ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آنے والوں سے ان کی بیہودگیوں پرتکلیف ضرور ہوتی ہے مگر ان سے کسی منفعت کی توقع کی تکلیف نہیں ہوتی یہ توقع کی تکلیف بیہودگیوں کی تکلیف سے اشد ہے اب تو صرف یہ تکلیف اس سے ہوتی ہے کہ توقع تو اور جواب کی تھی اور ملا اور جواب مگر منفعت کی توقع کی تکلیف نہیں ہوتی ۔ خوجہ صاحب نے عرض کیا کہ یہ تو معلوم ہو ہی جاتا ہو گا قرائن سے کہ یہ اس مزاج کا آدمی ہے اور اس فہم کا فرمایا کہ معلوم ہو جانے پر بھی بیہودہ حرکت سے طبعا تکلیف ضرور ہو گی گو قصد تکلیف دینے کا نہ ہو اس کی ایسی مثال ہے کہ کسی کے سوئ چبھو دی جاۓ گو قصد نہ ہو مگر اس سے تکلیف تو ضرور ہو گی وہ تو نہیں رک سکتی اس خیال سے کہ یہ بد فہم ہے یا قصد نہیں ہے گو اس کو معزر سمجھ کر سخت مواخزہ نہ کریں گے مگر تکلیف تو ہو ہی گئ ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 292) حضرت مرزا جانجاناں مظہر کی حکایات لطافت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں میں ایسے لطیف المزاج گزرے ہیں کہ بادشاہوں کی بھی ان کے سامنے کوئی حقیقت نہ تھی جیسے حضرت مرزا مظہرجان جاناں ایک مرتبہ بادشاہ زیارت کو آئے اور ان کو پیاس معلوم ہوئی اس وقت کوئی پاس نہ تھا اس لئے بادشاہ خود اٹھے اور صراحی پرکٹوارہ ڈھک دیا اور بیٹھ گئے مگر بادشاہ کو خود پانی لیکر پینا نوجہ خلاف عادت ہونے کے گراں ہوا اس لئے عرض کیا کہ اگراجازت ہوتوخدمت کیلئے کوئی آدمی بھیج دوں فرمایا کہ کیا ضرورت ہے بادشاہ نے اصرار کیا اس فرمایا کہ ایسا آدمی ہوگا جیسے آپ خود ہیں دیکھئے صراحی پر کٹورا ٹیڑھا ڈھک دیا ہے اسی وقت سے سر میں درد اور طبیعت پریشان ہے یہ ہی حالت لطافت کی حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی تھی ایک مرتبہ نائی حجامت بنانے آیا اس نے استرہ وغیرہ کو دھولیا پھر حاضرین سے فرمایا کہ دھو کرتو لایا ہی ہوگا مگر جب اگلے کو ( یعنی دوسرے کو ) نکوچ ہی ہو ( یعنی کاوش ہو ) توبیچارہ کیا کرے حضرت کی بھی عجیب ہستی تھی بیحد تحمل ووقانہ کبھی ہنسی کی آواز سنی گئی نہ کبھی غصہ کی آواز سنی گئی اس قدر تحمل تھا بڑے لوگ بڑے ہی ہوتے ہیں کوئی کیا ان کی ریس کرسکتا ہے ایک مرتبہ مولوی سید صاحب برادر ملوی حسین احمد صاحب نے چاۓ کا انتظام اپے متعلق کر رکھا تھا ایک روزحضرت نے پیالی منہ سے لگا کر فرمایا کہ کچے پانی کا اثر ہے چاۓ میں انہوں نے دوسرے وقت خوب جوش دیا پھر بھی فرمایا وہ حیران تھے بدرجہ بعید ان کو احتمال ہوا کہ پیالی دھو کر تولیہ سے خشک نہیں کی اسلۓ پیالی کو خوب خشک کیا اس میں پی کر فرمایا کہ اس میں وہ اثر نہیں میں کہتا ہوں کہ بادشاہوں کی لطافت میزاج کی کیا حقیقت ہے ایسے حضرات کے سامنے ِۤ۔
