( ملفوظ 364) ظہور دجال کے وقت طویل دن کی تحقیق

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت دجال کے ظہور کی وقت جو ایک سال کا ایک دن ہو گا کیا حقیقت میں وہ ایک دن ہو گا ـ فرمایا کہ وہ ایک دن نہ ہو گا ـ تین سو ساٹھ ہی دن ہوں گے ـ مگر وہ ابصار میں تصرف کرے گا ـ اس تصرف کی وجہ سے ایک دن معلوم ہو گا ـ اور جہاں اس کا تصرف نہ پہنچے گا وہاں یہ اثرنہ ہوگا ـ یہ تحقیق مشہور نہیں ـ مگر ایک حدیث سے مفہوم ہوتی ہے وہ حدیث یہ ہے ـ فیفتحون قسطنطینیہ فبینا ھم یقتسمون الغنائم اذ صاح فیھم الشیطان ان المسیح قد خلفکم فی اھلیکم فیخرجون و ذالک باطل فاذا جاءوا الشام خرج ۔ رواہ مسلم کذا فی المشکوۃ الفصل الاول من باب الملاحم دیکھئے اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خبر غلط ہوگی مگر اس کے غلط ہونے پرشام پہنچنے تک بھی اس سے استدلال نہ کر سکیں گے کہ دن تو طویل ہوا ہی نہیں ـ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ مستمعین ( سننے والے ) بھی سمجھیں گے کہ اس کا تصرف عام نہ ہوگا تو ممکن ہے کہ خروج کی خبر بھی صحیح ہو مگر ہم اس پر تصرف کا اثر نہ ہوا تو میں نے سنا ہے کہ حضرت مولانا گنگوہی نے یہ تقریر فرمائی تھی ـ