ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جو چیزیں غیر اختیاری ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہیں اس لئے کہ انسان غیر اختیاری کا مکلف نہیں مثلا نماز میں موضع سجود کے سوا دوسری چیزوں کے دیکھنے کی ممانعت ہے مگر ماحول میں جو چیزیں ہیں وہ بلا اختیار نظر آتی ہیں وہ محل خشوع نہیں گو ان کا انکشاف ضرور ہوتا ہے مگر بلا قصد ہوتا ہے اس لئے مضر نہیں یہی حکم ہے وساوس غیر اختیاری کا اگر دفع نہ ہو قلق نہ کرے پھر دفع کی تدبیروں کے متعلق تقریر کی اس میں حضرت حاجی صاحب کا ارشاد نقل کیا فرماتے تھے کہ اگر وساوس کا ہجوم ہو اور کسی طرح بند ہی نہ ہوں اس وقت یہ مراقبہ کرے کہ حق تعالی کی کیا قدرت ہے کہ دل میں کیسی کیسی چیزیں پیدا فرما دیں ہیں کہ دریا کی طرح امنڈ رہی ہیں روکے نہیں رکتی بس اس مراقبہ سے وہ سب وساوس مراۃ جمال الہی ہو جائیں گے واقعی عجیب بات فرمائی الہ بعد کو الہ قرب بنا دیا واقعی حضرت اس فن کے امام تھے اور عجیب یہ کہ درسیات کی بھی تحصیل نہ فرمائی تھی چنانچہ حضرت حاجی صاحب خود فرمایا کرتے تھے کہ میں ناخواندہ ہوں اور جو کچھ میں بیان کرتا ہوں یہ واردات ہیں اگر یہ کتاب و سنت کے خلاف ہوں عمل نہ کرنا اور مجھ کو بھی اطلاع کر دینا میں بھی توبہ کر لوں گا اگر اطلاع نہ کرو گے تو تمام بوجھ تم پر ہو گا میں بری رہوں گا ۔
