھا گیا۔

اور اگر باقی رکھا جائے تو ایک حاشیہ اس پر لکھ دیا جائے کہ یہ مسئلہ ظاہر عبارات فقہاء پر صحیح نہیں لیکن اگر محاورہ اردو کی بنا پر اس کو عطف میں بحذف عاطف داخل کیا جائے اور اس مسئلہ میں جو اختلاف ہے اس میں صاحبین کا قول لے لیا جائے تو اس توجیہ پر مسئلہ صحیح ہو سکتا ہے اب عوام کو چاہیے کہ اپنے معقتدفیہ عالم کے فتوے پر عمل کریں۔ واللہ اعلم۔ (26 ربیع الاول56 ) اشرف علی

طلاق کےمسئلے

مسئلہ 1۔ طلاق دینے کے جب کسی ضرورت سے طلاق دی جائے تین طریقے ہیں۔ ایک بہت اچھا دوسرا اچھا تیسرا بدعت اور حرام۔ سو بہت اچھا طریق یہ ہے کہ مرد بیوی کو پاکی کے زمانے میں یعنی ایسے وقت میں جس میں حیض وغیرہ سے عورت پاک ہو ایک طلاق دے مگر یہ بھی شرط ہے کہ اس تمام پاکی کے زمانہ میں صحبت نہ کی ہو اور عدت گزرنے تک پھر کوئی طلاق نہ دے عدت گزرنے سے خود ہی نکاح جاتا رہے گا ایک سے زیادہ طلاق دینے کی حاجت نہیں اس لیے کہ طلاق سخت مجبوری میں جائز رکھی گئی ہے لہذا بقدر ضرورت کافی ہے بہت سی طلاقوں کی کیا حاجت ہے اور اچھا طریقہ یہ ہے کہ اس کو تین پاکی کے زمانوں میں تین طلاقں ا دے دو حیضوں کے درمیان جو پاکی رہتی ہے اس کو ایک زمانہ کی پاکی کہتے ہیں سو ہر پاکی کے زمانہ میں ایک طلاق دے اور ان پاکی کے زمانوں میں بھی صحبت نہ کرے اور بدعت اور حرام طریق وہ ہے جو ان دونوں صورتوں کے خلاف ہو مثلاً تین طلاق یکبارگی دے دے یا حیض کی حالت میں طلاق دے یا جس پاکی میں صحبت کی تھی اس میں طلاق دی تو اس اخیر قسم کی سب صورتوں میں گو طلاق واقع ہو جائے گی مگر گناہ ہو گا۔ خوب سمجھ لو اور یہ سب تفصیل اس صورت میں ہے کہ عورت سے صحبت یا خلوت صحیحہ ہوئی ہو اور جس سے ایسا تفاق نہ ہوا ہو اس کا حکم ابھی گے تا ہے۔ مسئلہ2۔ جس عورت سے نکاح کر لیا مگر صحبت نہیں کی ایسی عورت کو خواہ حیض کے زمانہ میں طلاق دے یا پاکی کے زمانہ میں ہر طرح درست ہے مگر ایک طلاق دے۔

ضمیمہ ثانیہ بہشتی زیور حصہ چہار مسماۃ بہ تصحیح الاغلاط

اصل صفحہ س۔ چاہے صاف لفظوں میں الخ۔ تحقیق۔ مطلب یہ ہے کہ جب طلاقیں تین پڑ جائیں گی خواہ صاف لفظوں سے پڑیں یا گول لفظوں سے حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی اور یہ امر کو گول لفظوں کی تکرار سے کب تین طلاقیں ہوں گی کب نہ ہوں گی اس سے اس جگہ بحث نہیں پس اس پر وہ شبہ واقع نہیں ہوتا جو اس پر کیا گیا ہے اور نہ اس جواب کی ضرورت ہے جو دیا گیا ہے۔

اصل صفحہ س۔ کسی نے یوں کہا کہ تجھ کو رکھوں تو ماں کو رکھوں الخ تحقیق۔ عالمگیری میں ہے۔ لوقال ان وطئتک وطئت امی فلاشئی علیہ کذافی غایۃ السراجی اور مولوی احمد حسن صاحب نے اپنے حاشیہ میں لکھا ہے ان دونوں صورتوں کا یہ حکم کہ اس کہنے سے کچھ نہیں ہوا اس حالت میں ہے جبکہ کچھ نیت نہ ہو۔ اگر نیت طلاق کی ہو تو طلاق پڑ جائے گی اور جو نیت ظہار کی ہو تو ظہار ہو جائے گا انتہی۔ اور امداد الفتاوی مبوب کی جلد دوم کے ضمیمہ میں کتاب الطلاق میں مولانا نے عدم وقوع طلاق مطلقا ہی کو ترجیح دی ہے لیکن اس میں مراجعت الی العلمائ کا بھی مشورہ دیا ہے فلیتحقق۔

اس صورت میں اگر ایلاء کی نیت کی ہے تو ایلاء ہو جائے گا فی العالمگیریۃ اذا قال انت علی حرام کامی ونوی الطلاق اوالظہار اوالایلاء فہوعلی مانوی وان لم ینوشیئا یکون ظہار افی قول محمد وذکر الخصاف والصحیح من مذہب ابی حنیفۃ ماقال محمد کذا فی فتاوی قاضی خان۔ عالمگیریۃ۔

۔ نکاح ہو گیا لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی میاں پردیس میں ہے الخ تحقیق۔ ان دونوں مسئلوں پر بعض عوام اعتراض کیا کرتے ہیں لہذا ضرورت ہے کہ ان کی ضرورت توضیح کر دی جائے۔

توضیح مسئلہ 1۔ نکاح ہو گیا لیکن ابھی رواہ کے موافق رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ لڑکا پیدا ہو گیا اور شوہر انکار نہیں کرتا کہ بچہ میرا نہیں ہے تو وہ لڑکا شوہر ہی سے ہے حرامی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ کسی طریق سے خفیہ طور پر خاوند بیوی کے پاس پہنچ گیا ہو۔ اور گھر والوں کو یا غیروں کو اس کی خبر نہ ہوئی ہو اور اس کا حرامی کہنا درست نہیں کیونکہ یہ بلا حجت شرعی مرد کو جھٹلانا اور عورت پر زنا کی تہمت لگانا ہے ہاں اگر شوہر کا نہ ہو اور وہ جانتا ہو کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے اور میں اس عورت کے پاس نہیں گیا تو انکار کرے۔ انکار کرنے پر چونکہ وہ عورت پر زنا کا الزام لگاتا ہے اگر عورت اس الزام کو تسلیم نہ کرے اور لعان کی شرائط پائی جائیں تو لعان کا حکم ہو گا اور بعد تحقیقی لعان بچہ کا نسب شوہر سے منقطع کر دیا جائے گا اس توضیح کے بعد مطلب بہشی زیور بالکل صاف ہو گا اور اس پر کسی شبہ کی گنجائش نہ رہی۔

توضیح مسئلہ2۔ میاں پردیس میں ہے اور مدت ہو گئی برسیں گزر گئیں کہ گھر نہیں اور اس کے نے کی خبر کسی کو نہ ہوئی ہو۔ جیسے اشتہاری لوگ چھپ کر اپنے گھر جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کے نے کی خبر نہیں ہوتی یا بذریعہ کسی عمل مثل تسخیر جن وغیرہ کے یا بذریعہ کرامت کسی بزرگ کے وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچ گیا ہو۔ یا اپنی بیوی کو اپنے پاس بلا لیا ہو اور کسی کو اس کی خبر نہ ہوئی ہو پس جبکہ خاوند اس بچہ کے اپنا بیٹا ہونے سے انکار نہیں کرتا تو گویا وہ دعوی کرتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے صحبت کی ہے اور یہ شبہ کہ وہ تو پردیس میں تھا کیسے صحبت کر سکتا ہے اس لیے صحیح نہیں ہے کہ بذریعہ کرامت یا بذریعہ جن وغیرہ کے ایسا ہونا ممکن ہے تو شوہر کو جھوٹا نہ کہا جائے گا اور بچہ کو حرامی نہ کہا جائے گا۔ البتہ چونکہ شوہر کو علم ہے کہ میں نے صحبت کی ہے یا نہیں اس لیے اس کو انکار کا حق حاصل ہے اس بنا پر اگر وہ خبر پا کر انکار کرے گا تو چونکہ اس انکار میں عورت پر زنا کا الزام ہے اس لیے اگر زوجہ زنا سے انکار کرے اور دیگر شرائط لعان پائی جاتی ہیں تو لعان کا حکم ہو گا اور بعد لعان کے بچہ کا نسب شوہر سے منقطع کر دیا جائے گا اس توضیح کے بعد وسرے مسئلہ پر بھی شبہ نہیں ہو سکتا۔ یہ مختصر توضیح تھی ان دونوں مسئلوں کو جو انشاء اللہ سمجھدار اور غیر متعصب حضرات کی تشفی کے لیے کافی ہے۔

