ایک مہمان نے اس واقعہ کے متعلق استفسار کیا کہ بروقت وصال حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے دوات قلم مانگا اور عمر نے کہا کہ کیا ضرور بجواب اس کے ارشاد فرمایا کہ یہ اعتراض صرف حضرت عمر پر نہیں بلکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حق کا اعتراض لازم آتا ہے آپ پر تبلیغ احکام فرض تھی اگر کوئی حکم واجب تھا تو آپ نے کیوں نہ ظاہر فرمایا اگر اس وقت دوات قلم نہیں آئی تھی تو دوسرے وقت منگوا کر تحریر فرما دیتے ـ کیونکہ آپ کئی روز اس واقعہ کے بعد زندہ رہے ہیں چناچہ یہ واقعہ پنجشنبہ کا ہے اور وفات دہ شنبہ کو ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ حضور کو کوئی نیا حکم ارشاد فرمانا نہ تھا بلکہ کسی امر قدیم کی جدید و تاکید تھی چونکہ حضرت عمر سمجھ گئے اس لئے آپ نے گوارا نہ کیا فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف فرمائیں ـ اس کی ایسی مثال ہے کہ طبیب کسی کو زبانی نسخہ بتلا دے پھر براہ شفقت کہے کہ قلم دوات لاؤ لکھ دوں اور مریض یہ دیکھکر کہ اس وقت ان کو تکلیف ہو گی کہے کہ کیا حاجت ہے اس وقت تکلیف مت دو اور جواب الزامی یہ ہے کہ قصہ حدیبیہ میں حضرت علی نے صلح نامہ لکھا ہے ـ ھذا اما قاضی علیہ محمد رسول اللہ کفار نے مزاحمت کی کہ ابن عبداللہ لکھو کیونکہ اس میں تو جھگڑا ہے اگر ہم رسالت تسلم کر لیں تو نزاع ہی کس بات کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے فرمایا کہ اس کو مٹا دو انہوں نے انکار فرمایا پس ایسی مخالفت تو اس میں بھی ہوئی جس طرح حضرت عمر نے مخالفت کی تھی کہ جواب الزامی مجھے پسند نہیں مگر بطور لطیفہ کے اس وقت بیان کر دیا ـ
