ارشاد فرمایا کہ حدیث میں مضمون ہے : شباب اھل الجنۃ الحسن والحسین و سیدا کھول اھل الجنۃ ابوبکر و عمر :
امیں خدشہ ہو کرتا ہے کہ عمر تو مرد و امامین کی بھی کہولت کو پہنچی ہے کیونکہ حضرت حسن کا انتقال تقریبا پینتالیس برس کی عمر میں ہوا اور حضرت حسین قریبا چھپن ستاون برس کی عمر میں شہید ہوئے ـ پھر ان کو شباب کیسے فرمایا اور اگر اس کا جواب یہ دیا جائے کہ یہاں شباب شیخوخت ( بڑھاپے ) کے مقابلہ میں ہے چونکہ امامین کی عمر سن شیخوخت تک نہیں پہنچی اس لئے ان کو شباب فرمایا تو اس کی توجیہ تو ہو جائے گی مگر یہ وجہ شیخین میں بھی مشترک ہے پھر ان کو کہول کی کیا حکمت ہے ـ سو توجیہ اسکی یہ مناسب معلوم ہوتی ہے کہ حضرات شیخین وفات کے وقت کہول تھے ان کے مجموعہ وفاتین کے وقت یعنی جب حضرت عمر کی وفات ہوئی ہے ـ حضرت حسین شباب تھے پس لفظ شباب اپنے معنے پر رہے گا ـ
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 3
( ملفوظ 537)سورۃ یسین پڑھنے سے دس قرآن پڑھنے کا ثواب
ارشاد فرمایا کہ یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک دفعہ یسین پڑھنے سے دس قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ـ ایسے ہی بعض اور دوستوں کے پڑھنے کا ثواب مثلا ثلث قرآن یا ربع قرآن کا آیا ہے ـ اس پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ اگر ایک دفعہ یسین پڑھنے کا ثواب دس قرآن پڑھنے کا ہوا تو دس قرآنوں میں بھی تو یسین ہے ـ تو ان میں بھی یہی حساب ہوگا ـ پھر ان میں بھی چونکہ یسین ہے اس لئے یہ سلسلہ الی غیرالنھایہ چلے گا ـ اور یہ تسلسل محال ہو جائے گا ـ پس یہ تضاعف اجر ( اجر کا بڑھنا ، مستلزم ہے ) تسلسل محال کو اور مستلزم محال کو محال ہے ـ اس کو جواب مشہور یہ ہے کہ تضاعف اجر میں وہ دس قرآن مراد ہیں جن میں سورۃ یسین نہ ہو مگر میرے نزدیک یہ اس لئے بعید ہے کہ یسین جزو قرآن ہے اور انتفائے جزو سے انتفائے کل لازم ہے تو جب ان میں یسین نہ ہوئی تو وہ پورا قرآن کیسے ہوگا بلکہ اسکی قریب توجیہ یہ مناسب ہے کہ تضاعف اجر قراۃ حقیقیہ پر ہے پس جو یسین پڑھی گئی ہو اس کی قراۃ تو حقیقی ہے ـ اور جن دس قرآن کا ثواب اس میں ملا ہے ان کی قرات حکمی ہے اور اس حکمی پر تضاعف موعود نہیں ـ پس تسلسل لازم نہیں آیا ـ
( ملفوظ 536)ولا یفلح الساحر پر شبہ
ارشاد فرمایا ولا یفلح الساحرمیں شبہ ہوتا ہے کہ ساحر تو اکثر کامیاب ہوتا ہے پھر باوجود اس کے یہ ارشاد ہوتا ہے کہ ولا یفلح الساحر ـ میرے نزدیک یہاں پر ایک قید محذوف ہے جو قصہ موسی علیہ السلام و ساحرین سے معلوم ہوتا ہے ـ وہ یہ کہ ولا یفلح الساحر فی معارضتہ اممجزۃ ( یعنی ساحر معجزہ کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا )
( ملفوظ 535)بروں کی صحبت سے اجتناب ہو تو ان کی اصلاح کیسے ہو گی ؟
