( ملفوظ 431 )بغیر حنفی مذہب سلطنت نہیں چل سکتی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے ایک انگریز کا قول دیکھا ہے وہ کہتا ہے کہ بغیر حنفی مذہب کے سلطنت چل نہیں سکتی کیونکہ اس قدر توسع اور مراعات مصالح دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتیں ۔ مگر باوجود اتنے توسع کے پھر بھی وجدان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرات اس وقت ہوتے تو اس زمانہ کی حالت کی پر نظر کر کے غالبا اور توسع کرتے مگر ہماری تو ہمت نہیں پڑتی اپنے اندر قوت اجتہاد بھی نہیں پھر نااہلوں سے بھی ڈر لگتا ہے نہ معلوم کیا گڑبڑ شروع کر دیں یہ تو بدوں اہل فتوی کے توسع ہی کے حدود سے نکل کھڑے ہوئے پھر اس کی مثال میں کہ بعض جزئیات میں غالبا زیادہ توسع فرماتے یہ فرمایا کہ مثلا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت دارالحرب میں رہتی ہو تو اس کے متعلق بعض ابواب سیاسیہ میں کیا احکام ہیں ۔ مفصل مستقل طور پر مدون نہیں اور اس کا ذکر غالبا اس وجہ سے نہیں فرمایا کہ ان حضرات کو اس کا وہم گمان بھی نہ تھا کہ کبھی ایسا ہو گا کہ مسلمان کفار کے ماتحت ہونگے باقی تفصیل و استقلال کی نفی سے نفس احکام کا غیر مذکور ہونا لازم نہیں آتا اور وہ بھی کافی ہے اس کے کافی ہونے کے بعد اب کسی کے اجتہاد کی ضرورت نہیں ۔ اب ایسوں کے لئے اپنی رائے سے فتوی دینے سے سکوت ہی اسلم ہے کیونکہ بعض سکوت کبھی بعض نطق سے اچھا ہوتا ہے ۔
اس پر ایک حکایت یاد آئی ایک بہو کسی گھر میں بیاہی ہوئی آئی مگر بولتی نہ تھی ساس نے کہا کہ بہو بولتی کیوں نہیں کہا کہ اماں نے منع کر دیا ہے ساس نے کہا کہ ماں تو تیری بے وقوف ہے تو بولا کر بہو کہتی ہے کہ بولوں کہا ضرور بول ۔ بہو کہتی ہے کہ اگر تمہارا بیٹا مر گیا تو مجھ کو بیوہ بٹھائے رکھو گی یا کہیں نکاح کر دو گی ۔ ساس نے کہا کہ تیرے ماں نے ٹھیک کہا تھا تو تو خاموش ہی اچھی ۔ یا تو بہو بولتی نہ تھی اور بولی تو یہ نور برسائے ۔ یہی حالت ہے اکابر کے اصول کو چھوڑ کر نئے لوگوں کے بولنے کی ۔

( ملفوظ 430 )حکومت کا اصل مقصود اقامت دین ہے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر اختیار ایسا ہی سستا ہے کہ ہر مقصود کے لئے اس کا استعمال جائز ہو اس میں کوئی قید ہی نہ ہو تو اس درجہ میں تو حکومت بھی اختیاری ہے آزادی حاصل کریں ۔ یا بعنوان دیگر آج کل کی اصطلاح میں قربانی کریں اور یہ قربانی ایسی ہے کہ ذی الحجہ سے پہلے ذی قعدہ میں بھی ہو سکتی ہے مگر یہ دیکھ لیں کہ یہ حکومت دین کی ہو گی یا بددینی کی ۔ جس کا معیار حق تعالی کے فرمان سے معلوم ہو سکتا ہے :
” الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ و امروا بالمعروف و نھو عن المنکر وللہ عاقبۃ الامور ”
” یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دیدیں تو یہ لوگ نماز کی پابندی کریں اور زکوۃ دیں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں ۔ اور سب کاموں کا انجام تو خدا ہی کے اختیار میں ہے ”
اگر ایسی نیت ہے تو کوشش کریں یعنی حدود شریعت کا تحفظ شرط ہے مگر اب تو ایسا اطلاق ہو رہا ہے کہ شریعت کے خلاف ہو یا موافق ( اس کی پرواہ ہی ہیں ) تو ایسی حکومت تو فرعون اور شداد کو بھی حاصل تھی حکومت سے اصل مقصود اقامت دین ہے اور یہ تدابیر اس کے اسباب ہیں اگر دین مقصود نہیں جیسا آج کل کی حالت سے ظاہر ہے تو لعنت ہے ایسی حکومت پر ۔

