( ملفوظ 534)وو جدک ضالا فھدی کا ترجمہ

ارشاد فرمایا کہ ایک صاحب نے مجھ سے درخواست کی کہ وو جدک ضالا فھدی کا لفظی ترجمہ کر دو پھر سوال کروں گا وہ سمجھے تھے کہ یہ ضال کا ترجمہ گمراہ کریں گے ـ اور میں اعتراض کروں گا میں نے ترجمہ یہ کیا کہ پایا آپ کو آپ کے رب نے ناواقف پس واقف بنا دیا ـ اس ترجمے سے ان کے سب اعتراض پادر ہوا ہو گئے اور حقیقت میں لفظ ضال محاورہ عرب میں عام ہے ـ مگر اردو میں اکثر استعمال اس کا معنی اول میں ہے اس لئے ہماری زبان کے اعتبار سے ترجمہ گمراہ منشا اشکال ہوتا ہے ـ