ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جو چیزیں غیر اختیاری ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہیں اس لئے کہ انسان غیر اختیاری کا مکلف نہیں مثلا نماز میں موضع سجود کے سوا دوسری چیزوں کے دیکھنے کی ممانعت ہے مگر ماحول میں جو چیزیں ہیں وہ بلا اختیار نظر آتی ہیں وہ محل خشوع نہیں گو ان کا انکشاف ضرور ہوتا ہے مگر بلا قصد ہوتا ہے اس لئے مضر نہیں یہی حکم ہے وساوس غیر اختیاری کا اگر دفع نہ ہو قلق نہ کرے پھر دفع کی تدبیروں کے متعلق تقریر کی اس میں حضرت حاجی صاحب کا ارشاد نقل کیا فرماتے تھے کہ اگر وساوس کا ہجوم ہو اور کسی طرح بند ہی نہ ہوں اس وقت یہ مراقبہ کرے کہ حق تعالی کی کیا قدرت ہے کہ دل میں کیسی کیسی چیزیں پیدا فرما دیں ہیں کہ دریا کی طرح امنڈ رہی ہیں روکے نہیں رکتی بس اس مراقبہ سے وہ سب وساوس مراۃ جمال الہی ہو جائیں گے واقعی عجیب بات فرمائی الہ بعد کو الہ قرب بنا دیا واقعی حضرت اس فن کے امام تھے اور عجیب یہ کہ درسیات کی بھی تحصیل نہ فرمائی تھی چنانچہ حضرت حاجی صاحب خود فرمایا کرتے تھے کہ میں ناخواندہ ہوں اور جو کچھ میں بیان کرتا ہوں یہ واردات ہیں اگر یہ کتاب و سنت کے خلاف ہوں عمل نہ کرنا اور مجھ کو بھی اطلاع کر دینا میں بھی توبہ کر لوں گا اگر اطلاع نہ کرو گے تو تمام بوجھ تم پر ہو گا میں بری رہوں گا ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 2
( ملفوظ 633)ذہانت بھی عجیب چیز ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ذہانت بھی عجیب چیز ہے بڑی دولت ہے مگر اس میں برکت جب ہی ہوتی ہے کہ یہ سمجھے کہ میں ذہین نہیں ہوں ورنہ برکت نہ ہو گی پھر ذہانت کا یہ قصہ نقل کیا گیا کہ ایک تبرائی شیعی کو جس وقت وہ علانیہ تبرا کر رہا تھا ایک سنی نے قتل کر دیا مقدمہ دائر ہوا تو حاکم کے سامنے شیعی وکیل نے کہا کہ ہمارے یہاں یہ مذہبی عبادت ہے مذہب میں سب کے لئے آزادی ہونا چاہئے اس لئے قاتل معذور نہیں ، سنی وکیل نے حاکم سے کہا کہ ان کے یہاں یہ عبادت ہے اور ہمارے یہاں ایسے کا قتل کر دینا عبادت ہے یہ اپنی عبادت کریں اور ہم اپنی عبادت کریں دونوں آزاد ہیں آپ مقدمہ خارج کر دیں ہم میں خود فیصلہ ہو رہے گا ۔
( ملفوظ 632) انتظام کی برکت
( ملفوظ 631 ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انتظام بڑی برکت کی چیز ہے ہر کام میں انتظام کی ضرورت ہے اگر میں یہ خاص قواعد اور اصول منضبط نہ کرتا تو اس قدر کام نہ ہو سکتا بہت وقت فضول ہی بے کار جاتا یہ سب انتظام کی برکت ہے اور یہ سب اسلام ہی کی تعلیم ہے مسلمانوں نے اس کو چھوڑ دیا غیر قوموں نے اختیار کر لیا اس لئے راحت میں ہیں ۔