( ملفوظ 429 ) آزادی کا زمانہ

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو شخص علوم عالیہ کو حاصل کئے ہوئے ہو تب قرآن و حدیث کو سمجھ سکتا ہے اب جاہلوں کی اصطلاحوں کو کلام میں ٹھونس کر کام نکالنا چاہتے ہیں جس سے بالکل غیر ممکن ہے کہ حقیقت کا انکشاف ہو سکے اور علوم کے ساتھ اس انکشاف کے لئے ذوق کی بھی ضرورت ہے اور ذوق بدوں کسی کامل کی صحبت کے پیدا نہیں ہو سکتا ۔ مگر ان چیزوں کا اہتمام ہی نہیں اور یہ ساری خرابی اس کی ہیں کہ لوگوں کے قلوب میں خوف آخرت نہیں رہا اور نہ آخرت کی فکر ہے اسی لئے ہر شخص مقرر ہے ہر شخص مفسر ہے ہر شخص محدث ہے ہر شخص مصنف ہے آزادی کا زمانہ ہے نہ اصول ہیں نہ قواعد ۔ جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں اگر فکر آخرت ہو تو ہر چیز میں احتیاط اور حقیقت کی تلاش ہو اور اس کے لئے اس کے اسباب کی کوشش ہو ۔

( ملفوظ 428 )محمدی کہنا جائز ہے تو حنفی اور شافعی بھی جائز :

ایک صاحب کے سوال کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ ایک غیر مقلد قاضی صاحب یہاں پر آئے تھے یہاں کی تعلیم پر ذکر بالجہر کیا کرتے تھے کسی نے ان سے کہا کہ یہ تو بدعت ہے کہنے لگے کہ میاں اس میں مزا آتا ہے اس میں بدعت کی کیا بات ہے گویا ان کے یہاں مزہ پر مدار تھا جس میں مزہ ہو وہ بدعت نہیں ہماری جماعت کے بے حد معتقد تھے مگر تھے غیر مقلد ۔
ہر شخص اپنے خیال میں مست ہے کوئی کیفیت کے پیچھے پڑا ہوا ہے اصل مقصود جو کہ طریق کی روح ہے وہ محض تعلق مع اللہ ہے اس کی کسی کو ہوا بھی نہیں لگی الا ماشاء اللہ جو اصل چیز ہے وہ صرف یہ ہے کہ صحیح معنی میں بندہ کا تعلق اللہ تعالی سے ہو جائے مگر اس کی کسی کو فکر نہیں وہی غیر مقلد قاضی صاحب بھی کہتے تھے کہ یہاں جتنی باتیں ہیں سب سنت کے موافق ہیں صرف ایک بات کے متعلق کہا کہ بدعت ہے وہ یہ نسبتیں ہیں چشتی ، قادری ، نقشبندی ، سہروردی بس یہ بدعت ہے اور یہ سمجھ میں نہیں آتا ۔ میں نے سن کر کہا کہ یہ کہنا کوئی ضروری تھوڑا ہی ہے تم صرف یہ کہا کرو ہم شریعت والے ہیں یہ نسبتیں تو اصطلاحات اور خاص حالات کی تعبیر کی سہولت کے لئے ہیں ۔ آخر یہ غیر مقلد بھی تو اپنے کو محمدی کہتے ہیں یہ بھی تو نسبت ہی ہے تو کیا محمدی کہنا بھی بدعت ہے اسی لئے کہ شریعت تو خدا کی ہے تو بجائے محمدی کے اپنے کو الہی کہا کرو اور اگر محمدی کہنا کسی تاویل سے جائز ہے تو حنفی شافعی ، مالکی ، حنبلی ، چشتی ، نقشبندی ، قادری ، سہروردی کہنا بھی جائز ہو گا ۔ گو ان تعبیرات کا معبرعنہ جدا جدا حقائق ہیں مگر وہ حقائق دین کے خلاف نہیں پھر اس میں بدعت کی کیا بات ہے یہ تحقیق نسبت کی اور یہ جواب محمدی کی نظیر پیش کر کے فرمایا ۔
کہ یہ ہمارے استاد علیہ الرحمۃ کا افادہ ہے ۔ ہزاروں مناظرے ایک طرف اور یہ سادے اور بے تکلف نکتے ایک طرف واقعی ہمارے یہ حضرات حقیقت کو منکشف فرما دیتے ہیں ۔ ہمارے حضرات کے علوم ماشاء اللہ تعالی متقدمین کے علوم کے مشابہ تھے اور واقعہ ہے کہ علوم اصل میں متقدمین ہی کے پاس تھے باقی متاخرین کے الفاظ بے شک نہایت چکنی چپڑی عبارتیں نہایت مرتب تقریریں نہایت مہذب مگر متقدمین کے کلام کی برابر ان میں مغز نہیں ۔ قرآن و حدیث کے الفاظ نہایت سادہ اور وہی طرز بزرگوں کے کلام کا ہے مگر ان کی وقعت جو اس وقت قلوب میں کم ہے یہ خرابی نئی اصطلاحات دماغ میں رچ جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے پھر اس میں ترقی ہوتے ہوتے دنیا داروں اور بے علموں تک کا رنگ لے لیا گیا چنانچہ اب وہ طرز ہی کلام کا بدل گیا ۔ علماء تک کی تقریریں دوسرے نئے جاہلانہ رنگ میں ہونے لگیں خدا بھلا کرے ان تحریکات کا کہ بالکل ہی کایا پلٹ ہو گئی علماء کی تقاریر اور تصانیف کا رنگ نیچریوں کے طرز پر ہونے لگا ان کا وعظ ایسا ہونے لگا جیسے کوئی لیکچر دے رہا ہو نہ وہ ملاحت ہے نہ اثر ہے بلکہ اور وحشت معلوم ہوتی ہے علماء کو چاہئے وہ کام میں اپنے بزرگان سلف کا طرز اختیار کریں اس ہی میں برکت ہے اور وہی طرز مؤثر ہے ۔

