( ملفوظ 604) حضرت حاجی صاحب کا حضرت گنگوہی کو فرمان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا شیخ محمد صاحب حضرت مولانا گنگوہی کی نسبت چاہتے تھے کہ مجھ سے بیعت ہوں مگر حضرت مولانا نے حاجی صاحب کو ترجیح دی اور حاضر ہو کر چالیس روز رہے اور چاہیس روز تک ایک ہی جوڑا بدن پر رہا جب رخصت ہو کر چلے تو حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ جو کچھ دینا تھا میں دے چکا مولانا نے دل میں کہا کہ کیا دیا میں تو جیسا پہلے تھا ویسا ہی اب بھی ہوں مگر حضرت نے یہی فرمایا کہ جو ہم کو دینا تھا دے چکے حضرت گنگوہی فرماتے تھے کہ پندرہ برس کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت نے کیا دیا تھا اور یہ بھی فرمایا کہ اگر یہ معلوم ہوتا کہ وہ چیز یہ ہے تو اتنی محنت کیوں کرتے یہ تو بلا محنت ہی مل جاتا ہے میں نے کہا جی ہاں اس محنت ہی کی بدولت توپندرہ برس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ دیا تھا ۔

( ملفوظ 603) حضرت نانوتوی کو حضرت حاجی صاحب سے عشق

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے فرمایا کہ بھائی پڑھنا پڑھانا تو اور چیز ہے مگر بیعت تو ہوں گے حضرت امداد ہی سے حضرت مولانا کو حضرت کے ساتھ عشق کا درجہ تھا ۔
” جو ہم نے دینا تھا دے چکے “

( ملفوظ 602)حضرت حاجی صاحب اور علم کی رعایت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب فن طریقت کے امام تھے حضرت کی بصیرت کا کیا ٹھکانا تھا مجھ کو بیعت کرنے کے وقت یہ شرط لگائی تھی کہ پڑھنے پڑھانے کے شغل کو ترک نہ کرنا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی ضرورت کا کس درجہ ادراک تھا اسی لئے علماء کا بے حد احترام فرماتے تھے ایک مرتبہ مولوی رحمت اللہ صاحب نے حضرت پر کچھ اعتراضات کئے حضرت کو بھی طبعا ناگواری ہوئی اور جواب دے کر یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اپنے بچوں کو بلا لوں گا تو ناطقہ بند کر دیں گے اتفاق سے اس زمانہ میں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب اور حضرت مولانا گنگوہی صبح کو تشریف لے گئے اور یہ واقعہ سن کر ان حضرات کو بھی ناگوار ہوا اور باہم یہ مشورہ کیا کہ ہم مولوی صاحب سے جا کر پوچھیں گے حضرت حاجی صاحب کو خبر ہوئی تو فرمایا نہ بھائی تم کچھ نہ بولنا میں ان کا احترام کرتا ہوں ہاں جا کر مل آؤ یہ حضرات گئے اور مل کر چلے آئے ۔

( ملفوظ 601)درس نظامی سے عقل میں خاص ترقی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کو جو دینی دولت ملی یہ سب قرآن و حدیث کی بدولت ملی سلامت طبع سلامت فہم سلامت عقل و ذہانت فقہا ہی کو دیکھ لیجئے کہ ان حضرات کا کیا رنگ ہے بڑے بڑے فلاسفر ان کے سامنے گرد ہیں فقہ سے خاص طور پر سلامت فہم پیدا ہوتی ہے مولوی ناظر حسین وکیل تھے رامپور میں بڑے بڑے بیرسٹروں کے کان کترتے تھے وہ کہتے تھے کہ میں نے فقہ سمجھ کر پڑھا ہے واقعی اگر کوئی درسی کتابیں سمجھ کر پڑھ لے تو اس کا مقابلہ بڑے بڑے ڈگری یافتہ نہیں کر سکتے اس سے عقل میں خاص ترقی ہوتی ہے ۔

( ملفوظ 600) حضرت شیخ الہند کا ملاقات میں سبقت فرمانا

حضرت مولانا دیوبند کی تواضع کا ذکر تھا اس سلسلہ میں فرمایا کہ میں جب کبھی دیوبند گیا بہت کم ایسا اتفاق ہوا کہ میں حاضری میں سبقت کر سکا ہوں ورنہ خود حضرت تشریف لے آتے تھے پھر فرمایا کہ اگر طریقت میں داخل ہو کر تواضع بھی نہ ہوئی تو کچھ بھی نہ ہوا ۔

