ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ذہانت بھی عجیب چیز ہے بڑی دولت ہے مگر اس میں برکت جب ہی ہوتی ہے کہ یہ سمجھے کہ میں ذہین نہیں ہوں ورنہ برکت نہ ہو گی پھر ذہانت کا یہ قصہ نقل کیا گیا کہ ایک تبرائی شیعی کو جس وقت وہ علانیہ تبرا کر رہا تھا ایک سنی نے قتل کر دیا مقدمہ دائر ہوا تو حاکم کے سامنے شیعی وکیل نے کہا کہ ہمارے یہاں یہ مذہبی عبادت ہے مذہب میں سب کے لئے آزادی ہونا چاہئے اس لئے قاتل معذور نہیں ، سنی وکیل نے حاکم سے کہا کہ ان کے یہاں یہ عبادت ہے اور ہمارے یہاں ایسے کا قتل کر دینا عبادت ہے یہ اپنی عبادت کریں اور ہم اپنی عبادت کریں دونوں آزاد ہیں آپ مقدمہ خارج کر دیں ہم میں خود فیصلہ ہو رہے گا ۔