اگر کسی کو زیادہ تفصیل دیکھنا ہو تو رسالہ رفع الارتیاب مصنفہ مکرمی مولوی عبداللہ صاحب منگا کر دیکھے اس میں زیادہ تفصیل ملے گی نیز ان مسائل پر شبہ اور اس کا جواب حضرت مولانا نور اللہ مرقدہ کی طرف سے تتمہ اولی امداد الفتاوی صفحہ میں مذکور ہے اس کو بھی دیکھ لیا جائے۔ آخر میں کہا جاتا ہے کہ روافض خذلہم اللہ بھی بہشتی زیور کے یہ مسائل جاہل لوگوں کو دکھلا کر ان کو مذہب اسلام سے نفرت دلانا چاہتے ہیں اور اس طرح دھوکہ دے کر ان کو مذہب رفض کا پابند کرنا چاہتے ہیں جو کہ منافق یہودیوں کا بنایا ہوا دین ہے اور جاہل چونکہ نہ اپنے مذہب سے واقف ہوتے ہیں نہ رافضیوں کے اس لیے وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور ان کو جواب نہیں دینا پڑتا۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی رافضی ان مسائل میں گفتگو کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ بہشتی زیور کا مطلب سمجھا کر ان کے اعتراض کو دفع کریں اور ان سے کہیں کہ تمہارے مذہب میں یہ تین مسئلے بہشتی زیور سے زیادہ قابل اعتراض ہیں ان کا جواب دو۔

سوال۔ بہشتی زیور حصہ چہارم کے بیان لڑکے کے حلالی ہونے کے آخری دو مسئلوں نکاح ہو گیا لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی الخ و میاں پردیس میں ہے اور مدت ہو گئی برسیں گزر گئیں الخ پر لوگ مختلف خیال والے اعتراض کر رہے ہیں۔ براہ عنایت ہر دو مسائل کا مشرح و مدلل حال تحریر فرمائیے تاکہ معترضین کو چپ کیا جائے۔

الجواب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ اب تک جس نے اس بارہ میں زبانی یا تحریری دریافت کیا اعتراض کے رنگ میں دریافت کیا اس لیے خطاب کرنے کو جی نہ چاہا۔ آپ کے الفاظ سے چونکہ سمجھنے کا قصد معلوم ہوتا ہے اس لیے جواب لکھتا ہوں ذرا غور سے سمجھئے۔ بہشتی زیور کے ان مسئلوں کا یہ مطلب نہیں کہ بدون صحبت کے حمل رہ جاتا ہے اور وہ حمل اس شوہر کا ہو جاتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان صورتوں میں اوپر کے دیکھنے والوں کو خود اسی کا یقین کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ ان میں صحبت نہیں ہوئی۔ پس ان کو شرعاً یہ اجازت نہیں کہ محض ظاہری دوری کو زن و شوہر میں دیکھ کر یہ کہہ دیں کہ جب ہمارے علم میں ان کے درمیان صحبت واقع نہیں ہوئی تو واقع میں بھی صحبت نہیں ہوئی اور یہ حمل حرام کا ہے اور یہ عورت حرام کار ہے اور یہ بچہ ولد الحرام۔ پس دیکھنے والوں کو یہ حکم لگانے کا حق نہیں۔ کیونکہ کسی کو حرام کار یا حرام زادہ کہنا بہت بڑی تہمت ہے۔ اور گناہ عظیم ہے اس کا منہ سے نکالنا بدون دلیل قطعی کے جائز نہیں۔ بلکہ جب تک بعید سے بعید احتمال بھی وقوع صحبت کا رہے گا یوں سمجھیں گے کہ شاید یہی بعید صورت صحبت کی واقع ہوئی ہو اور دوسروں کو اس کی اطلاع نہ ہوئی ہو اور وہ بعید احتمال یہاں دور ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی بزرگ کی کرامت سے زن و شوہر ایک جگہ جمع ہو گئے ہوں اور ان میں صحبت واقع ہوئی ہو۔ دوسرے یہ کہ کسی جن نے دونوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہو اور صحبت ہو گئی ہو اور حمل رہ گیا ہو۔ اور بزرگوں کی کرامت اور جن کا تصرف اہل سنت و الجماعت کے نزدیک شرعاً و عقلاً وقوعاً ثابت ہے اور گو اس کا احتمال بعید ہی ہو مگر ہم مسلمان عورت کو تہمت سے بچانے کے لیے اور بچہ کو عار سے بچانے کے لیے اس احتمال کو ممکن مانیں گے اور یوں کہیں گے کہ شاید ایسی ہی صورت ہوئی ہو اور بعض صورتوں میں ممکن ہے۔

مسئلہ1۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاخانہ کے مقام میں صرف حشفہ داخل کر دے اور انزال ہو جائے اور اس عورت کے اس وقت چھ مہینے بعد انتہائی مدت حمل سے پہلے بچہ پیدا ہوا ہو تو وہ بچہ خاوند ہی کا ہے۔ ( بتلاؤ کہ پاخانہ کے مقام میں صحبت کرنے سے رحم میں نطفہ کیسے پہنچ گیا)

مسئلہ 2۔ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے پاخانہ کے مقام میں حشفہ داخل کر دے اور انزال بھی نہ ہو تب بھی بچہ خاوند ہی کا ہو گا بشرطیکہ وہ چھ مہینے کے بعد اور انتہائی مدت حمل سے پہلے پیدا ہوا ہو بتلاؤ کہ پاخانہ کے مقام میں صحبت کرنے سے اور وہ بھی بغیر انزال ہوئے حمل کیسے قرار پا گیا۔

مسئلہ3۔ اگر کوئی مرد اپنی عورت سے آگے کی راہ سے صحبت کرے اور انزال نہ ہو تب بھی جو بچہ پیدا ہو گا وہ خاوند ہی کا ہو گا بشرطیکہ وہ چھ مہینے کے بعد اور انتہائی مدت حمل سے پہلے پیدا ہو۔ بتلاؤ کہ بدون انزال کے حمل کیسے رہ گیا۔ ان مسئلوں کا جواب ان سے کچھ نہ بن پڑے گا اور وہ فہت الذی کفر کا مصداق ہوں گے لیکن اگر وہ انکار کریں اور کہیں کہ ہمارے مذہب میں یہ مسئلے نہیں ہیں تو ان سے کہو کہ یہ تینوں مسئلے شرح و مشفیہ میں موجود ہیں اور عبارت اس کی یہ ہے