( ملفوظ 631) مسلمانوں کو رزق کی پریشانی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ رزق کا معاملہ بھی بڑا ہی نازک ہے آج کل مسلمانوں بہت پریشان ہیں خصوص بڑے لوگ زیادہ پریشان ہیں کثرت سے لوگوں کے خطوط آتے ہیں جس میں معاش کی شکایت ہوتی ہے دیکھ کر دل پگھل جاتا ہے اور بڑے آدمیوں کی اور زیادہ مشکل ہے کیونکہ یہ کچھ اور کام بھی نہیں کر سکتے چنانچہ ایک صاحب تھے بغدادی وہ یہاں پر رہے بھی سید تھے کچھ پڑھتے بھی تھے میں ان کی اتنی رعایت کرتا تھا کہ ان کے حجرہ میں جا کر سبق پڑھا دیتا تھا اپنے پاس نہیں بلاتا تھا سیاح بھی تھے اور بوڑھے آدمی تھے یہاں سے حیدر آباد چلے گئے وہاں معاش سے بہت تنگ ہو گئے موسی ندی کے طغیانی کے زمانہ میں مزدوری کرنے پر آمادہ ہو گئے مگر ان کو کوئی مزدوری تک میں بھی نہ لگاتا تھا رنگ سرخ و سفید نورانی چہرہ کوئی مزدور بھی نہ سمجھتا تھا آخر کسی دن مزدوری لگ گئی تو صبح سے شام تک کام کیا مشقت کا تحمل نہ ہو سکا بے ہوش ہو کر گر پڑے مجھ کو سن کر بے حد افسوس ہوا کہ بندہ خدا جیسے یہاں آئے تھے یہاں ہی عمر ختم کر دیتے یہاں تک اس کی نوبت نہ آتی ۔
( ملفوظ 630) ذکر اللہ اور عشق حقیقی کا غلبہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے محبوب کی طرف اس قدر مشغول رہنا چاہئے کہ کسی کا دلچسپی سے تصور بھی نہ آئے نہ دوست کا نہ دشمن کا چہ جائے جنگ و جدل
گر ایں مدعی دوست بشناختے بہ پیکار دشمن نہ پرداختے
دیکھئے اگر کسی کا بیٹا مر جائے تو جب تک غم رہے گا قدم اٹھاتا ہے مگر اٹھتا نہیں بادل نخواستہ بات کرتا ہے مگر بات نہیں ہوتی اسی طرح وہ شخص دنیا کے کام کا نہیں رہتا جسے آخرت کی فکر ہو جاتی ہے ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ حجامت بنوا رہے تھے ہونٹ ہل رہے تھے نائی نے کہا کہ حضرت لبوں پر استرا ہے تھوڑی دیر کو لب روک لیجئے ورنہ کٹ جائیں گے فرمایا میاں کٹ بھی جانے دو اس کا نام لینا کیسے چھوڑا جا سکتا ہے ایک اور بزرگ کی حکایت ہے کہ رات بیٹھ کر گزار دیتے بیوی کہتی کہ سو جاؤ بیمار ہو جاؤ گے کہتے کہ جب سے یہ آیت پڑھی ہے :
یایھا الذین آمنو قوا انفسکم و اھلیکم نارا و قودھا الناس و الحجارۃ
نیند نہیں آتی کیا کروں ۔
12 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 629)غیر مقلد صاحب کے ایک اخبار کو آنے سے روکنا
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں ایک اخبار کے متعلق فرمایا کہ اب تو نہ وہ اخبار آتا ہے اور نہ ان کا کوئی خط میں بھیجنے سے منع کر دیا ہے اس میں صوفیہ کی مذمت ہوتی تھی اور کفار کی مدح ۔
( ملفوظ 628) سچی دوستی کون سی ہے ؟