(ملفوظ 291)بے اصولی کی بات سے تکلیف
فرمایا بے اصولی بات سے تکلیف ہوتی ہے حتی کہ اگر بے اصولی معاملہ میرے ساتھ نہ ہو دوسرے کے ساتھ ہوتب بھی دیکھ کرنا گواری ہوتی ہے پس اس ناگواری کا اثر اپنی ذات کے ساتھ خاص نہیں میں تو اپنے دوستوں سے یہ چاہتا ہوں کہ سب کے سب اصول کے پابند بن جاویں کسی کو اپنی ذات سے تکلیف نہ پہنچے یہ سلوک کا بڑا حصہ ہے ۔
(ملفوظ 290) طریق کا اصل ادب
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق کا ادب لوگوں کو معلوم نہیں اب تو ادب تکلفات کا نام ہے ہاتھ چوم لئے پچھلے پیروں ہٹ گئے سرجھکا کرکھڑے کوگئے مگر طریق کا یہ ادب نہیں طریق کا اصل ادب یہ ہے کہ جس سے دین کا تعلق رکھنا چاہئے اس کوتکلیف نہ پہنچائے یہ اس طریق میں ادب کا ادنی درجہ ہے اور اب تواب توادب تعظیم کا نام ہے ۔
(ملفوظ 289)ازخود مشورہ دینا نامناسب ہے
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ بعض لوگ مشورہ لیتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے فرمایا کہ مشورہ دیدینا چائیے ایک مسلمان کی اعانت ہے ہاں ازخود مشورہ نہ دینا چاہئے بعض خیر خواہ ہمدردی کی وجہ سے ازخود مشورہ دیدیتے ہیں جس کا انجام اکثر بہت برا ہوتا ہے البتہ اگرکوئی خود پوچھے مسلمان ہے اعانت کرنا چاہے اور مشورہ دیدینا چاہئے مگر ساتھ ہی میں یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اگر تمہارے سمجھ میں بھی یہ مشورہ آجائے تو اس پرعمل کرنا ہماری رائے سمجھھ کرمت کرنا ورنہ اس کا ہم پرکلفت کا ا ثرہوگا ۔
(ملفوظ 288)شاباشی کی بات پرشاباشی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج صبح صاحب نے گڑبڑ کی اوراب بھی خواجہ صاحب کے واسطے کے گفتگو کی انہوں نے ایک صاف بات کوکس قدر الجھایا قلوب میں صفائی نہیں رہی حالانکہ میرے گفتگو نہایت کافی تھی معلوم ہوتا ہے کہ سمجھنے کا قصد اور ارادہ ہی نہیں کرتے خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ فلاں صاحب جوبعد نماز فجر ملے تھے ان کی خوش فہمی پراور سمجھ کی باتوں پرحضرت والا نے ان کو شاباشی دی فرمایا کہ دیکھ لیجئے گا شاباشی کی بات پرشاباشی ملتی ہے خدابخواستہ کوئی آنے والوں سے مجھ کو عداوت تھوڑا ہی ہے وہ لوگ جیسا برتاؤ کرتے ہیں ویسا ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے اسی سے میری سختی اور عدم سختی کا ابدازہ ہوسکتا ہے ۔
(ملفوظ 287)ایک خط میں ایک مضمون لکھنے کی ہدایت
