ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ذہانت بھی خدا کی ایک بڑی نعمت ہے مولوی غوث علی صاحب پانی پتی سیاحت میں ایک مقام پرپہنچے وہاں معلوم ہوا کہ ایک شیعی وصیت کر مراہے کہ میرے دونوں بیٹیوں کی شادی حضرت امام مہندی علیہ السلام کے کی جائے اب وہ لڑکیاں بلکل جوان ہیں مگر حضرت امام کے انتظار میں ان کی شادی نہیں کی جاتی مولوی صاحب بڑے ہی دانشمند اور ذہین تھے کہا کہ ظاہرہے کہ حضرت امام تومتبع شریعت ہوں گے وہ دونوں بہنوں کوکیسے جمع کرلیں گے سوایک کا تونکاح کردینا چاہئے چنانچہ ایسا کردیا گیا پھرفرمایا کہ یہ بے انصافی ہے کہ ایک کی شادی ہودوسری کی نہ ہو دوسری کی بھی کردو اور وصیت پراس طرح عمل کیا جاوے کہ ایک یاداشت لکھ کرخاندان میں محفوظ کردو کہ حضرت امام کے وقت میں ان لڑکیوں کی نسل میں جولڑکی ہواس کو حضرت کے نکاح میں دیدیں چنانچہ سب نے پسند کرکے ایسا ہی کیا ۔
