( ملفوظ 624) فقہاء اور صوفیہ حکماء ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صوفیہ اور فقہاء یہ دونوں فرقے واقعی حکماء ہیں احکام ظاہری و باطنی کے حقائق اور معارف ان ہی حضرات کی بدولت نصیب ہوئے مگر افسوس آج کل ان حضرات کی مخالفت پر لوگ سرگرم ہیں نہایت حماقت ہے ۔

( ملفوظ 623)اختیاری و غیر اختیاری کا فرق نصف سلوک ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امور اختیاریہ کا اہتمام کرو اور غیر اختیاریہ کا پیچھا چھوڑو بس یہ نصف سلوک ہے بلکہ اگر تعمق کی نظر سے دیکھا جائے توکل ہی سلوک ہے آج کل غیر اختیاری کاموں کے پیچھے پڑنے کی وجہ سے لوگ بہت ہی زیادہ پریشان ہیں سو اس کے لئے ضرورت ہے کہ کسی کی صحبت میں رہے اس کی صحبت میں رہ کر راہ معلوم ہو گی اور منزل پر پہنچ جائے گا مثلا نماز میں ناواقفی سے جس حضور کو تم چاہتے ہو وہ نہیں ہوا اب پریشانی ہو گی دیکھنا یہ ہے کہ جس حضور کو تم چاہتے ہو وہ اختیاری ہے یا غیر اختیاری اختیار تو صرف اتنا ہے کہ نماز کی طرف قصد اور توجہ سے لگا رہنا اب اس پر قطع خواطر کا ثمرہ یہ دوسری چیز ہے سو قصد اور توجہ تو اختیاری ہے اور ثمرہ مذکورہ غیر اختیاری پس اگر یہ ثمرہ نہ بھی مرتب ہو تب بھی حضور میسر ہے پریشان نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ غیر اختیاری چیز کبھی مقصود کے منافی نہیں ہوتی مثلا ایک شخص عملا سخی ہے مگر طبعا بخیل ہے تو طبعا جو بخل ہے جب تک اس کے اقتضاء پر عمل نہ کرے گا یہ منافی مقصود کے نہیں کمال مقصود اس کو حاصل ہے اور چند روز کی مقاومت سے وہ داعیہ الی الشر بھی مضمحل ہو جائے گا اور میں تو کہتا ہوں کہ اگر ساری عمر بھی یوں ہی گزر جائے اور وہ داعیہ مضمحل نہ ہو تب بھی نقصان کیا ہوا بلکہ اس کشمکش کی وجہ سے نفع ہوا کہ اجر بڑھ گیا ۔