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے یہاں یہ بھی ایک طریق اور اصول ہے کہ ایک ایک بات الگ الگ طےہوتی ہے یہ بڑا ہی اچھا اصول ہے فرمایا کہ جی ہاں اگر چار باتوں کی ایک دم تحقیق شروع ہوجائے تو خلط مبحث ہوجائے پتہ ہی چل کرنہ دے کہ کیا ہورہا ہے بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہہ ایک ہی خط میں دو مضمون لکھ کر بھیج دیتے ہیں میں ان میں سے کسی مضمون کا بھی جواب نہیں دیتا۔ یہ لکھ دیتا ہوں کہ ایک خط میں ایک مضمون لکھو جب اس کا جواب پہنچ جائے تب دوسرامضمون لکھو یہ باتیں اصولی ہیں مثلا ایک شخص کو چند مقدمات عدالت میں پیش کرنا ہے ایک مال کا ایک فوجداری کا کیا تو کیا وہ ایک ہی درخواست دونوں کے متعلق دے سکتا ہے ہرگز نہیں حاکم کہے گا کہ الگ الگ درخواست دو اس کا راز یہی ہے کہ خلظ مبحث سے پریشانی نہ ہواصولی بات سے کبھی انسان کو پریشانی نہیں ہوتی پریشانی جب کبھی ہوگی بے اصولی سے ہوگی ۔
(ملفوظ 286)شیخ سے اپنے حالات کی اطلاع کرتے رہنا ضروری ہے
ایک صاحب کے سوال کےجواب میں فرمایا کہ شیخ سے اپنے حالات کی اطلاع کرتے رہنا بہت ضروری ہے بدوں اس کے اصلاح نہیں ہوسکتی اس کی مثالہ ہے جیسے حکیم صاحب ایک نسخہ لکھ دیں اور یہ ساری عمر پیتا رہے اور حالات کی اطلاع نہ دے کیا علاج ہوسکتا ہے ۔
(ملفوظ 285) ادب الخطاب :
ملقب بہ ادب الخطاب ایک مولوی صاحب نودار تشریف لائے حضرت والا کے اس دریافت فرمانے پر کہ کہاں سے تشریف لائے نہایت آہستہ سے جواب دیا جس کو حضرت والا نہ سن سکے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہ شکایت ہے کہ آپ نے ایسی پست آواز سے جواب دیا جس کو میں نہیں سن سکا کیا اس سے دوسرے کو اذیت آپ نے پہنچائی کہ جو سوال میں نے کیا تھا اس کا جواب نہیں دیا کیا یہ سوال میرالغو تھا یا قابل جواب نہیں کہتے اس کو بے فکری کہتے ہیں اس کی فکر ہی نہیں کہ ہماری کسی بات سے دوسرے کواذیت تو نہ پہنچے گی میں نہیں کہتا کہ اذیت پہنچانے کا قصد ہے شکایت اس کی ہے کہ اس کا قصد نہیں کہ دوسرے کو اذیت نہ پہنچے حالانکہ یہ قصد ضروی ہے عرض کیا کہ مجھ کو یہاں کے اصول قواعد معلوم نہیں فرمایا کہ یہ ٹھیک ہے مگربعض باتیں اور بعض اصول خاص ہوتے ہیں خاص خاص مقام لے لئے ان میں توجہل عذر ہے لیکن یہ مبہم بولنا اوار آہستہ سے بولنا یہ تو سب جگہ کیلئے طبعا اذیت کا سبب ہیں اس میں غلطی کرنا بے فکری سے ہے جہل سے نہیں غرض اول قسم میں توایک درجہ میں معذور ہوسکتے تھے کہ قواعد نہ معلوم ہونے کی وجہ سے کسی قاعدہ سے خلاف ہوفاتا مگراس طرح بولنا جیسے نواب صاحب بولتے ہیں کہ دوسرا سمجھ ہی نہ سکے اس میں کیا معذوری سمجھی جائے دوسر ے آپ عالم ہیں آپ یہ بتلائیں کہ کیا اس کا تعلق قواعد سے ہے عرض کیا کہ نہیں فرمایا کہ پھر یہ میرے سوال کا جواب آپ کے نزدیک کس طرح ہوگیا اس پریہ صاحب خاموشی رہے