(ملفوظ 192)ظاہر رونق سے طبعی نفرت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس بدفہمی اور بدعقلی کا میرے پاس کیا علاج ہے کہ ہرایک شخص کو اس کے کام سے میرے جلد فارغ کردینے پربھی سمجھتے ہیں کہ یہ روکھا پن ہے کیونکہ زیادہ باتیں کیوں نہیں کیں جس کی وجہ یہ ہے کہ میں کسی سے فضول تعلقات بڑھانا محض مجلس کی وزینت ہے سویہ کام کون کیا کرے بعض طالبان جاہ آنے والوں کے کام میں اس وجہ سے بھی دیرکیا کرتے ہیں کہ تھوڑی دیرمجلس آرائی توہوگی رونق بڑھیگی مگر مجھ کو ان باتوں سے طبعی نفرت ہے ۔ ظاہری رونق نہ ہونے کی حالت میں جوباطنی رونق ہوتی ہے اس سے ان لوگوں کا قلب خالی ہے جب ہی توایسی باتیں سوجھتی ہیں میں توبڑی رونق یہ جانتا ہوں اوریہی چاہتا ہوں کہ ایک دوسرے کوکوئی تکلیف نہ ہو اور یہ مذہب ہو۔
بہشت آنجاکہ آزارے نباشد کسے را با کسے کارے نباشد
( وہی جگہ بہشت سے جہاں کسی کوکسی سے کوئی تکلیف نہ ہو اور کسی کوکسی کی احتیاج نہ ہو)