ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ علماء کے مروجہ اخلاق نے عوام کے دماغ خراب کردیئے اب میں تنہا کہاں اصلاح کروں اورکسی جگہ توروک ٹوک بھی نہیں کی جاتی نہ غلطیوں اور بدتمیزیوں پرمتنبہ کیا جاتا ہے لوگ یہاں پرآکر دنیا سے نرالا طرز دیکھتے ہیں یہ ہی وجہ یہاں سے ان کی وحشت کی ہے اگر سب یہ ہی اصول اختیار کریں تو بہت جلد لوگوں کی اصلاح ہوجائے مگر وہ کریں ہی کیوں اور ان کو ضرورت ہی کیا پڑی ان کی مصالح وہمیہ میں خلل پڑتا ہے نہایت ہی گڑبڑ ہورہی ہے مقتداؤں اور پیشواؤں کے ڈھیلے پن نے عوام کا توناس ہی کردیا ۔