یلحق الولد بالزوج الدائم نکاحہ بالدخول بالزوجۃ ومضے ستت اشہر ہلالیۃ من حین الوطی والمرادبہ علی مایظہرمن اطلاقہم وصرح بہ المصنف فی قواعدہ غیبوبۃ الخشفۃ قبلا اودبراوان لم ینزل۔ ولا یخلو ذلک من اشکال ان لم یکن مجمعا علیہ علیہ للقطع بانتفائ التولد عادۃ فی کثیر من مواردہ ولم اقف علی شئی ینافی مانقلناہ و یعتمد علیہ وعدم تجاوز اقصے مدۃ الحمل وقد اختلف الاصحاب فی تحدیدہ فقیل تسعۃ اشہر وقیل عشرۃ وغایۃ ماقیل مافیہ عندنا سنۃ ومستند الکل مفہوم الروایات وعدل امص عن ترجیح قول لعدم دلیل قوی علی الترجیح ویمکن حمل الروایات علی اختلاف عادات النسائ فان بعضہن تلد لتسعۃ وبعضہن لعشرۃ وقدیتفق نادرابلوغ سنۃ واتفق الاصحاب علی انہ لایذید عن السنۃ مع انہم رووا ان النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم حملت بہ امہ ایام التشریق واتفقوا علی انہ ولدفی شہرربیع الاول فاقل مایکون لبث فی بطن امہ سنۃ وثلثۃ اشہر وما نقل احد من العلمائ انہ من خصائصہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اھ بلفظہ۔

اس عبارت میں یہ تینوں مسئلے موجود ہیں اور لطف یہ ہے کہ خود صاحب کتاب کا اقرار ہے کہ یہ مسائل ضرور قابل اعتراض ہیں ان صورتوں میں بچہ کا اس مرد سے پیدا ہونا عادتاً ناممکن ہے مگر کسی رافضی عالم کا قول مجھے ان کے مخالف نہیں ملا۔

ہذا ما عندنا واللہ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم

کہ شوہر ایسی طرح خفیہ آیا ہو کہ کسی کو خبر نہ ہو جیسے بعض اشتہاری مجرم رات کو اپنے گھر جاتا ہے اور رات ہی کو چلا جاتا ہے اس لیے اس حمل کو اس شوہر کی طرف منسوب سمجھیں گے اور نسب کو ثابت مانیں گے البتہ خود شوہر کو اس کا علم قطعی ہو سکتا ہے کہ میں نے صحبت کی ہے یا نہیں۔ سو اس کو شرعاً مجبور نہیں کیا گیا کہ خواہ مخواہ تو اس بچہ کو اپنا ہی مان بلکہ اس کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر تو نے صحبت نہیں کی ہے تو اس نسب کو نفی کر سکتا ہے۔ مگر چونکہ حاکم شرع کو کسی دلیل قطعی سے خود شوہر کا راست گو ہونا یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکتا بلکہ احتمال ہے کہ کسی اور رنج و غصہ سے عورت کو بدنام کرتا ہو اس لیے اس کی نفی کرنے پر حاکم شرع سکوت نہ کرے گا بلکہ مقدمہ قائم کر کے لعان کا قانون نافذ کرے گا پھر لعان کے بعد دوسروں کو بھی شرعاً اجازت ہے کہ اس بچہ کو اس شوہر کا نہ کہیں گے کیونکہ قانون شرعی سے اس کا نسب قطع ہو چکا یعنی شرعاً جبر نہیں کہ اب بھی اسی کا مانو بلکہ قانوناً اس سے منقطع سمجھیں گے اور واقع کے اعتبار سے پھر بھی یوں کہیں گے کہ غیب کا علم خدا تعالی کو ہے اسی طرح عورت کی نسبت کہیں گے کہ خدا کو خبر ہے کہ مرد سچا ہے یا عورت۔

27شعبان 1328ھ

قران مجید پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حدیث میں  ہے کہ جس وقت چاہے کوئی تم میں کا اپنے پروردگار سے گفتگو کرنا۔ سو چاہیے کہ قرآن پڑھے یعنی قرآن مجید کی تلاوت کرنا گویا حق تعالی سے بات چیت کرنا ہے زیادہ غنی لوگوں میں قرآن کے اٹھانے والے ہیں یعنی وہ لوگ کہ جن کے سینہ میں اللہ تعالی نے اس کو یعنی قرآن کو رکھا ہے مطلب یہ ہے کہ جس نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا اس سے بڑھ کر کوئی غنی نہیں۔ اس پر عمل کرنے کی برکت سے حق تعالی باطنی غنا مرحمت فرماتے ہیں اور ظاہری کشائش بھی میسر ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایات ہے کہ ایک مرد کثرت سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازے پر تا تھا دنیاوی حاجتوں کے لیے سو کہا حضرت عمر نے اس مرد سے کہ جا اور پڑھ خد اکی کتاب یعنی قرآن مجید سو چلا گیا وہ مرد پس نہ پایا اس کو حضرت عمر نے ۔ پھر آپ اس سے ملے اور آپ اس کے شاکی ہوئے یعنی اس وجہ سے کچھ شکایت فرمائی کہ تمہاری ہم کو تلاش تھی بلا اطلاع کہاں چلے گئے۔ جب کوئی کثرت سے آمد و رفت رکھتا ہو پھر دفعۃ نا چھوڑ دے تو انسان کو فکری ہو ہی جاتی ہے کہ نہ معلوم کہاں چلا گیا کس حال میں ہے سو اس نے جواب میں عرض کیا کہ میں نے اللہ کی کتاب میں وہ چیز پا لی جس نے مجھے عمر کے دروازے سے غنی اور بے پرواہکر دیا۔ یعنی قرآن مجید میں ایسی آیت مل گئی جس کی برکت سے میری نظر مخلوق سے ہٹ گئی اور خدا تعالی پر بھروسہ ہو گیا۔ تمہارے پاس دنیا کی حاجت کے لیے تا تھا اب کر کیا کروں۔ غالباً مراد اس سے اس قسم کے مضامین ہوں گے جو اس آیت میں مذکور ہیں وفی السماء رزقکم وما توعدون۔ یعنی تمہاری روزی آسمان ہی میں ہے اور جس چیز کا تم وعدہ کیے گئے ہو وہ بھی آسمان میں ہے یعنی تمہاری روزی وغیرہ سب کاموں کا بندوبست ہمارے ہی دربار سے ہوتا ہے پھر دوسری طرف متوجہ ہونے سے کیا نتیجہ۔ حدیث2،26۔

میں ہے کہ افضل عبادت قرآن کی قراۃ ہے یعنی بعد فرائض کے تمام نفل عبادت میں قرآن پڑھنا افضل ہے حدیث میں ہے کہ تعظیم کرو قرآن کے یاد رکھنے والوں کی جس نے ان کی تعظیم کی پس بے شک اس نے میری تعظیم کی اور آپ کی تعظیم کا واجب ہونا ظاہر ہے حدیث میں ہے تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جنھوں نے قرآن پڑھا اور قرآن پڑھایا۔ حدیث میں ہے جس نے قرآن پڑھایا اور عمل کیا اس چیز پر جو اس میں ہے یعنی اس کے احکام پر عمل کیا پہنائے جائیں گے اس والدین کو تاج قیامت کے دن جس کی روشنی زیادہ عمدہ ہو گی آیت کی روشنی سے دنیا کے مکانوں میں جبکہ وہ آیت تم میں ہو یعنی دنیا میں جبکہ تمہارے گھروں میں آیت روشن ہو جیسی اس کی روشنی ہوتی ہے اس سے بڑھ کر اس تاج کی روشنی ہو گی پس کیا گمان ہے تمہارا اس شخص کے ثواب کے بارے میں جس نے خود عمل کیا اس پر یعنی قرآن پر جس نے عمل کیا اس کا کیا کچھ بڑا درجہ ہو گا جبکہ اس کے طفیل سے اس کے والدین کو یہ رتبہ عنایت ہوا حدیث میں ہے جس نے قرآن پڑھا پھر خیال کیا اس نے کہ کوئی خدا کی مخلوق میں سے اس نعمت سے بڑھ کر نعمت دا گیا ہے جو جاننے والے کو تیزی کرنا اس شخص سے جو اس سے تیزی کرے اور نہ جہالت کرنا اس شخص سے جو اس سے جہالت کرے اور ایسا نہ کرے لیکن معاف کرے اور درگزر کرے بسبب عزت قرآن کے یعنی اہل علم اور قرآن کے جاننے والوں کو چاہیے کہ دنیا کی تمام نعمتوں سے قرآن کے علم کو اعلی اور افضل سمجھیں۔ اگر انہوں نے قرآن کو علم سے بڑھ کر کسی چیز کو سمجھا تو جس ویز کو خدا نے بڑا کیا تھا۔ اس کو حقیر کر دیا۔ اور حاکم جس چیز کو بڑا کرے اس کا حقیر کرنا کس قدر بڑا جرم ہے۔ اور اہل قرآن کو چاہیے کہ لوگوں سے جہالت اور بد اخلاقی سے پیش نہآئیں کہ قرآن کی عزت اور عظمت اسی بات کو چاہتی ہے اور اگر ان سے کوئی جہالت کرے تو اس کی جہالت کو معاف کریں۔ حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن زیادہ محبوب ہے اللہ تعالی کو سمانوں سے اور زمین سے اور ان لوگوں سے جو ان سمانوں اور زمین میں ہیں یعنی قرں مجید کا درجہ تمام مخلوق سے اعلی ہے اور قرآن مجید خدا تعالی کو سب سے زیادہ پیارا ہے رواہ ابو نعیم عن ابن عمر مرفوعا بلفظ القرآن احب الی اللہ من السموات والارض ومن فیہن