( ملفوظ 599) غیر مقلد اور سوء ظن

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت اعتقاد کا بڑا مدار حسن ظن نہ ہو اس کی اچھی بات بھی بری معلوم ہوتی ہے اور آج کل کے اکثر غیر مقلدوں میں تو سوء ظن کا خاص مرض ہے کسی کے ساتھ بھی حسن ظن نہیں بڑے ہی جری ہوتے ہیں جو جی میں آتا ہے جس کو چاہتے ہیں جو چاہیں کہہ ڈالتے ہیں ایک سنت کی حمایت میں دوسری سنت کا ابطال کرنے لگتے ہیں اور اس کو مردہ سنت کا احیاء کہتے ہیں اس کے متعلق مولانا شاہ عبدالقادر صاحب نے خوب جواب دیا تھا مولانا شہید رحمۃ اللہ علیہ کو انہوں نے جہر بالتا مین کے متعلق کہا تھا کہ حضرت آمین بالجہر سنت ہے اور یہ سنت مردہ ہو چکی ہے اس لئے اس کے زندہ کرنے کی ضرورت ہے شاہ عبدالقادر صاحب نے فرمایا کہ یہ حدیث اس سنت کے باب میں ہے جس کے مقابل بدعت ہو اور جہاں سنت کے مقابل سنت ہو وہاں یہ نہیں اور آمین بالسر بھی سنت ہے تو اس کا وجود بھی سنت کی حیات ہے مولانا شہید نے کچھ جواب نہیں دیا واقعی عجیب جواب ہے حضرت مولانا دیوبندی ایک بار خورجہ تشریف لے گئے وہاں پر بھی ایک غیر مقلد نے یہ کہا تھا کہ یہ سنت مردہ ہو گئی ہے اس لئے میں جہر سے کہتا ہوں آپ نے فرمایا لیکن غیر مقلدوں میں آمین بالسر مردہ ہو گئی وہاں آمین بالسر کہا کرو تو وہ غیر مقلد گھبرا کر کہتا ہے واہ صاحب خوب فرمایا کہ یہاں بھی پٹوں اور وہاں بھی ۔

( ملفوظ 598)مفقود الخبر میں حرج

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب سے ایک شخص نے سوال کیا کہ مفقود الخبر میں تو بڑا حرج ہے فرمایا جی ہاں جہاد میں اس سے بھی بڑا حرج ہے گرمی کے روزوں میں بھی بڑا حرج ہے سب کو قرآن سے نکال دو حرج حرج لئے پھرتا ہے ۔

( ملفوظ 597) بزرگوں میں حدت ہوتی ہے شدت نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان حضرات میں تادیب کے وقت بھی کبر نہیں ہوتا حدت ہوتی ہے شدت نہیں ہوتی درستی ہوتی ہے درشتی نہیں ہوتی ۔

( ملفوظ 595)آریہ اور سناتن دھرمیوں میں فرق

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آریہ بہ نسبت سناتن دھرمیوں کے زیادہ مشرک ہیں تین قدیم الذات کے قائل ہیں خدا تعالی اور مادہ اور روح میں تو ان کو ناریہ کہا کرتا ہوں بخلاف سناتن دھرمیوں کے کہ وہ قدیم بالذات ایک ہی کو سمجھتے ہیں اور دوسرے بعض مخلوقات کے ساتھ اس کے حلول یا اتحاد کے قائل ہیں گو یہ بھی کفر و شرک ہے ۔
10 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یکشنبہ

( ملفوظ 596)حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے یہاں مجھ پر ڈانٹ پڑی تھی میں رات کو پہنچا تو بہت خفا ہوئے کہ یہ وقت آنے کا ہے تم کو خدا کا خوف نہ آیا تم کو زمین نہ نگل گئی میں نے دل میں کہا کہ جو چاہو کہہ لو ہم تو سننے ہی کے واسطے آئے ہیں اس وقت تو اس کا استحضار تھا ۔
تو بیک زخمے گریزانی زعشق تو بجز نامے چہ میدانی زعشق
اللہ کا شکر ہے کہ مجھ کو برا نہیں معلوم ہوا مولانا کی باتیں عجیب ہوتی تھیں ایک شخص نے مولد کے متعلق سوال کیا فرمایا کہ میاں ہم تو ہر وقت مولد ہی میں رہتے ہیں ۔
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
پڑھتے ہیں اگر آپ کی ولادت نہ ہوتی تو یہ کلمہ کہاں نصیب ہوتا ایک شخص نے سوال کیا کہ حضرت اور معاملات میں تو دو شاہد کافی ہیں زنا میں چار شاہدوں کی شرط کیوں ہے فرمایا کہ وہ فعل بھی تو دو کا ہے اور مگر نکتہ کے درجہ میں ہے ۔