ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل علم سے تعجب ہے کہ وہ بھی اس طریق سے نا واقف ہیں اہل علم اور طلباء کو سخت ضرورت ہے اس فن کے جاننے کی اور ان کی واقفیت کی وجہ سے جاہلوں اور نا اہلوں کو موقع مل گیا مخلوق کے گمراہ کرنے کا اور دوسروں کی فکر اور اصلاح تو بعد میں رہی مگر ان اہل علم کو اپنی خیر تومنانی چاہئے نہ جاننے کی وجہ سے خود انسان بہت غلطیوں میں مبتلا رہتا ہے درسی کتابوں کے پڑھنے میں تو دس برس صرف کردیں گے مگر ( اصلاح باطن کیلئے ) چھ ماہ بھی صرف کرنا مشکل ہے اور بعض تونحو صرف ہی میں تمام عمر صرف کردیتے ہیں مگرمحو کے واسطے ایک منٹ اور ایک سیکنڈ بھی صرف کرنا موت ہے معلوم بھی ہے کہ اس طریق کی حقیقت ہے کیا اسی حقیقت کے حاصل کو فرماتے ہیں
یک چشم زون غافل ازاں شاہ نباشی شاید کہ نگا ہے کند آگاہ نباشی
( ایک پل کےلئے بھی اوس شاہ سے غافل مت ہو شاید کسی وقت نظرعنایت کرے اور بوجہ غفلت کے تم کو خبربھی نہ ہو ۔ )
اوراگر اعتقاد سے نہیں کرسکتے تو بطور امتحان دیکھو اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
سالہا تو سنگ بودی دلخراش آزموں رایک زمانے خاک باش
( برسوں تک پتھر رہ چکا ، آزمائش ہی کے طور پرچندہ روز خاکساری اختیار کرکے بھی دیکھ لو،)
مگر شرط اس کی رفع موانع ہے اسی کو فرماتے ہیں
جملہ اوراق وکتب درنار کن (یعنی کتب مانعہ ) سینہ را از نور حق گلزار کن ،
( جوعلوم طریق حق میں مانع ہیں ان کو آگ لگادو ، اور سینہ کو نورحق سے گلزاربنالو ۔ 12)
اور اسی کو فرماتے ہیں چند خوانی حکمت یونیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں
( یونانیوں کی حمکت کب تک پڑھوگے ایمان والوں کی حکمت بھی پڑدیکھو ۔12)
مگر یہ بدوں کسی کامل کی صحبت کے پیدا ہونا مشکل ہے کسی کی جوتیاں سیدھی کرو اسی کو فرماتے ہیں
بے عنایات حق وخاصاں حق گر ملک باشد سیہ ہستتش ورق
( حق تعالٰی اور ان کے خاص بندوں کی عنایتوں کے بغیر اگر فرشتہ بھی ہے تو اس کا بھی نامہ اعمال سیاہ ہے ۔ 12)
جس کسی اہل محبت اختیار کرو اور اپنا کچا چٹھا اس کے سامنے رکھ دو وہ تم کو منزل مقصود پرلے جائیگا اور دشوار گھاٹیوں سے نہایت آسانی اور سہولت سے نکال لے جائے گا اسی صحبت کو مولانا فرماتے ہیں
قال رابگذراو مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
( قال کو چھوڑ کرمرد حال بن جاؤ، اور کسی مرد کامل کے آگے پامالی ہوجاؤ۔ 12)
باقی بدون راہبر کے اس طریق میں رکھنا سخت خطرہ ہے بڑی ہی نازک راہ ہے اسی کومولانا فرماتے ہیں
یا ر باید راہ راتنہا مرد بے قلاؤ زاندریں صحرا مرد
( راہ سلوک کے لئے رہبرکی ضرورت ہے ، بغیر رہبر کے اس جنگل میں تنہا مت جاؤ ۔ 12)
مگر یہ نہ سمجھا جائے کہ سب کچھ وہی کرے گا یہ بھی آج کل عام غلطی ہورہی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ تم کو تدابیر بتلائے گا اس لیے کہ وہ اس راہ کا واقف ہے وہ اس کو طے کرچکا ہے باقی کا م تم کوہی کرنا پڑے گا اوروہ کام اگرنفس کوشاق معلوم ہوتو اس کا سبب محبت کی کمی ہے ورنہ محبت وہ چیز ہے کہ بڑے سے بڑے مشکل کام کو آسان کردیتی ہے اور یہ سب دشواریاں ہم کو نظر آرہی ہیں وہ نہ ان کے نزدیک کون مشکل ہے پس اپنی قوت کو مت دیکھو ہم ان کے کرم پرنظر کرو پھر خود ہمت قوی ہوجائے گی اسی کو مولانا فرماتے ہیں
تو مگو مارا بداں باز نیست باکریماں کارہا دشوار نیست
( تم یہ مت کہو کہ اس شاہ تک رسائی نہیں ہوسکتی ( وہ کریم ہیں اور) کریموں کے لئے کام مشکل نہیں ہے ۔ ( وہ خود اپنی طرح کھینچ لیں گے ۔ 12)
خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے کرنے کا جو کام ہے وہ ہم کریں اور جوان کے کرنے کا ہے وہ کریں گے اور وہ تو کریم ہیں وہ کیوں نہ کریں گے مگر طلب بھی شرط عادی ہے ورنہ سب وہی بنادیں گے خود کرنے پر یا د آٰیا کہ ایک بزرگ سے کسی نے اولاد نہ ہونیکی شکایت کی اور گنڈا مانگا بذرگ نے کہا کہ گنڈا میں دیتا ہوں مگر پیرجی کے گنڈے ہی پرمت رہنا کچھ کمر کا زور بھی لگانا تو صاحب کم ازکم طلب صادق اور خلوص توہو بدوںن اس کے کام بننا مشکل ہے ۔