حدیث میں ہے جس نے سکھائی کسی اللہ کے بندے کو ایک آیت خدا کی کتاب کی۔ سو وہ یعنی سکھانے والا آقا ہو گیا اس پڑھنے والے کا نہیں لائق ہے اس طالب علم کو اس کی مدد نہ کرنا موقع پر اور نہ اس استاد پر کسی دوسرے کو ترجیح دینا جس کا رتبہ استاد سے بڑا نہ ہو پس اگر وہ یعنی طالب علم ایسا کرے تو اس نے توڑ دیا ایک حلقہ کو اسلام کے حلقوں میں سے یعنی ایسی حرکت کرنے سے اس نے اسلام میں بڑا فتنہ ڈالا اور بڑے عظیم الشان شریعت کے حکم کی تعمیل نہ کی جس کی بے برکتی اور سزا کا دارین میں سخت اندیشہ ہے حدیث میں ہے کہ تحقیق فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں ہے میری امت سے وہ شخص جس نے نہ بزرگی کی ہمارے بڑے کی اور نہ رحم کیا ہمارے چھوٹے پر اور نہ پہچانا ہمارے عالم کا حق اور عالم کے اندر قرآن کے پڑھنے پڑھانے والے بھی گئے اور مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جس کی یہ حالت ہو ہماری جماعت سے خارج ہے اور اس کا ایمان ضعیف ہے لہذا بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر رحم کرنا اور علماء کے حق پہچاننا اور ان کی تعظیم و خدمت کرنا ضرور چاہیے۔ رواہ احمد والطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس من امتی من لم یبجل کبیرنا ویرحم صغیرنا و یعرف لعالمنا حقہ واسنادہ حسن حدیث میں ہے جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تفسیر اور اس کے معنے سمجھے اور اس پر عمل نہ کیا تو دوزخ میں اپنا ٹھکانا بنایا یعنی قرآن پڑھ کر اس پر عمل نہ کرنا بہت بڑا سخت گناہ ہے مگر جاہل لوگ خوش نہ ہوں کہ ہم نے پڑھا ہی نہیں سو ہم اگر اس کے احکام پر عمل نہ کریں گے تو کچھ مضائقہ نہیں اس لیے کہ ایسے جاہل کو دو گناہ ہوں گے ایک علم حاصل نہ کرنے کا دوسرا عمل نہ کرنے کا حدیث میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ تحقیق فلاں شخص تمام رات قرآن پڑھتا ہے پھر جب صبح قریب ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے۔

آپ نے فرمایا عنقریب اس کو روک دے گا اس کا قرآن پڑھنا یعنی قرآن کی تلاوت کی برکت سے یہ حرکت چھوٹ جائے گی۔ رواہ سعید بن منصور عن جابر بلفظ قیل یا رسول اللہ ان فلانا یقرا باللیل کلہ فاذا اصبح سی ق قال سنتہاہ قرامتہ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن شریف پڑھے اور اس کو حفظ کر لے اور اس کے حلال کو حلال سمجھے اور اس کے حرام کو حرام سمجھے داخل کرے گا اس کو اللہ تعالی جنت میں اور شفاعت قبول کرے گا اس کی دس آدمیوں کے حق میں اس کے خاندان والوں میں سے کہ ان میں سب کے سب ایسے ہوں گے کہ ان کے لیے دوزخ واجب ہو چکی ہو گی۔

حدیث میں ہے کہ جس نے سنا ایک حرف خدا کی کتاب سے با وضو لکھی جائیں گی اس کے لیے دس نیکیاں یعنی دس نیکیوں کا ثواب اور دور کر دیئے جائیں گے اس کے دن گناہ اور بلند کیے جائیں گے اس کے دس درجے اور جس نے پڑھا ایک حرف اللہ کی کتاب سے نماز میں بیٹھ کر یعنی جبکہ نماز بیٹھ کر پڑھے اور نماز نفل مراد ہے اس لیے کہ فرض نماز بغیر عذر بیٹھ کر جائز نہیں اور عذر کے ساتھ جائز ہے سو عذر کے ساتھ جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہونے کے برابر ثواب ملتا ہے ہاں نفل نماز بھی اگر کسی عذر سے بیٹھ کر پڑھے تو کھڑے ہونے کی برابر ثواب ملتا ہے تو لکھی جائیں گی اس کے لیے پچاس نیکیاں یعنی اس قدر نیکیوں کا ثواب اور دور کر دیئے جائیں گے اس کے پچاس گناہ اور بلند کیے جائیں گے اس کے لیے پچاس درجے اور جس نے پڑھا اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف کھڑے ہو کر لکھی جائیں گی اس کے لیے سو نیکیاں اور دور کیے جائیں گے اس کے سو گناہ اور بلند کیے جائیں گے اس کے سو درجے اور جس نے قرآن پڑھا اور اس کو ختم کیا لکھے گا اللہ تعالی اپنے پاس اس کے لیے ایک دعا جو فی الحال مقبول ہو جائے یا بعد چندے مقبول ہو۔ حدیث میں ہے جس نے قرآن پڑھا اور پروردگار کی حمد کی اور درود بھجا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور مغفرت مانگی اپنے پروردگار سے سو بے شک اس نے بھلائی کو مانگ لیا اس کے مقام سے مطلب یہ ہے کہ بھلائی کو اس کی جگہ سے طلب کر لیا۔ یعنی جو طریق دعا کے قبول ہونے کا تھا اس کو برتا جس سے دعا جلد قبول ہونے کی امید ہے۔ اور خدا کی تعریف میں خواہ الحمد للہ کہے یا کوئی اسی معنی کا کلمہ اور قرآن کی تلاوت کے بعد اس خاص طریقہ سے دعا مانگنا قبولیت میں خاص اثر رکھتا ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا

حدیث میں ہے کہ اپنی عورتوں کو سورہ واقعہ سکھلاؤ اس لیے کہ بے شک وہ سورۃ تونگری کی ہے یعنی اس کے پڑھنے سے تونگری میسر ہوتی ہے اور ضروری خرچ اچھی طرح میسر ہو جاتا ہے اور غنائے باطن بھی میسر ہوتا ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے کہ جو شخص سورہ واقعہ ہر شب کو پڑھے تو اس کو تنگی رزق کبھی نہ ہو گی اور عورتیں چونکہ ضعیف القلب ہوتی ہیں ذرا سی تنگی میں بہت پریشان ہو جاتی ہیں اس لیے ان کی خصوصیت فرمائی ورنہ اس کا پڑھنا غنا کے حاصل ہونے کے لیے سب کو مفید ہے خواہ مرد ہو یا عورت حدیث میں ہے کہ زیادہ اچھا لوگوں میں قرآن پڑھنے کے اعتبار سے وہ شخص ہے کہ جس وقت وہ قرآن پڑھے تو یہ سمجھے کہ وہ خدا سے ڈر رہا ہے یعنی تلاوت کرنے والے کو دیکھنے والا یہ سمجھے کہ وہ خدا سے ڈر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح اہتمام سے پڑھے جیسے کہ ڈرنے والا اہتمام سے کلام کرتا ہے کہ کوئی حرکت حاکم کے سامنے بے موقع نہ ہو جائے اور قرآن مجید کے پڑھنے کا عمدہ طریق یہ ہے کہ با وضو قبلہ کی طرف بیٹھ کر عاجزی سے تلاوت کرے اور سمجھے کہ اللہ تعالی سے باتیں کر رہا ہوں اور اگر معنے جانتا ہو تو معنی پر غور کرے اور جہاں رحمت کی آیت آئے وہاں رحمت کی دعا مانگے اور جہاں عذاب کا ذکر ہو وہاں دوزخ سے پناہ مانگے اور جب تمام کر چکے تو خدا کی حمد اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھ کے مغفرت طلب کرے اور جو چاہے دعا مانگے اور پھر درود شریف پڑھے اور حتی المقدور قرآن پڑھنے میں دوسرا خیال نہ آنے دے اگر کوئی خیال آئے تو ادھر توجہ نہ کرے وہ خیال خود جاتا رہے گا اور تلاوت کے وقت لباس بھی جہاں تک ہو سکے صاف پہنے ۔

طلاق کی مذمت کا بیان

حدیث میں ہے البغض الحلال الی اللہ الطلاق راہ الحاکم وابوداودو ابن ماجہ عن ابن عمر مرفوعا وسندہ صحیح یعنی زیاہ مبغوض اور زیادہ بری چیز حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک طلاق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ طلاق حاجت کے وقت جائز رکھی گئی ہے اور حلال ہے مگر بلا حاجت بہت بری بات ہے اس کے لیے کہ نکاح تو باہم الفت و محبت اور زوج وزوجہ کی راحت کے واسطے ہوتا ہے اور طلاق سے یہ سب باتیں جاتی رہتی ہیں اور حق تعالی کی نعمت کی ناشکری ہوتی ہے ایک دوسرے کو کلفت ہوتی ہے باہم عداوت ہوتی ہے نیز اس کی وجہ سے بیوی کے اور اہل قرابت سے بھی عداوت پڑتی ہے۔ جہاں تک ہو سکے ہرگز ایسا قصد نہ کرنا چاہیے۔ میاں بیوی کو معاملات میں باہم ایک دوسرے کی برداست چاہیے اور خوب محبت سے رہنا چاہیے۔ جب کوئی صورت نباہ کی نہ ہو تو مضائقہ نہیں خوب سمجھ لو۔ حدیث میں ہے کہ نکاح کرو اور طلاق نہ دو یعنی بلا وجہ اس لیے کہ بے شک اللہ تعالی نہیں دوست رکھتا ہے بہت مزہ چکھنے والے مردوں اور بہت مزہ چکھنے والی عورتوں کو یعنی اللہ پاک کو یہ بات پسند نہیں کہ طلاق ہو بلا ضرورت اور میاں دوسرا نکاح کرے اور بی بی دوسرا نکاح کرے ہاں اگر کوئی ضرورت ہو تو کوئی مضائقہ نہیں حدیث میں ہے کہ نہ طلاق دی جائیں عورتیں مگر بدچلنی سے۔ اس لیے کہ اللہ تعالی نہیں دوست رکھتا بہت مزہ چکھنے والے مردوں اور بہت مزہ چکھنے والی عورتوں کو اس سے معلوم ہوا کہ اگر اس کی پارسائی اور پاکدامنی کے باب میں کوئی خلل ہو جائے تو اس کی وجہ سے طلاق دے دینا درست ہے۔ اسی طرح اور بھی کوئی سبب ہو تو کچھ حرج نہیں حدیث میں ہے کہ نکاح کرو اور طلاق نہ دو اس لیے کہ طلاق دینے سے عرش ہلتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ شیطان اپنے تخت کو پانی پر رکھتا ہے پھر اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے لوگوں کے بہکانے کو پس زیادہ قریب ان لشکروں کے لوگوں میں از روئے رتبہ کے وہ شخص ہوتا ہے جو ان میں سب سے بڑا ہو از روئے فتنہ کے یعنی بڑا محبوب شیطان کو وہ شخص ہوتا ہے جو بہت بڑا فتنہ برپا کرتا ہے اس کے پاس ایک ان میں کا پھر کہتا ہے میں نے یہ کیا اور یہ کیا یعنی یہ فتنہ برپا کیا اور یہ فتنہ برپا کیا سو کہتا ہے شیطان تو نے کچھ نہیں کیا یعنی تو نے کوئی برا کام نہیں کیا اور کہتا ہے ایک ان میں کا پس کہتا ہے نہیں چھوڑا میں نے فلاں شخص کو یہاں تک کہ جدائی کر دی میں نے اس شوہر کے اور اس کی بیوی کے درمیان سو قریب کر لیتا ہے اس شخص کو اپنی ذات سے یعنی اپنے گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں تو نے بہت بڑا کام کیا یعنی شیطان کی بہت بڑی خوشی یہ ہے کہ میاں بی بی میں جدائی کر دی جائے۔ لہذا جہاں تک ہو سکے مسلمان شیطان کو خوش نہ کرے حدیث میں ہے کہ جو عورت خود طلاق طلب کرے بغیر سخت مجبوری کے تو جنت کی خوشبو اس پر حرام ہے۔ یعنی سخت گناہ ہو گا۔ گو بشرط اسلام پر خاتمہ ہونے کے اپنے اعمال کا بدلہ بھگت کر آخر میں جنت میں داخل ہو جائے گی حدیث  میں ہے کہ منتزعات اور مختلعات وہ منافعات ہیں (منتزعات وہ عورتیں جو اپنی ذات کو مرد کے قبضہ سے نکالیں شرارت کر کے یعنی ایسی حرکتیں کریں جس سے مرد ناراض ہو کر طلاق دے دے۔ اور مختلعات وہ عورتیں جو خاوندوں سے بلا مجبوری خلع طلب کریں۔ اور منافقات سے مراد یہ ہے کہ یہ خصلت منافقوں کی سی ہے کہ ظاہر کچھ باطن کچھ ظاہر تو نکاح ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے اور یہ اس میں جدائی طلب کرتی ہیں اس لیے گنہگار ہوں گی گو کافر نہ ہوں گی)۔

نکاح کی فضیلت اور اس کے حقوق کا بیان

حدیث میں ہے کہ دنیا صرف ایک استعمال کی چیز ہے اور دنیا کی استعمالی چیزوں میں سے کوئی چیز نیک عورت سے افضل نہیں یعنی دنیا میں اگر نیک عورت میسر جائے تو بہت بڑی غنیمت اور حق تعالی کی رحمت ہے کہ خاوند کی راحت اور اس کی فلاح دارین کا سبب ہے دنیا میں بھی ایسی عورت سے راحت میسر ہوتی ہے اور آخرت کے کاموں میں بھی مدد ملتی ہے حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح میرا طریقہ اور میری سنت موکدہ ہے سو جو نہ عمل کرے میری سنت موکدہ پر تو وہ مجھ سے نہیں ہے یعنی مجھ سے اور اس سے کوئی علاقہ نہیں۔ یہ زجر اور ڈانٹ ہے ایسے شخص کو جو سنت پر عمل نہ کرے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کا بیان ہے ایسے شخص پر سو اس سے بہت کچھ پرہیز لازم ہے اور مسلمان کو کیسے چین پڑسکتا ہے کہ ذرا دیر بھی جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ناراض رہیں اللہ اس دن سے پہلے موت دے دیں جس روز مسلمان کو اللہ و رسول کی ناراضی گوارا ہو اور حدیث میں ہے نکاح کرو اس لیے کہ میں فخر کروں گا قیامت میں تمہارے ذریعہ سے اور امتوں پر یعنی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت پسند ہے کہ آپ کی امت کثرت سے ہو اور دوسری امتوں سے زیادہ ہو تاکہ ان کی کثرت اعمال کی وجہ سے آپ کو بھی ثواب اور قرب الٰہی زیادہ میسر ہو۔ اس لیے کہ جو کوئی آپ کی امت میں جو کچھ بھی عمل کرتا ہے وہ آپ ہی کی تعلیم کے سبب کرتا ہے۔ پس جس قدر زیادہ عمل کرنے والے ہوں گے اسی قدر آپ کو ان کی تعلیم کرنے کا ثواب زیادہ ہو گا۔ یہاں سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ جہاں تک بھی اور جس طرح بھی ہو سکے قرب الٰہی کے وسیلے اور اعمال کثرت سے اختیار کرے اور اس میں کوتاہی نہ کرے۔

اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن کل صفیں ایک سو بیس ہوں گی جن میں چالیس صفیں اور امتوں کے لوگوں کی ہوں گی اور اسی صفیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی ہوں گی۔ سبحان اللہ کیا دلداری منظور ہے حق تعالی کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور جو شخص صاحب وسعت ہو یعنی روزہ رکھے اس سے شہوت میں کمی ہو جائے گی پس بے شک روزہ اس کے لیے مثل رگ شہوت مل دینے کے ہے اگر عورت کی خواہش مرد کو بہت زیادہ نہ ہو بلکہ معتدل اور درمیانی درہ کی ہو اور عورت کے ضروری خرچ اٹھانے پر قادر ہو تو ایسے شخص کے لیے نکاح سنت موکدہ ہے۔ اور جس کو اعلی درجہ کا تقاضا ہو یعنی بہت خواہش ہو تو ایسے شخص کے لیے نکاح واجب اور ضروری ہے اس لیے کہ اندیشہ ہے خوانخواستہ زنا میں مبتلاہو گیا تو حرام کاری کا گناہ ہو گا۔ اور اگر باوجود سخت تقاضائے شہوت کے اس قدر طاقت نہیں کہ عورت کے ضروری حقوق ادا کر سکے گا تو یہ شخص کثرت سے روزے رکھے پھر جب اتنی گنجائش ہو جائے کہ عورت کے حقوق ادا کرنے پر قادر ہو تو نکاح کر لے حدیث میں ہے کہ اولاد جنت کا پھول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کے پھولوں سے جیسی مسرت اور فرحت حاصل ہو گی ویسی ہی راحت اور مسرت اولاد کو دیکھ کر حاصل ہتی ہے اور اولاد نکاح کے ذریعہ سے میسر تی ہے حدیث میں ہے کہ تحقیق آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جاتا ہے سو وہ کہتا ہے کہاں سے ہے میرے لیے یہ یعنی وہ کہتا ہے کہ یہ رتبہ مجھے کیسا ملا میں نے تو ایسا عمل کوئی نہیں کیا جس کا یہ ثواب ہو پس کہا جاتا ہے اس آدمی سے یہ بسبب مغفرت طلب کرنے تیری اولاد کے ہے تیرے لیے یعنی تیری اولاد نے ہم سے تیرے لیے استغفار کی اس کی بدولت یہ درجہ تجھ کو عنایت ہوا حدیث 5۔

میں ہے تحقیق وہ بچہ جو حمل سے گر جاتا ہے یعنی بغیر دن پورے ہوئے پیدا ہو جاتا ہے اپنے پروردگار سے جھگڑے گا جبکہ اس کے ماں باپ جہنم میں داخل ہوں گے یعنی حق تعالی سے مبالغہ کے ساتھ سفارش کرے گا کہ میرے والدین کو دوزخ سے نکال دو اور حق تعالی اپنی عنایت کی وجہ سے اس کے اس جھگڑنے کو قبول فرمائیں گے اور اس کی ناز برداری کریں گے پس کہا جائے گا اے سقط جھگڑا کرنے والے اپنے رب سے داخل کر دے اپنے والدین کو جنت میں۔ پس کھینچ لے گا بچہ ان دونوں کو اپنے نار سے یہاں تک کہ داخل کرے گا ان دونوں کو جنت میں معلوم ہوا کہ آخرت میں ایسی اولاد بھی کام آئے گی جو نکاح کا نتیجہ ہے

حدیث  میں ہے کہ بے شک جس وقت دیکھتا ہے مرد اپنی عورت کی طرف اور عورت دیکھتی ہے مرد کی طرف تو دیکھتا ہے اللہ تعالی دونوں کی طرف رحمت کی نظر سے۔ رواہ میسرۃ بن علی فے مشیختہ والرافعی فی تاریخہ عن ابن سعید مرفوعہ بلفظ ان الرجل اذا نظرالی امراتہ ونظرت الیہ نظر اللہ تعالی الیہما نظرۃ رحمۃ الخ حدیث  میں ہے کہ حق تعالی پر حق ہے یعنی حق تعالی نے اپنی رحمت سے اپنے ذمہ یہ بات مقرر فرمائی ہے مدد کرنی اس شخص کی جو نکاح کرے پاکدامنی حاصل کرنے کو اس چیز سے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ یعنی زنا سے محفوظ رہنے کے لیے جو شادی کرے اور نیت اطاعت حق کی ہو تو خرچ وغیرہ میں اللہ تعالی اس کی مدد فرمائیں گے حدیث  میں ہے کہ عیالدار شخص کی دو رکعتیں نماز کی بہتر ہیں مجرد شخص کی بیاسی رکعتوں سے اور دوسری حدیث میں بجائے بیاسی کے ستر کا عدد یا ہے سو مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ستر اس شخص کے حق میں ہے جو ضروری حق اہل و عیال کا ادا کرے اور بیاسی اس کے حق میں ہیں جو ضروری حقوق سے زیادہ ان کی خدمت کرے جان اور مال اور اچھی عادت سے والحدیث رواۃ تمامر فی فوائدہ والضیائ عن انس مرفوعابلفظ رکعتان من المتاہل خیر من اثنین و تمانین رکعۃ من العرب وسندہ صحیح حدیث میں ہے بے شک بہت بڑا گناہ خدا کے نزدیک ضائع کرنا اور ان کی ضروری خدمت میں کمی کرنا ہے مرد کا ان لوگوں کو جن کا خرچ اس کے ذمہ ہے۔ رواہ الطبرانی عن ابن عمرو مرفوعا بلفظ ان اکبر الاثم عنداللہ ان یضیح الرجل من یقوت کذافی کنزالعمال حدیث  میں ہے کہ میں نے نہیں چھوڑا اپنے بعد کوئی فتنہ جو زیادہ ضرر دینے والا ہو مردوں کو عورتوں کے فتنہ سے یعنی مردوں کے حق میں عورت کے فتنہ سے بڑھ کر کوئی فتنہ ضرر دینے والا نہیں کہ ان کی محبت میں بے حس ہو جاتے ہیں اور خدا اور رسول کے حکم کی پرواہ نہیں کرتے۔