( ملفوظ 427 )دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت دخل دینا مرض عام ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دوسروں کی فضول فکر اور دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت دخل دینا آج کل یہ مرض عام ہو گیا ہے اور یہ اس راہ میں سم قاتل ہے کہ اپنے اختیارات کا تو اہتمام نہ کرے اور دوسروں کے اختیاریات میں مشغول ہو جاوے جو اس کے اعتبار سے غیر اختیاری ہے اسی کے متعلق فرماتے ہیں کار خود کن کار بے گانہ مکن

( ملفوظ 426 ) مقصود معین نہ ہونے کی مثال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان کیفیات کے متعلق جو میں نے بیان کیا تھا کہ اگر مقصود کی معین ہوں تو محمود ہیں مگر مقصود نہیں ۔
اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک بہلی ہے اس کو دو بیل لئے جا رہے ہیں مگر آہستہ آہستہ ایک اور تیسرا قوی بیل جوڑ دیا تو اب بہلی زیادہ زور سے چلنے لگی لیکن یہ تیسرا بیل نہ ہوتا تب بھی مسافت تو طے ہو رہی تھی اس تیسرے بیل کے نہ ہونے پر یاس نہ ہونا چاہئے کہ ہائے اب کیسے منزل مقصود پر پہنچیں گے انشاء اللہ پہنچ جاؤ گے گو وقت کچھ زیادہ صرف ہو ۔ اس سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ ان کیفیات کا درجہ اس سے زیادہ نہیں اب اگر کوئی بیلوں ہی کو مقصود سمجھے یا اپنی شان شوکت تین ہی بیلوں پر سمجھتا ہو تو اس کا کسی کے پاس کیا علاج ہے ۔