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل دوستی کا نام ہی نام رہ گیا ہے ورنہ حقیقت تو قریب قریب مفقود کے ہے حضرت مولانا گنگوہی کی مجلس میں حافظ محمد احمد صاحب اور مولوی حبیب الرحمن صاحب حاضر تھے جن کی دوستی مشہور و معروف تھی حضرت نے ان سے دریافت فرمایا کہ کبھی تم میں اور ان میں بے لطفی یا لڑائی بھی ہوتی ہے یا نہیں عرض کیا کہ حضرت کبھی کبھی ہو جاتی ہے فرمایا کہ یہ دوستی پائیدار ہے درخت وہ مستحکم ہوتا ہے کہ جس پر آندھی آ چکی ہو پھر اپنی جڑوں کو نہ چھوڑا ہو ۔ بس دوستی بھی وہی ہے کہ باہم لڑائی بھی ہو جائے اور تعلقات باقی رہیں ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر ایک دوست دوسرے سے کہے کہ قرض دے دو اور وہ دریافت کرے کہ کتنا وہ بزرگ کہتے ہیں کہ وہ دوستی کے لائق نہیں اس سے قطع تعلق کر دو دوست وہ ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب لا کر سامنے رکھ دے یہ ہیں اس کے حقوق پھر ایک دوسری حکایت فرمائی کہ ایک دوست نے دوست کو رات کے وقت مکان پر جا کر آواز دی وہ ذرا تاخیر سے آیا اور اس حیثیت سے کہ ہتھیاروں سے مزین ایک حسین و جمیل لونڈی شمع لئے ہوئے اور ایک غلام ایک توڑا روپوں کا کندھے پر لادے ہوئے اس نے پوچھا یہ کیا قصہ ہے کہا کہ جب تم نے آواز دی تو مجھ کو خیال ہوا کہ بے وقت دوست نے آواز دی ہے نہ معلوم کیا قصہ ہے اور مجھ کو کئی احتمال ہوئے ایک یہ کہ ممکن ہے کہ کسی دشمن سے مقابلہ ہو تو ہتھیاروں سے ٹھیک ہو کر آیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی انیس کی ضرورت ہے تو یہ لونڈی لایا اس کو رکھو نکاح کرا دوں گا اور ممکن ہے کہ کسی خادم کی ضرورت ہو یہ غلام موجود ہے اور ممکن ہے کہ روپیہ کی ضرورت ہو روپیہ بھی حاضر ہے اس نے کہا کہ مجھ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں محض تمہارے دیکھنے کو دل چاہتا ہے تو حضرت دوستی تو یہ ہوتی ہے محض آپس میں باتیں کر لینے کا نام دوستی نہیں ۔
(ملفوظ 627) آج کل کے مہمان اور میزبان
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل معاشرت تو اس درجہ خراب ہو گئی ہے کہ قطعا اس کی پرواہ نہیں کی جاتی کہ ہماری اس بات یا کام سے دوسرے کو تکلیف ہو گی یا اس کی پریشانی کا سبب ہو گا اب مہمان داری ہی کو دیکھ لیجئے گاڑیاں چھکڑے بھر بھر کر میزبان کے گھر پہنچ جاتے ہیں نہ یہ خبر کہ اس غریب کے یہاں کھانے کو ہے یا نہیں خصوص کسی کی بیماری یا موت کے موقع پر تو ایسا کرنا نہایت ہی ظلم اور بے رحمی کی بات ہے گھر والے اس کی تیمارداری کو چھوڑ کر ان کی تیمارداری میں لگ جاتے ہیں مردہ کے رونے کو چھوڑ کر ان کا رونا شروع کر دیتے ہیں مشہور ہے کہ مہمانوں کا کھایا ہوا گھر اور چڑیوں کا چگا ہوا کھیت اور چلموں کا مارا ہوا چولہا کبھی پنپ ہی نہیں سکتا مگر مہمانوں کا کھایا ہوا گھر وہ مراد ہے کہ جس کھانے میں تکلف و غلو ہو باقی جس میں تکلف نہیں وہ مراد نہیں سمرقند میں حضرت شیخ سعدی کسی کے یہاں پہنچے میزبان نے بہت تکلفات کئے جب کھانا سامنے آیا تو فرمایا کہ آہ دعوت شیراز میزبان نے اور زیادہ تکلف کیا پھر بھی یہی فرمایا اس نے اپنے دل میں کہا کہ کیا شیراز میں سونا چاندی کھاتے ہیں ایک مرتبہ یہ شخص حضرت سعدی کے یہاں مہمان ہوا پہنچتے ہی ہاتھ دھلوا