( ملفوظ 432)یہاں بزرگی نہیں ہوتی انسانیت سکھائی جاتی ہے

ایک صاحب کی غلطی پرتنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ بے تکلفی تو مطلوب ہے مگر بدتمیزی اور بدتہذیبی بری چیز ہے بے تکلفی سے تو محبت بڑھتی ہے اور بدتمیزی اور بدتہذیبی سے کدورت اور انقباض ہوتا ہے میں جانتا ہوں کہ جان کر کوئی اذیت نہیں پہنچاتا مگر قلت مبالات بے فکری اذیت کا سبب ہو جاتا ہے اسی کی شکایت ہے اور ان رسوم تکلیف کے بانی امراء ہیں انہوں نے ایسے ایسے برے طریقے ایجاد کئے ہیں جنکا منشاء خالص کبر ہے مثلا نوکر سامنے نہیں بیٹھ سکتا جس درجہ میں خود ہوں اس میں نہیں رہ سکتا جس وقت گھنٹی ہو اس وقت آو اچھی خاصی فرعونیت ہے غرض اعتدال نہیں اگر ادب ہے تو تکلیف کے درجہ تک اور بے تکلفی ہے تو بدتمیزی کی حد تک آدمی کو چاہئے کہ آدمیت سیکھے بزرگ بننا تو آسان ہے مگر انسان بننا بڑا مشکل ہے میرے یہاں آدمیت کی تعلیم ہوتی ہے اگر کسی کو یہ پسند ہو یہاں پر آئے ورنہ جہاں بزرگی تقسیم ہوتی ہے وہاں جائے بلانے کون جاتا ہے اور جب خود آتے ہو تو جو یہاں کے اصول اور تعلیم ہے اس پر کاربند ہونا پڑیگا ـ