ارشاد فرمایا کہ ایک صاحب نے پوچھا کہ شریعت میں نیک صحبت کا امر ـ اور بد صحبت سے نہیں آئی ہے ـ پس اگر کوئی برا آدمی کے پاس بیٹھے تو یہ برا آدمی تو بیشک نیک صحبت میں ہوگا ـ اس نے تو اس امر پر عمل کیا مگر وہ نیک اس برے آدمی کے پاس سے اگر نہیں بھاگتا تو نیک نہیں رہ سکتا کیونکہ مخالف ہوا صحبت بد سے نہیں اور اگر بھاگتا ہے تو وہ بد آدمی پھر نیک صحبت سے کیسے فائدہ حاصل کرے ـ حاصل یہ کہ اس طرح تو نیک صحبت کسی طرح میسر نہیں آ سکتی ـ میں نے جواب دیا کہ تجربہ اس کی شہادت دیتا ہے کہ طالب ہمیشہ متاثر ہوتا ہے اور مطلوب موثر یہاں بن کر اس نیک آدمی کے پاس آتا ہے بوجہ طالب ہونے کے وہ متاثر ہوگا ـ بس اس اجتماع سے وہ برا مشفع ہوا اور یہ نیک متضرر نہ ہوا اور اس نہی شرعی کا مقصود یہ ہے کہ تم بد کے طالب یعنی تابع بن کر اس کے پاس مت بیٹھو ـ اب اشکال نہ رہا ـ
( ملفوظ 534)وو جدک ضالا فھدی کا ترجمہ
ارشاد فرمایا کہ ایک صاحب نے مجھ سے درخواست کی کہ وو جدک ضالا فھدی کا لفظی ترجمہ کر دو پھر سوال کروں گا وہ سمجھے تھے کہ یہ ضال کا ترجمہ گمراہ کریں گے ـ اور میں اعتراض کروں گا میں نے ترجمہ یہ کیا کہ پایا آپ کو آپ کے رب نے ناواقف پس واقف بنا دیا ـ اس ترجمے سے ان کے سب اعتراض پادر ہوا ہو گئے اور حقیقت میں لفظ ضال محاورہ عرب میں عام ہے ـ مگر اردو میں اکثر استعمال اس کا معنی اول میں ہے اس لئے ہماری زبان کے اعتبار سے ترجمہ گمراہ منشا اشکال ہوتا ہے ـ
( ملفوظ 533)رسول کے قوم کے ہم زبان ہونے سے عموم رسالت میں کمی نہیں آتی
ارشاد فرمایا کہ آلہ آباد میں ایک دفعہ جانا ہوا ـ اور سید اکبر حسین صاحب جج اس زمانہ میں کسی منتہی طالب علم سے عربی پڑھتے تھے انہوں نے طالب علم مذکور سے سوال کیا کہ : وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر رسول کی زبان اس کی قوم کی زبان ہوتی ہے اور یہ یقینی بات کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان عربی تھی اس بناء پر یہ ہونا چاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم یعنی جن کی طرف آپ مبعوث ہوئے صرف اہل عرب ہوں حالانکہ خود قرآن میں آپ کا رسول الی کافتہ الناس ہونا ـ مصرح ہے اور عقیدہ بھی یہی ہے اور یہ صریح تعارض ہے طالب علم مزکور نے جواب دیا مگر ان کی تشفی نہ ہوئی اس طالب علم نے آ کر مجھے ذکر کیا میں نے اوس کی زبانی کہلا بھیجا کہ قرآن میں بلسان قومہ آیا ہے ـ بلسان امتہ نہیں آیا جو یہ شبہ ہو ـ اور قوم کہتے ہیں برادری اور خاندان کو پس وہ امت کا مرادف نہیں ہے اور قوم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بلا شک عرب قریش ہی تھے مگر اس امت کا خاص عرب ہونا کیسے لازم آیا ـ پس رسالت عام ہے قوم اور غیر قوم کو ـ اس جواب کو انہوں نے بہت ہی پسند کیا
( ملفوظ 533 ) دنیا کی چیزیں شیخ چلی کا خیال ہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں بدون مجاہد اور جوتے کھائے ہوئے کچھ بننا شیخ چلی والی حکایت سے اور اس کے خیالی حساب سے کم نہیں اسی طرح تم بھی شیخ چلی کا سا گھر کا سا گھر لیجانا تھا ـ مزدور کی ضرورت تھی اتفاق سے شیخ چلی نظر پڑ گئے ان سے دریافت کیا تم مزدوری کرتے ہو یہ تیار ہو گئے اس نے کہا چلو یہ گھڑا تیل کا ہمارے گھر تک پہنچا دو ہم تم کو پیسہ دیں گے شیخ چلی نے منظور کر لیا اور سر پر گھڑا رکھ کر چلے اب راستہ میں اپنے دل میں منصوبہ گانٹھا کہ آج مزدوری کے دو پیسے ملیں گے ان سے تجارت کرنا چاہئے اور