ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ ایک آوارہ لڑکے کے متعلق اس کے والدہ کو میں نے مشورہ دیا ہے کہ اس کو بزرگوں کے حالات کی کتاب نزہتہ البسا تین پڑھنے کودے دی جائے اولیاءاللہ کے تذکرہ میں بڑی برکت ہوتی ہے اور میں نے یہ بھی کہدیا ہے کہ جو حکایت سمجھ میں نہ آوے اس کوچھوڑ دیا جاوے اس میں خوض نہ کیا جاوے اس میں خوض نہ کیا جاوے اس لئے کہ اس میں بعض حکایت ایسی ہیں کہ ظاہر نظر میں انکا مضمون شریعت معلوم ہوتا ہے پھر اس مشورہ کے متعلق یہ فرمایا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ مشقت نہ ہو اور اصلاح ہوجائے اوریہ طریقہ بزرگوں کی حکایتوں کے دیکھنے سے حاصل ہوجاتا ہے کہ ظاہر میں کوئی خاص مجاہدہ نہیں اوراندراندرسب کچھ اثر ہورہاہے فرمایا کہ مقبولین کے حالات دیکھنے اور پڑھنے کے بارہ میں حق تعالی بھی اپنے کلام پاک میں فرماتے ہیں وکلا نقص علیک من انباء الرسل مانشبت ید فوادک یعنی ہم آپ سے انبیاء کے ایسے قصے بیان کرتے ہیں جس سے آپ کے دل کو مضبوطی دیں فرمایا کہ نزہتہ البساطین میں ایک ہزار سے زیادہ حکایات ہیں تو جہاں ایک ہزار نشتر لگیں گے کہاں تک مادہ فاسد نہ نکلے گا ۔