لہذا چاہیے کہ ایسی محبت عورتوں سے کرے کہ جس میں شریعت کے خلاف کام کرنے پڑیں مثلاً وہ مرد کی حیثیت سے زیادہ کھانے پہننے کو مانگیں تو ہرگز ان کی خاطر کرنے کو رشوت وغیرہ نہ لے بلکہ مال حلال سے جو اللہ تعالی دے ان کی خدمت کر دے۔ اور عورتوں کو تعلیم و تادیب کرتا رہے اور بیباک و گستاخ نہ کر دے۔ عورتوں کی عقل ناقص ہوتی ہے ان کی اصلاح کا خاص طور پر انتظام لازم ہے۔ حدیث  میں ہے کہ پیغام نکاح کا کوئی تم میں سے نہ دے اپنے بھائی کے پیغام پر یہاں تک کہ وہ بھائی نکاح کر لے یا چھوڑ دے یعنی جب ایک شخص نے کہیں پیغام نکاح کا دیا ہو اور ان لوگوں کی کچھ مرضی بھی پائی جاتی ہو کہ وہ اس شخص سے نکاح کرنے کو کچھ راضی ہیں تو دوسرے شخص کو اس جگہ ہرگز پیغام نہ دینا چاہیے۔ ہاں اگر وہ لوگ خود اس پہلے شخص کو انکار کر دیں یا وہ خود ہی وہاں سے اپنا ارادہ منقطع کر دے یا ان لوگوں کی ابھی بالکل مرضی اس شخص کے ساتھ نکاح کرنے کی نہیں پائی جاتی تو اب دوسرے کو اس لڑکی کا پیغام دینا درست ہے۔ اور یہی حکم خرید و فروخت کے بھاؤ کرنے کا ہے کہ جب ایک شخص کسی سے خریدنے یا فروخت کرنے کا بھاؤ کر را ہے تو دوسرے کو جب تک اس کا معاملہ علیحدہ نہ ہو جائے اس کے بھاؤ پر بھاؤ کرنا نہیں چاہیے جبکہ باہم خریدو فروخت کی کچھ مرضی معلوم ہوتی ہو خوب سمجھ لو اور اس حکم میں کافر بھی داخل ہے۔ یعنی اگر کوئی کافر کسی سے لین دین کا بھاؤ کر را ہے اور دوسرے شخص کے معاملہ کرنے کی اس کے ساتھ کچھ مرضی بھی معلوم ہوتی ہے تو مسلمان کو زیبا نہیں کہ اس کافر کے بھاؤ پر اپنا بھاؤ پیش کرے۔

حدیث میں ہے کہ تحقیق عورت نکاح کی جاتی ہے اپنے دین کی وجہ سے اور اپنے مال کی وجہ سے اور اپنے حسن کی وجہ سے سو تو لازم پکڑ لے صاحب ن کو تیرے ہاتھ خاک میں ملیں یعنی کوئی مرد تو عورت دیندار پسند کرتا ہے اور کوئی مالدار اور کوئی خوبصورت تو جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بد شکل ہے کہ طبیعت کسی طرح اسے قبول نہیں کرتی اور اندیشہ ہے کہ اگر ایسی عورت سے نکاح کیا جائے تو باہم میاں بی بی میں موافقت نہ رہے گی اور عورت کے حق ادا کرنے میں کوتاہی ہو گی تو ایسے وقت ایسی عورت سے نکاح نہ کرے اور تیرے ہاتھ خاک مل جائیں یہ عربی محاورہ ہے اور مختلف موقعوں پر استعمال ہوتا ہے۔ یہاں پر اس سے دیندار عورت کی رغبت دلانا مراد ہے۔ حدیث   میں ہے بیبیوں میں بہتر وہ بی بی ہے جس کا مہر بہت آسان ہو یعنی مرد سہولت سے اس کو ادا کر سکے۔ آجکل زیادتی مہر کا دستور بہت ہو گیا ہے لوگوں کو اس رسم سے بچنا چاہیے۔ حدیث  میں ہے کہ اپنے نطفوں کے لیے عمدہ محل وجہ پسند کرو اس لیے کہ عورتیں بچے جنتی ہیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مانند یعنی نیک بخت اور شریف خاندان کی عورت سے نکاح کرو اس لیے کہ اولاد میں ننھیال کی مشابہت ہوتی ہے اور گو باپ کا بھی اثر ہوتا ہے مگر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کا اثر زیادہ ہوتا ہے تو اگر ماں ایسے لوگوں میں سے ہو گی جو بد اخلاق ہیں اور دیندار اور شریف نہیں ہیں تو اولاد بھی ان ہی لوگوں کی مثل پیدا ہو گی ورنہ اولاد اچھی اور نیک بخت ہو گی۔ رواہ ابن عدی و ابن عساکر عن عائشۃ مرفوعا بلفظ تخیر والنطفکم فان النساء یلدن اشباہ اخوانہن واخواتہن حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا حق لوگوں میں خاوند کا ہے عورت پر اور مرد پر سب سے بڑا حق لوگوں میں اس کی ماں کا ہے یعنی بعد اللہ و رسول کے حقوق کے عورت کے ذمہ خاوند کا بہت بڑا حق ہے حتی کہ اس کے ماں باپ سے بھی خاوند کا زیادہ حق ہے اور مرد کے ذمہ سب سے زیادہ حق بعد اللہ و رسول کے حق کے ماں کا حق ہے اس سے معلوم ہوا کہ مرد کے ذمہ ماں کا حق باپ سے بڑھ کر ہے رواہ الحاکم عن عائشۃ مرفوعا بلفظ اعظم الناس حقا علی المراۃ زوجہا واعظم الناس حقا علی الرجل امہ وسندہ صحیح۔ حدیث 16۔ میں ہے اگر کوئی تم میں ارادہ کرے اپنی بیوی سے ہم بستری کا تو کہے بسم اللہ جنبا الشیطان وجنب الشیطان مارزقتنا تو اگر ان کی تقدیر میں کوئی بچہ مقدر ہو گا اس صحبت سے نہ ضرر دے گا اس کو شیطان کبھی۔ حدیث۔ ایک لانبی حدیث  میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا اولم ولوبشاۃ یعنی ولیمہ کرو اگرچہ ایک ہی بکری ہو۔ مطلب یہ ہے گو تھوڑا ہی سامان ہو مگر دینا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ عورت سے ہمبستری کرنے کے بعد ولیمہ کیا جائے گو بہت علماء نے صرف نکاح کے بعد بھی جائز فرمایا ہے اور ولیمہ مستحب ہے۔

لڑکے کے حلالی ہونے کا بیان

مسئلہ1۔ جب کسی شوہر والی عورت کے اولاد ہو گی تو وہ اسی کے شوہر کی کہلائے گی کسی شبہ پر یہ کہنا کہ یہ لڑکا اس کے میاں کا نہیں ہے بلکہ فلانے کا ہے درست نہیں اور اس لڑکے کو حرامی کہنا بھی درست نہیں۔ اگر اسلام کی حکومت ہو تو ایسا کہنے والے کو کوڑے مارے جائیں۔

مسئلہ2۔ حمل کی مدت کم سے کم چھ مہینے ہیں اور زیادہ سے زیادہ دو برس یعنی کم سے کم چھ مہینے بچہ پیٹ میں رہتا ہے پھر پیدا ہوتا ہے۔ چھ مہینے سے پہلے نہیں پیدا ہوتا۔ اور زیادہ سے زیادہ دو برس پیٹ میں رہ سکتا ہے اس سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہ سکتا۔

مسئلہ3۔ شریعت کا قاعدہ ہے کہ جب تک ہو سکے تب تک بچہ کو حرامی نہ کہیں گے جب بالکل مجبوری ہو جائے تب حرامی ہونے کا حکم لگائیں گے اور عورت کو گنہگار ٹھیرائیں گے۔

مسئلہ4۔ کسی نے اپنی بی بی کو طلاق رجعی دے دی۔ پھر دو برس سے کم میں اس کے کوئی بچہ پیدا ہوا تو لڑکا اسی شوہر کا ہے اس کو حرامی کہنا درست نہیں۔ شریعت سے اس کا نسب ٹھیک ہے۔ اگر دو برس سے ایک دن بھی کم ہو تب بھی یہی حکم ہے ایسا سمجھیں گے کہ طلاق سے پہلے کا پیٹ ہے اور دو برس تک بچہ پیٹ میں رہا اور اب بچہ ہونے کے بعد اس کی عدت ختم ہوئی اور نکاح سے الگ ہوئی۔ ہاں اگر وہ عورت اس جننے سے پہلے خود ہی اقرار کر چکی ہو کہ میری عدت ختم ہو گئی تو مجبوری ہے اب یہ بچہ حرامی ہے بلکہ ایسی عورت کے اگر دو برس کے بعد بچہ ہوا اور ابھی تک عورت نے اپنی عدت ختم ہونے کا اقرار نہیں کیا ہے تب بھی وہ بچہ اسی شوہر ہی کا ہے چاہے جس برس میں ہوا ہو۔ اور ایسا سمجھیں گے کہ طلاق دے دینے کے بعد عدت میں صحبت کی تھی اور طلاق سے باز آ گیا تھا اس لیے وہ عورت اب بچہ پیدا ہونے کے بعد اسی کی بی بی ہے اور نکاح دونوں کا نہیں ٹوٹا۔ اگر مرد کا بچہ نہ ہو تو وہ کہہ دے کہ میرا نہیں ہے اور جب انکار کرے گا تو لعان کا حکم ہو گا۔

