(ملفوظ2) وساوس کی طرف التفات کرنے کی مثال :

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ وساوس کی طرف التفات اور توجہ کرنا ہی مضر ہے اس کی مثال بجلی کے تار کی سی ہے بجلی کے تار کو ہاتھ لگانا چاہئے خواہ جزبا (پکڑنے کے لئے ) ہو یا دفعا ہو (الگ کرنے کے لئے ) ہروہ صورت میں لپٹے ہی گاہاں اس کی ایک صورت ہے وہ یہ کہ درمیان میں کوئی ایسی چیز حائل ہوجائے کہ بجلی کو دور کردے جسے لکڑی کے حائل ہونے سے اثر نہیں کرتی یہ ایک تدبیر نافع ہے اسی طرح یہاں بھی ایسی چیز کی ضرورت ہے اس کی صور ت یہ ہے کہ وساوس کے دفع کی طرف تو توجہ نہ ہو بلکہ یہ کرے کہ مثلا قرآت کے وقت اس کے الفاظ کی طرف متوجہ رہے اس طرح سے کہ الحمد للہ رب العلمین کے بعد الرحمن الرحیم ہے اس کے بعد مالک یوم الدین ہے چند روز تو اس صورت میں تعجب ہوگا مگر پھر سہولت سے عادت ہوجانے پر تعجب بھی نہ ہوگا مگر یہ سب باتیں کرنے سے تعلق رکھتی ہیں محض زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوتا اور نہ ہاتھ لگتا ہے یہ زبانی جمع خرچ ایسا ہے جیسے ایک مہاجن مفلس تھا مزاحا فرمایا کہ میں ان کو مہاجن کہا کرتا ہوں بیٹھا ہوا کارخانہ کا حساب کررہا تھا ایک مہزب سائل آیا خاموش کھڑا رہا اس خیال سے کہ اس وقت سیٹھ جی حساب میں مشغول ہیں فارغ ہونے پر سوال کرونگا دیرتک کھڑا ہوا حساب کے الفاظ سنتارہا دوا اور دو چار اور چھ دس دس کا صفر حاصل ہوا ایک دس اور دوبارہ بارہ کے دو ہاتھ لگا ایک غرض کہ کہیں حاصل اور کہیں ہاتھ وہ سائل گنتا یا پانچ ہوئے دس ہوئے بچاس ہوئے سو ہوئے اب سائل خوش تھا کہ یہ تو اقراری مجرم ہے یعنی تمول کا اقراری ہے ٹھہر کر وصول کروں گا دینے سے عذر کرہی نہیں سکتا اب لالہ جی حساب سے فارغ ہوکر بیٹھے تو سائل نے کہا سیٹھ جی میں حاجت مند ہوں مجھے بھی کچھ دلوایئے لالہ جی بولے کہ میاں میرے پاس کیا رکھا ہے اس نے کہا کہ کیوں جھوٹ بولتے ہو خود میرے ہی سامنے سینکڑوں ہزاروں حاصل ہوئے اور ہزاروں ہاتھ لگے دو گھنٹہ سے تو میں کھڑا ہوا سن رہا ہوں اور برابر جوڑتا رہا ہوں کئی سو بلکہ کئی ہزار تک نوبت پہنچ چکی ہے اس اقرار کے بعد جھوٹ کہ میرے پاس کو ایک پیسہ بھی نہیں لالہ جی نے کہا کہ میاں مجھ کو جوحاصل ہوا اور ہاتھ لگے وہ لفظوں ہی میں حاصل ہوا حقیقت میں نہ کچھ حاصل ہو ااور نہ ہاتھ لگے تو حضرت نرے زبانی جمع خرچ سے نہ کچھ حاصل ہوگا اور نہ کچھ ہاتھ لگے گل اس سے کام نہیں چل سکتا کام چلتا ہے کام کرنے سے کام کرو سب دشواریاں آسان ہوجائیں گی وساوس کے زیادہ ہجوم کاسبب بے فکری ہے کسی خام (کچے ) یا دوالے حافظ سے جورمضان شریف میں قرآن شریف تراویح میں سناتا ہو اور بولنے کے خوف سے سوچ سوچ کر یڑھ ریا ہو دریافت کرو کہ تجھ کو بھی قرات کے وقت کوئی وسوسہ آتا ہے یا نہیں وہ یہی کہے گا کہ تم وساوس لیے پھرتے ہو یہاں اپنی بھی خبر نہیں رہتی بجزکلام پاک کے کہ اس میں غرق ہوجاتا ہوں کہیں متشابہ نہ لگ جاوے توزیادہ سبب وساوس کا بے فکری ہے ۔