( ملفوظ 622) بدعتی اور وہابی کی مختصر لفظوں میں تعریف

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا فیض الحسن صاحب سہارنپوری بڑے ظریف تھے کسی نے ان سے بدعتی اور وہابی کے معنی پوچھے تو عجیب تفسیر کی فرمایا کہ بدعتی کے معنی ہیں با ادب بے ایمان اور وہابی کے معنی ہیں بے ادب با ایمان آج کل کے بدعتی اکثر شریر ہوتے ہیں پہلے لوگوں میں یہ بات نہ تھی وجہ یہ کہ وہ اللہ اللہ کرنے والے ہوتے تھے اس کی برکت سے ان میں تدین تھا اور اب تو بکثرت فاسق فاجر ہوتے ہیں جن کو دین سے کوئی لگاؤ ہی نہیں ہوتا اور اس وقت یہی حالت غیر مقلدوں کی بھی ہے اور مزید برآں یہ کہ تہذیب سے بھی کورے ہوتے ہیں ایک صاحب کا یہاں پر اخبار آتا تھا اس میں کافر حکام و رؤساء کی مدح ہوتی تھی اور ماشاء اللہ اہل حدیث کہلاتے ہیں کفار کو اولی الامر منکم میں داخل لکھتے تھے کہاں تو یہ سوء ظن کہ بزرگان سلف کو بھی برا بھلا کہا جاتا ہے اور کہاں یہ حسن ظن کہ کفار کی مدح کی جاتی ہے یہ ان کا دین ہے بس اغراض نفسانی کو دین سمجھ رکھا ہے کہ ایسے لوگوں سے کچھ ملنے کی امید ہو گی ان کی ہی تعریف شروع کر دی میں نے لکھ دیا کہ تمہارے اخبار میں کفار کی مدح ہوتی ہے لہذا یہاں اخبار نہ بھیجا کرو ان ہی صاحب نے تفسیر بیان القرآن کے ایک مقام پر اعتراض کیا ہے نہایت ہی بد تہذیبی سے میں اس کی شکایت نہیں کرتا کہ اعتراض کیوں کیا کسی کی غلطیوں پر مطلع کرنا طاعت ہے مگر آدمیت تو ہو مگر ایسے لوگوں کو دین تھوڑا ہی مقصود ہے اور ایسے لوگ ان ہی سے باز آتے ہیں جو گنبد کی آواز ہیں کہ جیسی کہے ویسی سنے ، ہم کو غریب سمجھ کر ڈانٹ لیتے ہیں اس وقت طبائع کا یہی رنگ ہے کہ نرمی والوں کو ستاتے ہیں اور سختی والوں سے دبتے ہیں اس کی تائید میں ایک قصہ بیان فرمایا کہ ایک مولوی صاحب تھے دہلی کے وہ بیان کرتے تھے کہ میں ایک رئیس کے یہاں مہمان تھا شب کو بڑے استنجے کی ضرورت ہوئی اٹھ کر بیت الخلاء گیا وہاں سے نکلتے ہوئے سنتری نے ٹوکا کون اگر میں حضرات دیوبندیوں کا طرز اختیار کرتا کہ میں ہوں حقیر فقیر پرتقصیر تو اس وقت پٹتا تھا بعد میں خواہ کچھ ہی ہوتا اس لئے ہم نے کہا کہ ہم ہیں مولانا صاحب دہلی والے تو کیا بکتا ہے نالائق اس سنتری نے عرض کیا کہ حضور پہچانا نہیں تھا ہم نے کہا ہاں اندھا ہے سارے دن تو ہم کو دیکھا پھر بھی نہیں پہچانا صبح ہونے دے تب خبر لی جائے گی بس قدموں پر گر پڑا اور ٹھیک ہو گیا یہ تو بہادروں کا قصہ ہے مگر ہم سے تو ایسی بہادری ہو نہیں سکتی ہم تو حقیر فقیر پرتقصیر ہی ہیں جو جس کے جی میں آتا ہے کہہ لیتا ہے ہمارے بزرگوں کا تو یہی طرز رہا ہے کہ اپنے کو مٹائے رہتے تھے ۔ ہم کو بھی وہی پسند ہے مولانا مظفر حسین صاحب کاندھلوی کا ایک واقعہ یاد آیا کسی سفر میں تشریف لے جا رہے تھے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ سر پر بہت سا بوجھ لادے جا رہا ہے فرمایا لاؤ بھائی میں لے لو تو بوڑھا ہے تھک گیا ہو گا اس نے کہا کہ بھائی تو بھی تو بوڑھا ہے مولانا نے فرمایا اول تو میں ایسا بوڑھا نہیں دوسرے ذرا تازہ دم ہوں وہ غریب پہچانتا نہ تھا آخر بوجھ دے دیا آپ نے اس کے گاؤں تک پہنچا دیا راستہ میں مختلف باتیں ہوئی باتوں باتوں میں اس شخص نے یہ بھی کہا کہ میں نے سنا ہے کہ مولوی مظفر حسین صاحب اس طرف آئے ہوئے ہیں بھائی اگر تجھ کو خبر ہو مجھ کو بھی خبر کر دیجیو فرمایا کہ کر دوں گا جب رخصت ہونے لگے تب فرمایا بھائی مظفر حسین میں ہی ہوں وہ بے چارہ قدموں میں گر پڑا اور بے حد نادم ہوا آپ نے اس کی تسلی کی اور بات کو ختم کیا حضرت یہ سب عشق کے کرشمے ہیں کہ اس طرح مٹا دیتا ہے اور یہی حالت ہو جاتی ہے ۔
ایں چنیں شیخے گدائے کوبکو عشق آمد لا ابالی فاتقوا
اور اس کی یہ کیفیت ہے فرماتے ہیں ۔
عشق آں شعلہ است کوچوں بر فروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
یہ ان کی دیوانگی وہ دیوانگی ہے جس کو مولانا فرماتے ہیں
اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شد مرعسس راہ دید و درخانہ نہ شد
ما اگر قلاش وما دیوانہ ایم مست آں ساقی و آں پیمانہ ایم
اس مذاق کو دیوانگی کہا جاتا ہے مگر معلوم بھی ہے کہ ہزاروں ہوشیاریاں اس پر قربان ہیں نیز علاوہ عشق کے ایک بات یہ بھی ہے کہ اہل کمال کبھی ایسی چیزوں کی طرف نظر نہیں کرتے کہ اس میں ہماری سبکی ہو گی یا کیا ہو گا ان میں ایک استغنا کی شان ہوتی ہے کمال میں یہی خاصیت ہے یہ بادشاہ کو بھی منہ نہیں لگاتے آپ دیکھ لیجئے کیمیا گر کس حالت سے رہتا ہے نہ لباس درست نہ جسم صاف مگر بڑے بڑے والیان ملک کو موقع پر گدھا تک کہہ دیتا ہے یہ استغناء کس چیز کی بدولت ہے صرف کمال کی بدولت خوب کہا ہے ۔
موحد چوبرپائے ریزی زرش چہ فولاد ہندی نہی برسرش
امید وہر اسش نباشد زکس ہمیں است بنیاد توحید و بس

( ملفوظ 621)مستورات کے ساتھ سفر میں محرم ہونا

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سفر میں مستورات کے ساتھ ان کے محرم کا دوسروں پر بھی قدرتی طور ہیبت پڑتی ہے محرم کی جو مانع فتن ہے ۔

