ملفوظ( 175)زیادہ غلطیاں فکر کی کمی سے ہوتی ہیں فہم کی کمی سے نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں اس پر قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ فہم کی کمی سے غلطیاں بہت کم ہوتی ہیں زیادہ فکر کی کمی سے ہوتی ہیں اور فکر ہوتے ہوئے اگر فہم کی کمی بھی ہو اس سے غلطیاں عدد میں بھی کم ہوتی ہیں اور کیفا بھی کم ہوتی ہیں مگر فکر و غور سے کام نہیں لیتے اس سبب سے غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اگر فکر ہو تو سمجھ میں نہ آنے پر دوسرے سے پوچھے گا کہانتک غلطی ہوگی چونکہ فکر اور توجہ سے کام نہیں لیتے اس لئے مجھ کو زیادہ غصہ آتا ہے اور فکر کی کمی کا سبب طلب کی کمی ہے چناچہ خدا کی اتنی بھی طلب نہیں کہ جتنی کسی رنڈی پر یا لڑکے پر عاشق ہوجانے پر اس کی طلب پے پھر شیخ کی تعلم کا کیا خاک اثر ہو خدا سے صحیح اور قومی تعلق پیدا کرنا چاہئے اور وہ بدون اس کے فکر کے ساتھ اعمال میں احوال میں باطنا بھی ظاہرا بھی شریعت کا پورا اتباع ہو ہی نہیں سکتا ـ