(ملفوظ 106)ظالم کی طرف داری کاعام مرض:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل یہ مرض عام پیدا ہوگیاہے کہ ظالم کی طرف داری کی جاتی ہے اور مظلوم کا کوئی پرساں حال نہیں عوام ہوں یاخواص تقریبا سب کے اندر یہ مرض عام ہوگیا ہے اسی قسم کے خاص خاص واقعات پر عنایت فرماؤں کی جو مجھ پر عنایت ہوئی تھی اس پر میں نے ایک رسالہ لکھا تھا اس کا نام تھا حکایات الشکایات میں نے اس کے خطبہ میں شکایت اور سب وشتم کے متعلق تویہ لکھا تھا کہ
دوست کرتے ہیں شکایت غیر کرتے ہیں گلہ کیا قیامت ہے مجھی کو سب برا کہنے کو ہیں
اور خود واقعات جمع کرنے کے متعلق یہ لکھا تھا
خود گلہ کرتاہوں اپنا تونہ سن غیروں کی بات ہیں یہی کہنے کووہ بھی اورکیا کہنے کو ہیں
تعجب ہے اہل انصاف کے یہاں مجھ کو اس کی بھی اجازت نہیں کہ میں اپنی تکلیف اور اذیتوں کی شکایت ہی کرسکوں اس پر اعتراض کیا جاتا ہے اور موذیوں کوکوئی کچھ نہیں کہتا کیا ٹھکانا ہے اس ظلم کا اور اعانت ظلم کا جوامور طبعی ہیں اور موٹی موٹی باتیں ہیں ان موذیوں کاوہاں تک بھی توذہن نہیں پہنچتا اب کہاں تک اصلاح کی جائے عوام تواسی اصلاح سے اس عذر کی وجہ سے اس لئے مستثنے سمجھ لئے گئے کہ وہ جانتے نہیں بس بے خبری عذر ہے اور خواص اس لئے مستثنے ٰ ہوگئے کہ وہ قابل احترم ہیں ان کی اصلاح خلاف ادب ہے تو اس حساب سے کسی کی اصلاح کی بھی ضرورت نہیں رہی اور اصل بات میں بتلائے دیتا ہوں کہ بدوں کسی کی جوتیاں سیدھی کئےہوئے انسانیت آنہیں سکتی چاہے سب کچھ بن جاؤ اور یہ سب کے نفس پرشاق ہے۔