(ملفوظ 13)علماء کو مجاہدہ کم کیوں کرنا ہڑتا ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدوں صحبت کامل اور مجاہدہ کے کام نہیں بن سکتا اس حکم کے عموم پر ایک شبہ یہ ہوسکتا ہے جو مشاہدہ ہے کہ علماء کو مجاہدہ کم کرنا پڑتا ہے اور وہ مقصود میں جلد کامیاب ہوجاتے ہیں اس کے متعلق میں نے ایک بزرگ سے پوچھا تھا کہ یہ کیا بات ہے علماء کو سلوک میں بہت کم مجاہدہ کرنا پڑتا ہے ان بزرگ نے نہایت ہی اچھا جواب دیا کہ یہ سب سے زیادہ مجاہدہ کرتے ہیں یہ طالب علمی مجاہدہ ہی تو ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ جس دیا سلائی کو برسوں دھوپ دے چکے ہوں وہ ذرا گرمی پاتے ہی روشن ہوجائے گی اورجس نے ہمیشہ نمی ہی دیکھی ہو اور دھوپ سے واسطہ ہی نہ پڑا ہو وہ بڑی ہی وقت سے جلے گی حضرت سلطان نظام الدین قدس سرہ کے پاس ایک شخص آیا آپ نے مختصر سا کام لیا اور خلافت دے کر رخصت کردیا اس پراہل خانقاہ کو
بڑا رشک ہوا کہ ہم تو برسوں سے پڑے ہیں اب تک کچھ بھی نہ ہوا اور یہ شخص ابھی آیا اور سب کچھ ہوکر چل دیا اس پر سلطان جہ مطلع ہوئے یہ حضرات بڑے ظرف والے ہوتے ہیں وقت کوٹال کر ایک روز فرمایا کہ بھائی جنگل سے کچھ سوکھی لکڑیاں لاو اور کچھ گیلی خدام لے آئے فرمایا کہ دونوں میں آگ لگا دو جو لکڑیاں سوکھی تھیں فورا جلنے لگیں جو گیلی تھیں وہ باوجود کو شش کے نہ جلیں شیخ کو اطلاع کی گئی کہ گیلی لکڑیاں نہیں جلتیں فرمایا کہ میرا کیا قصور ہے کہ میں تم کو نہ روشن کرسکا اور ایک دن کے آئے ہوئے شخص کو روشن کردیا بات یہ ہے کہ وہ سوکھا سکھایا آیا تھا محض دیا سلائی کھینچ کرلگا دینے کی ضرورت تھی اور تم گیلے ہوپھر کیسے آگ پکڑ سکتے ہو واقع ہی کام کی بات ہے غرض کہ جو کام کررہے ہو اس کو بیکار نہ سمجھو اسی کی برکت سے ان شاءاللہ تعالی ایک روز مراد تک پہنچ جاو گے ۔