فرمایا کہ یہ تیسرے اذیت پہنچائی کہ سوال کا جواب ہی ندارد کیا ہوگیا آپ لوگوں کو آخرلکھ پڑھ کرکہاں ڈبودیا کیا غلطی کے اقرار بیٹھی ہوتی ہے کیا تم لوگوں کے دماغوں میں خنا س بھراہے بس واقعی بات وہی ہےجو میں کہہ رہاہوں کہ اس کا اہتمام ہی نہیں کہ دوسرے کو کلفت نہ ہوگو اذیت کا قصد نہیں ہوتا مگر اس کا بھی قصد نہیں کہ دوسرے کو اذیت نہ پہنچے آخرایسے کان کہاں سے لاؤں کہ بے بولے ہی سن لیاکروں اس پروہ صاحب کچھ بولے مگر اسی آہستہ آواز سے فرمایا کہ پھروہی حرکت ہوئی باوجود اتنی تقریر کے اور سمجھا نے کے اب میں اخیر بات کہتا ہوں کہ آپ یہ فرض کرلیجئے کہ میں بہرا ہوں اس فرض کے بعد اول میری شکایت کا جواب دیجئے آپ کے نزدیک تو وہ چیز لاشے ہے جس کے متعلق میں سوال کررہاہوں مگر میں بے اصول گفتگو سے گھبراتا ہوں یہ بھی ایک وجہ ہے میرے مناظرہ کو پسند نہ کرنے کی آجکل بے اصول گفتگو ہوتی ہے اور اس سے مجھ کو وحشت ہوتی ہے ہاں اگراصول کے ماتحت گفتگو ہوتو اپنی ساری عمراس کے لئے وقف کرنے کوتیارہوں میں تواچھے خاصے لکھے پڑھوں کو رات دن دیکھتا ہوں ان سے سابقہ پڑتا رہتا ہے کہ ان کی ایک بات بھی الاماشاءاللہ اصول کی نہیں ہوتی حالانکہ ادیب بھی ہیں عالم بھی ہیں فاضل بھی ہیں مناظرہ بھی ہیں منطقی فلسفی بھی ہیں مگر ایک بات بھی اصول کی نہیں بس وہی پڑھنے اور گنے کا فرق ہے جواکثر کہاکرتا ہوں پھر ان صاحب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ آپ جواب دیں میں صبر کئے بیٹھا ہوں آخربشرہوں کیوں ستاتے ہواسی بل بوتے پرمحبت کا دعویٰ کر کے آئے تھے کہ بات کا جواب تک بھی ندارد اس پروہ صاحب کچھ لونے مگر وہی آہستہ آواز سے فرمایا کہ اب حد ہوگئی میں نے یہان تک کہہ دیا ابھی کہ آپ فرض کرلیجئے کہ میں بہرا ہوں باوجود اس کہ دینے کے اور اتنی لمبی چوڑی تقریرکے نہ آواز بلند ہے اور نہ مضمون صاف اور پورا ہے پھر فرمایا کہ اب میرے قلب میں سوزش پیدا پیدا ہوگئی بوجہ تحمل کے آپ مسجد میں تشریف رکھیں مجھ کو تکلیف ہونے لگی وہ صاحب مسجد میں تشریف لے گئے حضرت والا نے اہل مجلس کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ اب بتلائیے کہاں تک تغیرنہ ہو آخربشرہوں جس چیز کو بار بار تصریحا کہہ چکا پھرلوٹ کر وہی حرکت البتہ اگرمیں بلکل بے حس ہوجاؤں تب ان کا کام بنے ایسے ایسے بدفہم لوگ آتے ہیں جن سے تکلیف ہوتی ے پھر فرمایا کہ میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ میں بہت ہی صبر اور تحمل سے کام لیتا ہوں آپ حضرات نے اسی واقعہ میں دیکھا کہ میں تحمل کرتا ہوں یا سختی کرتا ہوں یہ ہیں وہ باتیں جن پرباہر جاکر مجھ بدنام کیا جاتا ہے اب بدنامی کودیکھوں یا آنیوالے کی مصحلت اور اپنی تکلیف کو دیکھوں اور مجھ کو تو اس بدنامی سے خوشی ہوتی ہے کہ بدفہموں کی بدفہمیوں سے تونجات ملے گی اس لئے ایسی بدنامی میں بھی لذت ہے خوب کہا گیا ہے