( ملفوظ 424 )کیفیات کے پیچھے پڑنا درست نہیں

فرمایا کہ اس طریق کی حقیقت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بہت لوگ کیفیات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں چنانچہ کثرت سے ایسے خطوط آتے ہیں کہ ان میں یہی بھرا ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا وہ نہیں ہوتا ۔ آج بھی ایسا ہی ایک خط آیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بھی اپنے زعم باطل میں کیفیات ہی کو مقصود سمجھے ہوئے ہیں ایسے شخص کی کسی کیفیت میں اگر کبھی کمی آ جاتی ہے تو اس کو سخت پریشانی یا پشیمانی کا سامنا ہوتا ہے چنانچہ ایک بزرگ بڑھاپے میں روتے تھے کسی نے رونے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ میں تیس برس تک جہل میں مبتلا رہا حرارت غریزیہ کے نشاط کو جو جوانی میں ہوتا ہے نماز کی کیفیت سمجھتا رہا ۔ اب بڑھاپے میں جو وہ حالت نہیں رہی تب معلوم ہوا کہ وہ نماز کی کیفیت نہ تھی بلکہ جوانی کا جوش تھا اگر نماز کی کیفیت ہوتی تو بڑھاپے میں اس میں اور قوت ہوتی اسی لئے کہ اس کی تو یہ کیفیت ہوتی ہے جس کو فرماتے ہیں :
خود قوی تر میشود خمر کہن خاصہ آں خمرے کہ باشد من لدن
( پرانی شراب زیادہ قوی ہوتی ہے خاص کر وہ شراب جو قرب حق کی ہو ۔ 12 )
اور حقیقت میں یہ کیفیات نفسانی ہوتے ہیں عوارض نفسانیہ کے تغیر سے ان میں تغیر ہو جاتا ہے ۔ اس ہی لئے محققین اہل فن کہتے ہیں کہ یہ مقصود نہیں ہاں اگر کسی وقت مقصود کے معین بن جائیں تو محمود ہیں مگر مقصود نہیں ۔ اور اگر دین میں معین نہ ہوں تو پھر محمود بھی نہیں چنانچہ ریاضیات یا دوسرے عوارض سے یہ کیفیات کافر کو بھی حاصل ہو جاتی ہیں اور جو چیز کافر ، مسلم میں مشترک ہو وہ کبھی مقصود نہیں ہو سکتی ایسی کیفیات کافر کو حاصل ہو سکنے پر ایک واقعہ یاد آیا ۔
ایک مقام پر کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کہ دونوں انگریز تھے مجلس سماع میں مدعو کیا گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس وقت ایسی حالت ہے کہ اگر تھوڑی دیر رہی تو شاید کرسی سے گر پڑوں دوسرے نے کہا میرا بھی یہی حال ہے ۔
آخر باہم مشورہ کر کے اٹھ کر چل دئیے اب بتلائیے کہ کیا کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ بھی بزرگ تھے یہ کیفیت تو ان پر بھی طاری ہوئی ۔ بس ان کیفیات کا درجہ اس سے زیادہ نہیں کہ اگر یہ کیفیات مقصود میں معین ہوں محمود ہیں ورنہ محمود بھی نہیں اور مقصود تو کسی حال میں نہیں آج لاکھوں اہل طریق ان فضولیات کی بدولت اصل مقصود سے لاکھوں بلکہ کروڑوں کوس دور پڑے ہوئے ہیں اور اگر یہ ہی کیفیات حاصل بھی ہو جاویں ، تب بھی ان کی آخرت میں کچھ بھی قدر نہ ہو گی وہاں صرف اعمال کی پوچھ ہو گی ۔ ظاہر کی بھی باطن کی بھی ان ہی اعمال کے رسوخ کے لئے یہ تمام مجاہدات ریاضات مراقبات مکاشفات اشغال ہیں جو ایک تدبیر کے درجہ میں ہیں باقی اصل مقصود عبادات ہیں وہاں وہی کام آئیں گے اور ان ہی کی قدر ہو گی اور جب ان کیفیات کا درجہ معلوم ہو گیا تو اگر ساری عمر بھی کسی پر کیفیات نہ طاری ہوں مگر وہ اعمال کی پابندی اور ان کی ادا کی کوشش و سعی میں لگا رہے تو اس کی عبادت میں ذرہ برابر کوئی نقص نہیں اور راز اس میں یہ ہے کہ یہ کیفیات وغیرہ نہ اختیاری ہیں اور نہ مامور بہ ۔ مامور بہ بھی وہی چیزیں ہیں جو اختیاری ہیں اور انسان ان ہی کا مکلف ہے اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ شیخ کامل کی ضرورت ہے کہ وہ ان حقائق سے مطلع کرتا ہے اور غیر مقصود سے مقصود کی طرف لے جاتا ہے مگر آج کل اس تحقیق ہی سے لوگ گھبراتے ہیں اس ہی لئے میں اول مرتبہ میں سب معاملات طے کر لیتا ہوں اور بیعت کرنے میں عجلت نہیں کرتا کہ لوگ اس طریق کی حقیقت سے بے خبر ہیں ۔ بے خبری میں بیعت ہی کیا مفید ہو سکتی ہے اور یہ سب خلط مبحث ہوا جاہل صوفیوں اور پیروں کی بدولت ایسے ہی پیروں کی نسبت میں کہا کرتا ہوں کہ ان کے سب کے سب کمالات کا مقصود مالات ( یعنی مالیات ) ہیں مردہ دوزخ میں جائے یا بہشت میں انہیں اپنے حلوے مانڈے سے کام ۔