کر اور جو کچھ دال روٹی تھی لا کر سامنے رکھ دی وہ سمجھا کہ اس وقت نہیں ملا شام کو تکلف ہو گا مگر شام کو بھی وہی پھر دوسرے دن بھی یہی آخر اس شخص نے پوچھا حضرت وہ دعوت شیراز کہاں ہے فرمایا یہی ہے وہ دعوت شیراز اس نے کہا اس میں کیا بات ترجیح کی ہے فرمایا ترجیح یہ ہے کہ اگر تم میرے پاس چار مہینہ بھی ٹھرے رہو تو مجھ پر گرانی نہ ہو گی اور تم چار ہی روز میں دل میں کہنے لگتے کہ خدا کرے جلدی دفع ہو کہاں سے بلا سر پڑی ۔
( ملفوظ 626) اعمال صالحہ کا ملکہ پیدا ہونے سے اجر کم نہیں ہوتا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امور اختیاریہ جن کا صدور ارادہ سے ہوتا ہے اس ارادہ کا تعلق شروع میں کافی ہے اور جب تک ان کی ضد کا صدور نہ ہو وہ آخر فعل تک حکما ممتد رہتا ہے ہر وقت تجدید ارادہ کی ضرورت نہیں ہوتی مثلا چلنے کے لئے ایک مرتبہ کا ارادہ کافی ہے فرض کیجئے کوئی شخص بازار جانے کے لئے چلا تو کیا ہر قدم پر چلنے کا ارادہ کرے گا ہر گز نہیں بس ایک مرتبہ کا ارادہ کافی ہوتا ہے اسی کے اثر سے برابر قدم اٹھتا رہے گا بلکہ اگر کوئی ہر قدم پر جدید ارادہ کرے تو مسافت طے ہونا ہی مشکل ہو جائے دیکھ لیجئے چل بھی رہے ہیں اور کسی سے بات بھی کر رہے ہیں یا کتاب یا اخبار بھی دیکھ رہے ہیں اس وقت چلنے کی طرف مطلق بھی التفات نہیں ہوتا اس سے اس سوال کا جواب نکل آیا کہ ان مجاہدات و ریاضات سے جب ملکہ پیدا ہو جاتا ہے تو طبعی طور پر افعال صادر ہونے لگتے ہیں زیادہ اہتمام و مشقت کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور اجر کامل موقوف ہے اہتمام اور مشقت پر تو ان لوگوں کو اجر کامل بھی نہ ملنا چاہئے بلفظ دیگر یوں کہنا چاہئے کہ منتہی کو مبتدی سے کم اجر ملتا ہے کیونکہ مبتدی کو مشقت ہوتی ہے منتہی کو نہیں ہوتی تقریر جواب کی ظاہر ہے کہ جب مجاہدہ اسی ارادہ سے کیا کہ بے تکلف افعال کا صدور ہونے لگے تو مشقت حکما ہر فعل کے ساتھ ممتد سمجھی جائے گی اور اجر کامل ملے گا اور اپنے کمال میں مبتدی کے اجر سے زیادہ ہو گا کیونکہ مشقت تو امر مشترک ہے ایک جگہ حسا ایک جگہ حکما مگر منتہی میں رسوخ خلق و تثبیت و مہارت و تشبہ بالملئکہ کی جان کی شان میں وارد ہے ۔
یسبحون اللیل و النھار لا یفترون
فضیلت زائد ہے ۔
( ملفوظ 625)دینی عزت نماز سے اور دنیاوی عزت پردہ سے ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل یورپ کو علوم سے ذرہ برابر بھی مناسبت نہیں ایک یورپین سے ایک مسلمان کی پردے کے متعلق گفتگو ہوئی انگریز نے کہا کہ جس کو تم پردہ کہتا ہے یہ قید خانہ ہے انہوں نے کہا یہ قید خانہ ہی کی برکت ہے کہ عفت محفوظ ہے اور آزادی کا جو نتیجہ ہے ظاہر ہے بس یہ ان کے علوم ہیں اسی سلسلہ میں ایک صاحب کے جواب میں فرمایا کہ دینی عزت تو نماز سے ہے اور دنیاوی عزت پردے سے ہے ۔

You must be logged in to post a comment.