( ملفوظ 620) شیخ کو ذرا برابر بھی مکدر نہ کرنا چاہئے

ایک صاحب کی غلطی پر مؤاخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص سے اصلاح باطن کا تعلق ہو اس کو رائی برابر بھی مکدر کرنا ایسا ہے جیسے بڑا پہاڑ بیچ میں آ گیا اور حجاب ہو جاتا ہے اور فیض بند ہو جاتا ہے اور یہ بات وجدانی ہے اس طریق میں کدورت اور نفع دونوں جمع نہیں ہو سکتے مگر کدورت اور نفع دونوں جمع نہیں ہو سکتے مگر کدورت اسی سے ہوتی ہے جس سے توقع ہوتی ہے ۔
ایک روہیل کھنڈ کے مولوی صاحب نے مجھ کو ہمیشہ گالیاں دیں مگر ذرہ برابر بھی کبھی اثر نہیں ہوا نہ کوئی شکایت ہوئی شکایت بھی دوستوں ہی سے ہوا کرتی ہے دشمن کی کیا شکایت جو دوستی کا دعوی کرتے ہیں ان سے اذیت کی برداشت نہیں اور اس اذیت کا سبب کم فہمی نہیں ہوتی بلکہ بے فکری ہوتی ہے فکر سے کام لے تو کبھی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے حتی کہ اگر ایسے شخص سے کبھی کوئی نا مناسب حرکت بھی ہو جائے وہ بھی بہت خفیف اور کبھی اتفاقا ہو گی اور چونکہ صاحب معاملہ کو معلوم ہو گا کہ یہ شخص فکر سے کام لیتا ہے مگر باوجود قصد اور فکر کے ایسا ہو گیا تو اس پر بھی کوئی اثر نہ ہو گا ۔

( ملفوظ 619)اجنبی شخص کے ہدیہ کی واپسی

ایک صاحب نے ہدیہ حضرت والا کی خدمت میں کچھ پیش کیا حضرت والا نے لینے سے انکار فرما دیا اور فرمایا کہ انہوں نے کبھی نہ کوئی مسئلہ پوچھا نہ اللہ کا راستہ معلوم کیا اس لئے ان سے لیتے ہوئے جی شرماتا ہے اور یہ تو مالی خدمت ہے جس میں کچھ خرچ بھی ہے میں تو ایسے شخص سے کہ جس نے مجھ سے کوئی خدمت نہ لی ہو جسمانی خدمت بھی نہیں لیتا جس میں کچھ خرچ بھی نہیں اور یہ میرے فطری امور ہیں ان کے خلاف پر میں قادر نہیں ان باتوں کو لوگ سختی سے تعبیر کرتے ہیں ۔

( ملفوظ 618)تحریکات میں شور مچانے کی وجہ سے زیادہ معلوم ہونا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات کے زمانہ میں لوگ سمجھتے تھے کہ شرکاء زیادہ ہیں حالانکہ یہ خیال غلط تھا شریک بہت کم تھے مگر وہ زیادہ اس وجہ سے معلوم ہوتے تھے کہ وہ شور و غل بہت کرتے پھرتے تھے ان سے ان کی تعداد زیادہ معلوم ہوتی تھی ورنہ واقع میں تعداد زیادہ ان ہی کی تھی جو شریک نہ تھے ۔

( ملفوظ 617)خوف حدا اعتدال کے اندر مبارک ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ بڑی مبارک حالت ہے کہ ہر حالت میں خوف رہے اندیشہ رہے یہ بڑی دولت ہے مگر قصدا خوف کا اس قدر مراقبہ نہیں کرنا چاہئے جو حد اعتدال سے بڑھ جائے اس میں اندیشہ ہے کہ کہیں مایوسی کی نوبت نہ آ جائے پھر اس سے تعطل تک نوبت آ جاتی ہے ہر چیز کے خواص جدا جدا ہیں اور ہر چیز کی ایک حد ہے اور حدود پر رہنے کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ کسی جاننے والے کے اپنے کو سپرد کر دے جو وہ کہے اس کا اتباع کرے بس اسی ہی میں خیر ہے ورنہ قدم قدم پر خطرہ ہے ۔
13 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ

( ملفوظ 616)کالج میں دین پر فالج گرتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کالج نہیں فالج ہے جہاں دین سلب ہو جاتا ہے ۔

( ملفوظ 615) بوتلیں ٹوٹنے پر تادیب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک زمانہ میں سہارنپور سے ہاضم بوتلیں منگایا کرتا تھا یک شخص بوتلیں لے کر آئے بکس بے احتیاطی سے اٹھایا سب بوتلیں ٹوٹ گئیں میں نے کہا کہ ضمان دو مگر چونکہ تادیب مقصود تھی تعذیب مقصود نہ تھی اس لئے بعد ادائے ضمان اتنی رقم ان کو تبرعا دے دی ۔