( ملفوظ 425 )کیفیات مقصود نہیں

ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ آپ نے میری تقریر میں غور نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ کو یہ شبہ ہوا میں تو کہہ چکا ہوں کہ یہ کیفیات مقصود نہیں ہاں اگر مقصود میں معین بن جائیں تو محمود ہیں مطلقا تو میں نے ان کی نفی نہیں کی بلا وجہ آپ مجھ پر الزام رکھتے ہیں قصور تو اپنے سننے کا اور ذمہ دار اس کا میں اس وقت خواہ مخواہ آپ نے طبیعت کو منقبض کر دیا ۔ آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ۔ اب ایک ہی بات کو بیٹھا ہوا کھرل کئے جاؤں اور ہندی کی چندی کئے جاؤں اتنا دماغ کہاں سے لاؤں آپ جیسے لوگوں سے تعجب ہے کہ پوری بات نہ سنیں اور اس پر اعتراض کی صورت میں سوال وارد کر دیں مجھ کو اس وقت آپ کی وجہ سے سخت کلفت ہوئی آدمی کو کچھ تو فہم سے کام لینا چاہئے نواب بنے بیٹھے ہیں کچھ حس ہی نہیں آپ تو سوئی چھبو کر الگ ہوئے ۔ اب دوسرا کم بخت اس کی سوزش سے جھلا رہا ہے بلبلا رہا ہے ۔
عرض کیا کہ معافی چاہتا ہوں قصور ہوا فرمایا کہ کیا ان الفاظ سے وہ تکلیف بھی جاتی رہے گی معافی کو معاف ہے میں خدانخواستہ کوئی انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں ۔ مگر آئندہ ایسی حرکت سے اجتناب رکھئے آپ کو معلوم نہیں کہ اس سے دوسرے کو کیا تکلیف پہنچتی ہے عرض کیا کہ اب آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کروں گا فرمایا کہ میں سوال کرنے کو منع نہیں کرتا ۔ مگر تمام تقریر کو محفوظ رکھتے ہوئے اگر کوئی شبہ وارد ہو ضرور سوال کیجئے میں انشاء اللہ ضرور جواب دوں گا ۔ باقی ویسے ہی بدوں سوچے سمجھے جو جی میں آیا ہانک دینا یہ تو رنج کا سبب ہو ہی گا ۔ میں تو کہا کرتا ہوں کہ تکلیف پہنچانے کا قصد تو نہیں ہوتا مگر اس کا بھی قصد نہیں ہوتا کہ تکلیف نہ پہنچے ساری خرابی بے فکری کی ہے ۔