وہ اس طرح کہ ان پیسوں کے دو انڈے خریدں گے ان کو کسی راضی کر کے مرغی کے نیچے بٹھاؤں گا ان سے دو بچے نکلیں گے ایک مرغ ایک مرغی ایک مرغی گویا یہ بھی ان کے قبضہ کی بات تھی کہ نر اور مادہ ہی نکلیں گے غرض گھر کی مرغی گھر کا مرغا ہوگا ان سے بہت سے انڈے ہوں گے پھر ان سے بہت سے بچے ہوں گے ان کو بیچ کر بکریاں خریدں گے پھر بہت سی بکریاں ہو جائیں گی ان کو بیچ کر گائے خریدیں گے پھر بھینس اور بھینیسیں سے گھوڑوں کی تجارت کریں گے جب بہت سا روپیہ جمع ہو جائے گا تو ایک بڑا محل تیار کرائیں گے اور کسی امیر گھرانے کی لڑکی سے نکاح کریں گے اس سے بچہ پیدا ہوگا جب بڑا ہو جائے گا تو وہ ہم کو بلانے آئے گا کہ ابا جان اماں جان بلا رہی ہیں چلو ہم اس کو ڈانٹ دیں گے اور کہیں گے کہ ہشت ہم نہیں جائیں گے ہمیں کام سے مہلت نہیں اس ہشت کہینے پر غفلت میں سر جو ہلا اس پر سے گھڑا گر گیا اور تیل زمین پر پہنچ گیا مالک خفا ہوا کہ نالائق یہ کیا حرکت کی میرا اتنا تیل ضائع کیا تو کہتے ہیں کہ میں چلو بیٹھو تم اپنے ذرا سے تیل کے نقصان کے لئے پھرتے ہو یہاں بنا بنایا گھر ہی برباد ہو گیا میرے تقصان پر نظر نہ کی ساری تجارت ہزاروں روپیہ تمام کنبہ ہی ختم ہو گیا ـ یہ شیخ چلی کا سا خیال قیامت کے دن ظاہر ہوگا کہ نہ تجارت ہے نہ ہاتھی نہ گھوڑے نہ مرغی نہ مرغہ نہ بکریاں نہ گائے نہ بھینس نہ کیک نہ بسکٹ نہ مکھن نہ فوج نہ پلیٹیں نہ جاہ نہ عزت نہ چشم نہ خدم نہ محل نہ کوٹھی نہ بنگلے نہ بیوی نہ بچے نہ کنبہ نہ روپیہ نہ ملک غرض نہ کوئی ساز نہ سامان کچھ بھی نہیں اس کا صدقہ اس وقت کی یہ حالت ہوگی خواب تھا جو کچھ دیکھا تھا جو سنا افسانہ تھا یہاں پر بڑے بڑے دعوے ہیں کسی کو اپنی شجاعت پر کسی کو حکومت پر کسی کو اپنے حسن و جمال پر کسی کو جاہ اور عزت پر کسی کو اپنے علم پر کسی کو اپنے حسن و جمال پر کسی کو جاہ اور عزت پر کسی کو اپنے علم پر کسی کسی کو اپنے تقدس پر کسی کو زہد اور تقوے پر ناز ہے وہاں حقیقت معلوم ہوگی کہ کچھ بھی نہیں تھا کیونکہ ان خیالی منصوبون میں پڑ کر اللہ تعالی سے غافل ہو گئے اور کیوں آخرت کو بھلا دیا ارے کیا رکھا ہے ان فانی اور جدا ہونے والی چیزوں میں حق تعالی فرماتے ہیں ـ ما عندکم ینفد و ما عنداللہ باق ۔
( ملفوظ 531)اسباب کے ساتھ زہد ہونا کمال ہے بزرگ بننا ہو تو کہیں اور جاؤ انسان بننا ہو تو یہاں آؤ
ایک سلسلہ گفتگو میں کسی اصل پر متفرع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وجہ ہے کہ صوفیہ کرام علی الاطلاق ترک اسباب کی کبھی اجازت نہیں فرماتے محققین کا یہ قول ہے کہ ایسا زہد خلاف ادب ہے جس میں مطلقا ترک اسباب ہو کمال یہی ہے کہ اسباب کے ساتھ زہد کو جمع کیا جائے چناچہ وہ کہتے ہیں کہ گھر میں دروازہ بند کر کے بیٹھنا توکل نہیں اسی طرح کسی جنگل بیابان میں جا کر بیٹھنا توکل نہیں گھر ہی میں بیٹھو مگر دروازہ کھول کر بیٹھو لیکن دروازہ کی طرف دیکھو مت دروازہ سے آنے والے کی طرف مت دیکھو اسی کو کسی غیر عارف نے تنگ آ کر اس طرح کہہ دیا ہے ـ
در میان قعر دریا تختہ بندم کردہ ، باز میگوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش
لیکن یہ مشکل اسی کے واسطے ہے جو دریا میں تیرنا جانتا ہو اور اس فن سے ماہر نہ ہو باقی جو جانتے ہیں اور فن سے ماہر اور واقف ہیں وہ کھڑے ہو کر تیرتے ہیں اور دامن کو صاف بجا لے جاتے ہیں اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ محقق ہمیشہ جامع بین الاضداد ہوتا ہے اسباب سے صرف استعمال کا تعلق رکھتے ہیں اور توجہ کا تعلق نہیں رکھتے ـ کمال توکل یہی ہے کہ اسباب سے صرف استعمال کا تعلق رکھتے ہیں اور توجہ کا تعلق نہیں رکھتے ـ کمال توکل یہی ہے کہ اسباب ظاہری ہوں اور پھر ان کی طرف توجہ نہ ہو ان کی طرف نظر نہ ہو اس کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے کہ مریض دوا بھی پئے اور پھر نظر دوا پر نہ ہو بلکہ خدا پر ہو کہ اگر وہ چاہیں گے تو شفاء فرمادیں گے مئوثر ان ہی کے حکم کو سمجھے یہی ہے کمال توکل اور اگر بالکل اسباب نہ ہوں اور پھر توکل ہو تو یہ کوئی کمال کا درجہ نہیں جیسے اگر گھر روٹی نہ پکی ہو اور نہ کھائے تو کوئی نہیں گھر روٹی پکی ہو اور چنگیز بھری ہوئی سامنے رکھی ہو اور پھر کم کھائے یہ کمال ہے یہ ہے قلت الطعام کا مصداق مگر یہ سب موقوف ہے صحبت کامل پر کسی کی جوتیاں سیدھی کرو ڈونڈے کھاؤ اس کے سامنے ناک رگڑو اس سے حقیقت تک رسائی ہوتی ہے بدون اس کے رسائی مشکل ہے میں تو کہا کرتا ہوں کہ شاہ صاحب بننا آسان ملک التجار بننا آسان بزرگ بننا آسان قطب بننا آسان مگر انسان بننا مشکل کسی نے خوب لکھا ہے ـ
زاہد شدی و شیخ شدی دانشمند ، ایں جملہ شدی ولے مسلمان نہ شدی ،
اور میں یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ بزرگ بننا ہو ولی بننا ہو قطب اور غوث بننا ہو کہیں اور جاؤ اگر انسان بننا ہو میرے پاس آؤ میں تو انسان بناتا ہوں مگر یہ بنانا ایسا ہوگا جیسا کہ کوئی شخص کہے کہ مربا بنانا جانتا ہوں تو ظاہر ہے کہ مربا جس طرح بنتا ہے اسی طرح بنے گا چناچہ اول تو اس پھل کو چاقو سے داغ دھبے سے صاف کیا جائے گا چھلکا چھیلا جائے گا پھر اس کو ایک دیکچی میں رکھ کر پانی ڈال کر چولہے پر چڑھا کر نیچے آگ جلائی جائے گی تاکہ اچھی طرح ابل جائے ما بعد اس کو کسی چاقو وغیرہ سے کوچا جائے گا تاکہ میٹھے کا قوام اچھی طرح اندر تک اثر کر سکے پھر چاشنی کے اندر ڈالا جائے گا جس کو قوام کہتے ہیں اتنے قصوں کے بعد مربا بنے گا اور کھانے کے قابل ہوگا اور وہ آثار پیدا ہوں گے جن کو تم چاہتے ہو یا جس کی بناء پر طبیب نے بتلایا ہے ایسا بنانے والے کو مربی کہتے ہیں تو ایسے ہی مربی کو تلاش کرو جو کاٹ کر چھانٹ کر چکر جوش دے کر مربا بنادے مگر ایسے ہی مربی سے آج کل لوگ کوسوں دور بھاگتے ہیں اس کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے قزوین میں رواج تھا بدن گدوانے کا ایک شخص بدن گودنے والے کے پاس گیا کہ میری کمر پر شیر کی تصویر بنا دو اس نے سوئی لے کر ایک طرف کوچہ دیا اس نے ہائے مر گیا ارے کیا بناتا ہے کہ دم اس نے کہا کہ اس دم نے تو میرا دم ہی نکالا ہوتا اس کو چھوڑ دے کیا بے دم کے شیر نہیں ہوتے اس نے اس طرف کے چھوڑ کر دوسری طرف سوئی کا کوچہ دیا دریافت کیا کہ اب کیا بناتا ہے کہا کہ کان کہا کیا بوچے شیر نہیں ہوتے پھر یہ کانوں سے سنے گا تھوڑا ہی اس نے اس طرف کو چھوڑ کر تیسری طرف سوئی کا کوچہ دیا دریافت کیا کہ اب کیا بناتا ہے کہا کہ پیٹ کہا کہ کیا یہ کچھ کھائے گا اس نے چوتھی طرف کوچا دیا دریافت کیا کہ اب کیا بناوے گا کہا کہ سر کہا کہ بے سر کا بھی تو بن سکتا ہے اس نے سوئی کو ہاتھ سے پھینک کر کہا جس کو مولانا رومی فرماتے ہیں ـ عے
