(ملفوظ 195)ظاہراورباطن دونوں کی ضرورت:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اورفنون توسب مشکل ہیں اورحاصل بھی دیر میں ہوتے ہیں مگریہ آج کل کی بزرگی اورصوفیت اوردرویش تواس سہل ہیں کہ ہلدی لگے نہ پھٹکری کچھ کرنا پڑے نہ دھرنا درویش ہوجاتے ہیں ، جہاں گردن جھکائی اورآنکھیں بند کیں اور کپڑے رنگے لٹیں بڑھائیں یا کفنی پہنی تسبیح ہاتھ میں لی بس درویش ہوگئے شاہ صاحب گائے جانے لگے ۔ غالبا حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ دورویشی دوپیسہ میں ملتی ہے ایک پیسہ کا گیرواورایک پیسہ کی تسبیح لیکردرویش ہوگیا آنکھ بند کرنے اورگردن جھکانے پرایک لطیفہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ مولانا رفیع الدین صاحب
کے مزار پرگئے اسی سفر میں ایک مقام ہے براس مشہور ہے کہ وہاں بعض قبور انبیاء علیھم السلام کی ہیں وہاں بھی تشریف لے گئے چند طلباء بھی ہمراہ تھے منجملہ اوروں کے میں بھی تھا مولانا ان مزاروں پرپہنچ کرمراقب ہوکر بیٹھ گئے بعضے طالب علم بھی حضرت مولانا کے پیچھے گردن جھکا کر آنکھ بند کرکے بیٹھ گئے میں نے ان سے کہا کہ باطن کی تو پہلے ہی سے آنکھیں چھوٹی ہوئی تھی مگرظاہر کی بھی پھوڑبیٹھے بس آج کل یہی ہورہا ہے یہی چیزیں معراج ترقی ہیں باطن کا منکرنہیں لیکن باطن کے ساتھ ظاہرشریعت بھی تو ہو جس کو آج کل کی درویشی میں بیکار قراردے لیا گیا ہے نہ نرے ظاہرہی سے کچھ بنتا ہے نہ نرے باطن سے دونوں کی ضرورت ہے ۔