فرمایا کہ آج کل ایک اور فتنہ شروع ہورہا ہے وہ یہ کہ اس پرزور دیا جارہا ہے کہ خطبہ اردو میں ہونا چاہئے یہ دو طبقے تو بالکل آزاد ہوگئے ہیں ایک نیچری اور ایک جاہل صوفی ان دونوں میں احکام سے بالکل ہی آزادی ہوگئی ہے خطبہ کے متعلق ایک رسالہ مولوی محمد شفیع صاحب نے لکھا ہے اس کا نام ہے الا عجوبہ فی خطبۃ العروبہ ، عروبہ کو جمعہ کہتے ہیں میں نے لکھ دیا ہے کہ یہ نام بہت فصیح تو نہیں ہے بھدا بھی نہیں اگر پسند نہ ہو تو اور جو پسند ہو اورجی چاہے وہ ہی رکھ لیں اس مسئلہ کے متعلق ایک نہایت عجیب استدلال سمجھ میں آیا وہ بھی اس رسالہ میں لکھ دیا ہے اوروہ استدلال حنفی کے لئے ہے وہ یہ کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ الحمد للہ کہنے سے خطبہ ادا ہوجائے گا اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ ذکر ہے تذکیر ( احکام پہنچانا ) نہیں اور دوسری زبان میں پڑھنے کا مشورہ دینے والے زیادہ تراسی سے استدلال کرتے ہیں کہ عربی زبان کو مخاطبین سمجھتے نہیں پھرکیا فائدہ اس کا جواب ظاہر ہوگیا کہ جب وہ تذکیر نہیں تو سمجھنے کی ضرورت نہیں اس استدلال کے ہوتے ہوئے ہم کو کسی اوراستدلال کی ضرورت بھی نہ تھی اس کے قبل یہ میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا تھا اور اس کا ذکر ہونا خود قرآن شریف سے ثابت ہے کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں فاسعوا الٰی ذکراللہ وذروا البیع ، اس کو ذکر فرمایا ہے ذکری بمعنی تذکیر نہیں فرمایا جیسے قرآن مجید کے متعلق فرمایا ہے وما ھوالا ذکریٰ للعلمیں پس خطبہ امر تعبدی ہے جیسے نماز میں قرآت اس میں قیاس کا کچھ دخل نہیں اس لیے اس میں قیاس بھی نہیں چلتا کہ مقصود اس سے تفہیم ہے سویہ مقصود جس طرح حاصل ہوجاوے اور فقہاء نے جو خطبہ کے متعلق لکھ دیا ہے کہ اس میں احکام کی تعلیم کی جاوے وہ حکمت ہے علت نہیں خود عید کے متعلق روایات میں تصریح ہے کہ زائد مقصود کے لیے آپ نے ممبر سے نزول فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ خطبہ کا معاملہ نہیں فرمایا ۔
