( ملفوظ 276) وصول میں تاخیر حکمت کی بنا پر ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں حضرت حاجی صاحب کے پاس سے تازہ آیا ہوا تھا ـ طبیعت میں شورش بہت تھی ـ جی چاہتا تھا کہ جو کچھ ہونا ہو ـ یک دم ہو جائے ـ ایک بار اسی غلبہ میں چند مقدمات ذہن میں جمع ہو کر ایک سوال پیدا ہوا کہ ایک مقدمہ یہ تھا کہ کامل درجہ کی نہ سہی مگر پھر بھی اپنی استعداد کے موافق طالب میں طلب بھی ہے ـ اور دوسرا یہ کہ اس طلب کا ان کو علم بھی ہے ـ تیسرے یہ کہ وہ قادر بھی ہے ـ چوتھا یہ کہ وہ رحم بھی ہے مگر باوجود ان دواعی کے اجتماع کے پھر وصول الی المقصود میں دیر کیوں ہوتی ہے ـ جب اشکال زیادہ بڑھا میں نے مثنوی کھولی تو اس میں یہ اشعار نکلے ـ چار می جوید پے من درد تو ( اس میں طلب کا ذکر ہے ) میثوم دم و دش آہ سرد تو ( اس میں علم کا اثبات ہے ) می توانم نہم کہ بے ایں انتظار رہ نمایم وادہم راہ گذار ( اس میں قدرت کا ذکر ہے ) تا ازیں طوفان دوران وار ہی بر سر گنج و صالم پا نہی ( اس میں لطف و رحمت کا بیان ہے ان سب مقدمات کے بعد یہ شعر ہے
لیک شیر ینی ولذت مقر ہست براندازہ رنج سفر
آنگہ از فرزند و خویشاں بر خوری کز غریبی رنج و محنت ہابری