ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب ہم لوگوں کو فراغ کے بعد مدرسہ سے سند ودستار ملنے کی تجویذ تھی ایک مرتبہ میں نے اورفارغ طالبعلموں نے حضرت مولانا یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت یہ معلوم ہوا کہ ہم لوگوں کو مدرسہ سے سند مل رہی ہے مگرہم اپنے کو اس کا اہل نہیں سمجھتے اس لئے اگر یہ موقوف کردیاجائے تو بہتر ہے ورنہ مدرسہ کی بدنامی ہے مولانا کو جوش آگیا فرمایا کہ کون کہتا ہے کہ اہلیت نہیں ہے اپنے اساتذہ کے سامنے ایسا ہی سمجھنا چاہئے ورنہ خدا کی قسم جہاں جاؤ گے تم ہی ہوگے پھر فرمایا کہ میں تواضع سے نہیں کہتا واقعہ ہے کہ علمی لیاقت کبھی حاصل ہی نہیں ہوئی مگر اپنے بزرگوں کی دعا کی برکت سے عمر بھرکہیں شرمندگی نہیں ہوئی حضرت مولانا پراس وقت ایک خاص حالت تھی نہایت ہی وثوق سے فرمایا تھا سوالحمد اللہ ساری عمربھی کبھی شرمندگی نہیں ہوئی نہ وعظ میں نہ مناظرہ میں نہ درس میں اللہ تعالٰی نے ہمیشہ غالب ہی رکھا مگر اس کے ساتھ ہی میری یہ طبعی حالت تھی اور میں اس کوبے تکلف کہہ سکتا ہوں کہ میں نے دینی طبقاط میں سے کسی کو ناراض نہیں کیا نہ علماء کو نہ مشائخ کو اگر ان سے ان کی رائے کے خلاف گفتگو بھی ہوئی تو اس طرح سے کہ ہوب کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس سے وہ بھی محبت کے ساتھ پیش آئے خلاصہ یہ ہے کہ دعا ئیں بہت لیں کسی قسم کے بزرگ ہوں کسی کو ناراض نہیں کیا ۔