گرچہ بدنامی ست نزد عاقلاں ٭ مانمی خواہیم ننگ ونام را
انتہی جزوادب الخطاب ۔
(ملفوظ 284)ایک صاحب کا حضرت والا کودق کرنا :
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں صاحب سے صبح جوغلطی ہوگئی تھی اس کے متعلق میرے واسطے سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں فرمایا بہت اچھی مگر سب سے اول ان سے یہ پوچھئے کہ آنے کے وقت پریشان کیوں کیا عرض کیا کہ غلطی ہوئی اب یہ پوچھئے کہ ایسی غلطی کا دوسرے پرکیا اثر ہوتا ہے وہ متاذی ہوتا ہے یا نہیں عرض کیا متاذی ہوتا ہے اب پوچھئے اس کا تدارک کیا ہے عرض کیا کہ آئندہ نہیں کروں گا اب پوچھئے کہ کیا اس سے تدارک ہوجائے گا بہت ہی خوش فہم معلوم ہوتے ہیں عرض کیا آپ وہ بات بتلادیجئے گا جس سے تدارک ہوجائے فرمایا جس نے ایذا پہنچائی ہے وہ سوچے مجھ کو بتلانے کی کیا ضرورت ہے میں پہلے بتلادیتا تھا اب نہیں بتلاتا میں دماغ سوزی کروں اور راستہ بتلاؤں اور وہ اس پرکہیں کہ میرے ساتھ بڑی سختی برتی گئی خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ مجھ سے مشورہ لیتے ہوئے فرمایا کہ آپ مشورہ نہ دین مشورہ ایسے شخص سے لینا چاہئے جوواسطہ نہ بنا ہوآپ کا مشورہ تومیرا ہی مشورہ ہوگا آپ بوجہ توسط سے من وجہ میرے ساتھ ملحق ہین اورمن وجہ ان کے ساتھ ملحق ہیں اس لئے آپ کو مشورہ نہیں دینا شاہئے دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی سے مشورہ لیں تو خود سوچ کرمجھ سے اپنی طرف سے کہیں اگر کوئی گڑبڑ ہوتو اس کواپنی طرف منسوب کریں مجھ سے یہ ظاہر کریں کہ فلاں سے مشورہ لیا یا فلاں نے مشورہ دیا عرض کیا کہ میں معافی چاہتا ہوں آئندہ ایسا پھر نہیں کروں گا فرمایا اس پراعتراض ہوچکا جس کا ابھی جواب نہیں ملا پھر کیوں اس کا اعادہ کیا بہت ہی خوش فہم ہیں اس پرتو اعتراض ہوچکا جس کا ابھی جواب نہیں ملا پھر کیوں اس کا اعادہ کیا بہت ہی خوش فہم ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل کے پچھئے لٹھ لئے پھرتے ہیں اب ان سے یہ پوچھئے کہ اس کا اعادہ کیوں مگر پوچھنے پربھی یہ صاحب خاموش رہے فرمایا اگرجواب نہیں دیتے چھوڑیئے کوئی ہمارا کام تھوڑا ہی ہے آپ بیٹھئے کیوں پریشان ہوئے ۔ آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا ان لوگوں کی کس قدر رعایتیں کرتاہوں اور یہ مجھ کو کس قدر ستاتے اور دق کرتے ہیں مجھ کو بدنام کرنا آسان ہے مگر اپنی خوش فہمی کو نہیں دیکھتے ۔

You must be logged in to post a comment.