مسئلہ5۔ اگر طلاق بائن دے دی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر دو برس کے اندر اندر پیدا ہوا تب تو اسی مرد کا ہو گا اور اگر دو برس کے بعد ہو تو وہ حرامی ہے۔ ہاں اگر دو برس کے بعد پیدا ہونے پر بھی مرد دعوی کرے کہ یہ بچہ میرا ہے تو حرامی نہ ہو گا اور ایسا سمجھیں گے کہ عدت کے اندر دھوکے سے صحبت کر لی ہو گی اس سے پیٹ رہ گیا۔

مسئلہ6۔ اگر نابالغ لڑکی کو طلاق مل گئی جو ابھی جوان تو نہیں ہوئی لیکن جوانی کے قریب قریب ہو گئی ہے پھر طلاق کے بعد پورے نو مہینے میں بچہ پیدا ہوا تو وہ حرامی ہے اور اگر نو مہینے سے کم میں پیدا ہوا تو شوہر کا ہے۔ البتہ وہ لڑکی عدت کے اندر ہی یعنی تین مہینے سے پہلے اقرار کر لے کہ مجھ کو پیٹ ہے تو وہ بچہ حرامی نہ ہو گا۔ دو برس کے اندر اندر پیدا ہونے سے باپ کا کہلائے گا۔

مسئلہ7۔ کسی کا شوہر مر گیا تو مرنے کے وقت اسے اگر دو برس کے اندر بچہ پیدا ہوا تو وہ حرامی نہیں بلکہ شوہر کا بچہ ہے ہاں اگر وہ عورت اپنی عدت ختم ہو جانے کا اقرار کر چکی ہو تو مجبوری ہے۔ اب حرامی کہا جائے گا۔ اور اگر دو برس کے بعد پیدا ہوا تب بھی حرامی ہے۔

تنبیہ ان مسئلوں سے معلوم ہوا کہ جاہل لوگوں کی جو عادت ہے کہ کسی کے مرے پیچھے نو مہینہ سے ایک دو مہینہ بھی زیادہ گزر کر بچہ پیدا ہو تو اس عورت کو بدکار سمجھتے ہیں یہ بڑا گناہ ہے۔

مسئلہ8۔ نکاح کے بعد چھ مہینے سے کم میں بچہ پیدا ہوا تو وہ حرامی ہے اور اگر پورے چھ مہینے یا اس سے زیادہ مدت میں ہوا ہو تو وہ شوہر کا ہے اس پر بھی شبہ کرنا گناہ ہے۔ البتہ اگر شوہر انکار کرے اور کہے کہ میرا نہیں ہے تو لعان کا حکم ہو گا۔

مسئلہ9۔ نکاح تو ہو گیا لیکن ابھی (رواج کے موافق) رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ بچہ پیدا ہو گیا (اور شوہر انکار نہیں کرتا کہ میرا بچہ نہیں ہے) تو وہ بچہ شوہر ہی سے (کہا جائے گا) حرامی نہیں ( کہا جائے گا) اور( دوسروں کو) اس کا حرامی کہنا درست نہیں۔ اگر شوہر کا نہ ہو تو وہ انکار کرے اور انکار کرنے پر لعان کاحکم ہو گا۔

مسئلہ10۔ میاں پردیس میں ہے اور مدت ہو گئی برسیں گزر گئیں کہ گھر نہیں آ یا (اور یہاں لڑکا پیدا ہو گیا اور شوہر اس کو اپنا ہی بتاتا ہے) تب بھی وہ (از روئے قانون شرعی) حرامی نہیں اسی شوہر کا ہے۔ البتہ اگر شوہر پا کر انکار کرے گا تو لعان کا حکم ہو گا۔

روٹی کپڑے کا بیان

مسئلہ1۔ بی بی کا روٹی کپڑا مرد کے ذمہ واجب ہے کہ بی بی کے رہنے کے لیے کوئی اییا جگہ دے جس میں شوہر کا کوئی رشتہ دار نہ رہتا ہو بلکہ خالی ہو تاکہ میاں بی بی بالکل بے تکلفی سے رہ سکیں البتہ اگر عورت خود سب کے ساتھ رہنا گوارا کر لے تو ساجھے کے گھر میں بھی رکھنا درست ہے۔

مسئلہ2۔ گھر میں سے ایک جگہ عورت کو الگ کر دے کہ وہ اپنا مال اسباب حفاظت سے رکھے اور خود اس میں رہے سہے اور اس کی قفل کنجی اپنے پاس رکھے کسی اور کو اس میں دخل نہ ہو۔ فقط عورت اسی کے قبضے میں رہے تو بس حق ادا ہو گیا۔ عورت کو اس سے زیادہ کا دعوی نہیں ہو سکتا اور یہ نہیں کہہ سکتی کہ پورا گھر میرے لیے الگ کر دو۔

مسئلہ3۔ جس طرح عورت کو اختیار ہے کہ اپنے لیے کوئی الگ گھر مانگے جس میں مرد کا کوئی رشتہ دار نہ رہنے پائے فقط عورت ہی کے قبضے میں رہے۔ اسی طرح مرد کو اختیار ہے کہ جس گھر میں عورت رہتی ہے وہاں اس کے رشتہ داروں کو نہ آنے دے نہ ماں کو نہ باپ کو نہ بھائی کو نہ کسی اور رشتہ دار کو۔

مسئلہ4۔ عورت اپنے ماں باپ کو دیکھنے کے لیے ہفتہ میں ایک دفعہ جا سکتی ہے۔ اور ماں باپ کے سوا اور رشتہ داروں کے لیے سال بھر میں ایک دفعہ اس سے زیادہ کا اختیار نہیں۔ اسی طرح اس کے ماں باپ بھی ہفتہ میں فقط ایک مرتبہ یہاں آ سکتے ہیں۔ مرد کو اختیار ہے کہ اس سے زیادہ جلدی جلدی نہ آنے دے۔ اور ماں باپ کے سوا اور رشتہ دار سال بھر میں فقط ایک دفعہ آ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ آ نے کا اختیار نہیں۔ لیکن مرد کو اختیار ہے کہ زیادہ دیر نہ ٹھیرنے دے نہ ماں باپ کو نہ کسی اور کو اور جاننا چاہیے کہ رشتہ داروں سے مطلب وہ رشتہ دار ہیں جن سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ اور جو ایسے نہ ہوں وہ شرع میں غیر کے برابر ہیں۔

مسئلہ5۔ اگر باپ بہت بیمار ہے اور اس کا کوئی خبر لینے والا نہیں تو ضرورت کے موافق وہاں روز جایا کرے اگر باپ بے دین کافر ہو تب بھی یہی حکم ہے بلکہ اگر شوہر منع بھی کرے تب بھی جانا چاہیے۔ لیکن شوہر کے منع کرنے پر جانے سے روٹی کپڑے کا حق نہ رہے گا۔

مسئلہ6۔ غیر لوگوں کے گھر نہ جانا چاہیے۔ اگر بیاہ شادی وغیرہ کی کوئی محفل ہو اور شوہر اجازت بھی دے تو بھی جانا درست نہیں۔ شوہر اجازت دے گا تو وہ بھی گنہگار ہو گا۔ بلکہ محفل کے زمانہ میں اپنے محرم رشتہ دار کے یہاں جانا بھی درست نہیں۔

مسئلہ7۔ جس عورت کو طلاق مل گئی وہ بھی عدت تک روٹی کپڑا اور رہنے کا گھر پانے کی مستحق ہے البتہ جس کا خاوند مر گیا اس کو روٹی کپڑا اور گھر ملنے کا حق نہیں۔ ہاں اس کو میراث سب چیزوں میں ملے گی۔