شیر بے گوش و سر و شکم دید این چنیں شیرے خدا ہم نا فرید
گر بہر زخمے تو پر کینہ شوی ، پس کجا صقیل جو آئینہ شوی ،
چوں نداری طاقت سوزن زدن ، پس تو از شیر ژیاں ہم دم مزن
تو صاحبوں کام تو کام ہی کی طرح سے ہوتا ہے اصلاح تو اصلاح ہی کے طریق سے ہو سکتی ہے اب بننا تو سب کچھ چاہتے ہیں مگر یوں بھی چاہتے ہیں کہ نہ تو کچھ کرنا پڑے اور نہ کوئی کچھ کہے تو گھر سے چلے ہی کس بوتے پر تھے اور اگر دھوکے سے آگئے تو اب لوٹ جاؤ بلانے کون جاتا ہے ـ
( ملفوظ 530)آج کل کے نیچری اور نیچری عقل
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اسی نیچریت نے لوگوں کو زیادہ بد اعتقاد بنا دیا ہر بات کو عقل پر جانچے ہیں بیچاری عقل بھی مخلوق ہی ہے یہ کہاں تک تیر لگائے گی اور کیا خالق کے احکام کا احاطہ کر سکتی ہے اس کا مبلغ پرواز ایک حد تک ہے اس سے آگے وہ معطل ہے احکام کے راز اسرار کو عقل سے کوئی کیا سمجھ سکتا ہے مثلا جبر و قدر ہی کے مسئلہ کو دیکھ لیجئے وہاں تک کسی کی عقل کی رسائی نہیں ہے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں خوض و بحث سے روک دیا ہے کسی ایسے ہی مسئلہ کے متعلق کسی نے ایک بزرگ سے دریافت کیا تھا کیا خوب فرمایا کہ ـ عے
اکنوں کرا دماغ کہ پر سد ز باغبان ، بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صباچہ کرو
بس اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ وہ حاکم ہونے کی ساتھ حکیم بھی ہیں جو کچھ کرتے ہیں اسی میں بندہ کے لئے مصلحت ہوتی ہے ـ
( ملفوظ 529)نماز اشراق کے لئے ایک جگہ بیٹھے رہنے کی حکمت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضور کی تعلیمات میں جو نور ہے سبحان اللہ اس کا کیا کہنا ہے فرماتے ہیں کہ اگر نماز فجر پڑھ کر ضحیٰ یعنی اشراق کی نماز اسی جگہ بیٹھا رہے پھر اشراق پڑھ لے تو پورے ایک حج کا در عمرہ ثواب ملے گا ( جمع الفوائد ، سو مشاہدہ ہے کہ جو نور اور بشاشت و انبساط جگہ نہ بدلنے پر ہوتا ہے وہ جگہ پر بدلنے پر نہیں ہوتا صوفیہ نے اسی مشاہدہ سے کہا ہے کہ جس قدر : کر ایک نشت میں ہو سکے زیادہ بہتر ہے اس میں خاص برکت ہوتی ہے ایک دوسری تعلیم لیجئے ـ تاخیر سحر اور تعجیل افطار کو اسی واسطے مشروع کیا ہے کہ روزہ کی ابتداء اور انتہا معلوم ہو جائے صوم وغیرہ صوم میں خلط نہ ہو اسی لئے صوم وصال کی مانعت آئی ہے اور میں چاہے ایک ہی کھجور کھا لے اسی سے فرق تو معلوم ہو جائے گا سو حضور نے حدود کی رعایت فرمائی ہے ورنہ کبھی ضرور ایسا ہو جاتا ہے اور یہ کچھ نہ تھا کہ سحر و افطار نہ ہونے سے لوگ سمجھتے کہ عشاء کے وقت سے روزہ شروع ہو جاتا ہے اور عشاء کے وقت ختم ہو جاتا ہے ـ

You must be logged in to post a comment.