( ملفوظ 423 )اہل بدعت کا جواب دینے کے لئے مجبورا اہل حق کو بولنا پڑا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فرق باطلہ اور اہل بدعت کی وجہ سے اہل حق کو کلام کرنا پڑا ورنہ اہل حق فی نفسہ اس قسم کے کلام کرنے کو پسند نہیں کرتے اس لئے کہ سلف سے منقول نہیں اور میں بھی پسند نہیں کرتا مجھ کو ہمیشہ سے اس قسم کے قیل و قال سے نفرت ہے مگر بیچارے اہل حق کو اہل باطل کی گڑبڑ کی وجہ سے بولنا پڑا اور یہ ان کا بولنا ضرورت کی وجہ سے تھا یعنی اول اہل بدعت نے دین میں شبہات نکالے اہل حق نے ان کو دلیل کے ساتھ دفع کیا جس سے صورت مناظرہ کی پیدا ہو گئی اور علم کلام مدون ہو گیا پس ایسے مسائل میں اہل حق مدعی نہیں بلکہ اہل بدعت مدعی ہیں اور اہل حق ان کے مقابلہ میں مانع ہیں پھر اضطرار کے ساتھ ہی یہ بھی تھا کہ اس کلام و مناظرہ کے کچھ حدود اور شرائط بھی تھے مگر بعض متاخرین نے اس کو بڑھا لیا اس حد تک رکھا نہیں اور تامل و تجربہ سے معلوم ہوا کہ اس قسم کے غیر ضروری قیل و قل کا کوئی نتیجہ بھی نہیں نکلتا ۔ بے کار وقت کھوتے ہیں اسی قیل و قال کو دین سمجھنے لگے اور اپنی فکر چھوڑ دی حالانکہ دوسروں کے درپے تو جب ہو جب اپنی حالت پر پہلے اطمینان ہو چکا ہو پہلے اپنی خبر لینی چاہئے حیدرآباد والے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا کہیں دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کی اصلاح اس قدر ضروری نہیں جس قدر اپنے دین کی حفاظت ضروری ہے ۔ پھر فرمایا کہ آج کل کے مناظروں میں اصول بے اصول کچھ نہیں دیکھا جاتا بس ہانکے چلے جاتے ہیں خواہ سیدھی ہو یا الٹی دیکھنے والے سمجھتے ہیں بڑا بولنے والا ہے اور خود مناظرین کو بھی یہ ہی پچ ہوتی ہے کہ حق منہ سے نکلے یا ناحق کسی طرح ہیٹی نہ ہو ۔ نیز اس شغل میں ایک خرابی یہ ہے کہ بعضے مضامین جن کو رد کیا جاتا ہے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا اظہار ہی گو رد ہی کے لئے مضر ہے ان کا اخفاء اور امانت ہی مناسب ہوتا ہے فرمایا کہ اظہار کر کے رد کرنے پر ایک حکایت یاد آئی ایک ولائتی ہندوستان آیا تھا اتفاق سے چور یا ڈاکوؤں سے مقابلہ ہوا اس میں زخمی ہو گیا ایک ہندوستانی نے غریب الوطن مسافر سمجھ کر اپنے مکان پر رکھ کر مرہم پٹی کی اور ہر قسم کی خبر گیری کی تندرست ہو گیا جب رخصت ہوا تو کہا کہ ہمارا یہ پتہ ہے تم اگر کبھی ہمارے وطن آئے گا ہم بھی تمہاری خدمت کرے گا تم ہمارا محسن ہے ہم کو بڑا آرام پہنچایا ایک عرصہ کے بعد بعض اتفاقات سے ایسا ہوا کہ یہ ہندوستانی اس طرف پہنچ گیا ۔ خیال ہوا کہ یہاں پر ہمارا ایک دوست ہے لاؤ اس سے ملاقات کر لیں تلاش کر کے اس ولائتی کے مکان پر پہنچا وہ ولائتی بڑا خوش ہوا اور ان کو مکان پر بٹھلا کر اور جلدی واپسی کا وعدہ کر کے کہیں چلا گیا گھر والوں نے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں اس نے سب واقعہ بیان کیا کہ میں ان کا دوست ہوں اور ہندوستان سے آیا ہوں اور میں نے اسکی یہ خدمت کی تھی گھر والوں نے کہا کہ تم اگر اپنی خیریت چاہتے ہو تو فورا واپس چلے جاؤ اسی لئے کہ وہ کہا کرتے ہیں کہ اگر کبھی ہمارا ہندوستانی دوست آ گیا تو ہم اس کو اسکے احسان کا بدلہ دے گا اس طرح سے کہ اس کو زخمی کر کے پھر اس کا علاج کرائے گا ھل جزاء الاحسان الا الاحسان تاکہ احسان کا بدلہ ہو سکے یہ سن کر بے چارا بھاگا ۔ سو ان مضامین کا اظہار کر کے ان کو رد کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا اس ولائتی کا زخمی کر کے علاج کرانا مناظرین کو یہ طرز چھوڑ دینا چاہئے یہ طرز خطرہ سے خالی نہیں

( ملفوظ 422 )حقوق مدرسہ اور حقوق مدرسین جمع فرمانا :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں ہمیشہ اس کی رعایت رکھتا ہوں کہ اہل علم پر کسی کی حکومت نہ ہو ۔ میں جب مدرسہ کانپور میں تھا وہاں ایک رجسٹر مدرسین کی حاضری کا تھا وہ مدرسہ کے کسی کارکن کے سپرد نہ تھا محض مدرسین کی دیانت پر ایک خاص موقع پر رکھ دیا گیا تھا کہ وہ مدرسہ میں اپنے آنے کا وقت اس میں خود لکھ دیا کریں ۔ میں نے محض اس خیال سے ایسا کیا تھا کہ ان پر کسی کی حکومت کرنا ان کے حقوق عظمت کے خلاف تھا اور مدرسہ کی رقم زائد دے دینا مدرسہ کے حقوق دیانت کے خلاف تھا اور اس معمول سے دونوں کے حقوق کا تحفظ ہو گیا مہینہ کے ختم پر منٹ تک جمع کر کے ان کی تنخواہ سے وضع کر لیا جاتا تھا اور میں خود بھی بلا واسطہ یا بواسطہ اہل علم پر حکومت کرنا پسند نہیں کرتا ۔