( ملفوظ 283)امتیوں کی محبت حضور کی محبت کا نتیجہ ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک انگریز مصنف کا قول ہے کہ کسی امتی کو اپنے نبی سے اتنی محبت نہیں ـ جس قدر مسلمانوں کو اپنے رسول سے محبت ہے ـ واقعی بدون محبت کے کچھ نہیں ہوتا ـ بڑی چیز محبت ہے گو ظاہرا ادب و تعظیم بھی زیادہ نہ ہو مگر محبت ہو اس سے سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے ـ وجہ یہ ہے کہ میں محب اپنے محبوب کے خلاف نہیں کر سکتا اور ظاہر ہے کہ اتباع کتنی بڑی چیز ہے آجکل لوگ ادب و تعظیم کو بڑی چیز خیال کرتے ہیں ـ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی کے تو کرشمے ہیں کہ حضور کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو جو قتل کیا ہے وہ محبین ہی نے کیا ـ کسی خشک مولوی صاحب نے نہیں کیا ـ زیادہ جاہلوں ہی نے کیا ہے جن کے دل میں کامل محبت تھی اور دیکھا تو یہی گیا ہے کہ مسلمان اگر فاسق فاجر بھی ہے اس کے دل میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت رچی ہوئی ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کوئی شخص تنخواہ دے کر بھی اس درجہ کا جان نثار نہیں بنا سکتا ـ فرمایا کہ تنخواہ کیا چیز ہے ـ حضور نے تو وہ چیز دی ہے جو دوسرا دے ہی نہیں سکتا ـ آپ ہی کی بدولت ایمان ملا ـ جنت ملی اور حضور کی محبت کی زیادہ درجہ یہ ہے کہ خود حضور ہی کو امت سے بہت زیادہ محبت تھی ـ یہی ترتیب محبت کی شیخ اور طالب میں ہے ـ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کو شیخ سے محبت ہو وہ ناز نہ کرے کہ یہ ہمارا کمال ہے ـ نہیں بلکہ اول شیخ ہی کو تم سے محبت ہوتی ہے ـ البتہ لون و ( رنگ ) محبت کا جدا جدا ہے جس کو مولانا رومی نے ایک خاص عنوان سے ظاہر فرمایا ہے ـ
عشق معشوقان نہان ست دستیر عشق عاشق با و صد طبل ونفیر
( محبوبوں کو جو محبت عاشق سے ہوتی ہے وہ تو پوشیدہ ہوتی ہے ـ اور عاشق کی محبت ( بوجہ آہ فغاں کے ) ظاہر ہوتی ہے ـ )
ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ اپنے ایک مرید سے دریافت فرمایا کہ ہمیں تم سے محبت ہے ـ یا تم کو ہم سے محبت ہے ـ عرض کیا کہ حضرت مجھ کو زیادہ محبت ہے ـ بزرگ خاموش ہو گئے ـ مگر اس کی طرف سے توجہ ہٹالی ـ لہذا مرید کو جو ایک خاص گرویدگی تھی اور ہر وقت پاس رہتا تھا ـ اب یہ ہوا کہ آنے کی بھی توفیق نہ رہی ـ پھر ان بزرگ نے توجہ کی تو وہ آگئے ـ دریافت فرمایا کہ بولو تم کو زیادہ محبت تھی یا ہم کو ـ بہت شرمندہ ہوا ـ سو اگر کسی کی طرف اللہ کا مقبول بندہ متوجہ ہو جائے ـ بڑی نعمت ہے ، بڑ دولت ہے کیونکہ ان کو کسی کی خوشامند کرنا نہیں ـ اس کو کسی کی ضرورت نہیں ـ پھر بھی اگر توجہ کریں تو حق تعالی کا فضل ہی سمجھنا چاہئے ـ اپنا کمال ہرگز نہ سمجھے ـ
17 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم سہ شنبہ